افغانستان زلزلہ: امدادی کارکنوں کو متاثرین تک پہنچنے میں مشکلات کا سامنا
افغانستان میں گزشتہ دنوں آنے والے زلزلے کے بعد متاثرین کے لیے بڑے پیمانے پر امدادی کارروائیاں جاری ہیں جبکہ راستے بند اور مواصلاتی نظام معطل ہو جانے کے باعث امدادی ٹیموں کو دشوار گزار علاقوں تک رسائی میں مشکلات کا سامنا ہے۔
افغان حکام کے مطابق، اتوار کی رات ملک کے شمال مشرقی علاقوں میں آنے والے 6 شدت کے زلزلے میں کم از کم 1,400 افراد ہلاک اور 3,100 سے زیادہ زخمی ہوگئے ہیں۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) نے کہا ہے کہ گزشتہ روز پہاڑی ضلع غازی آباد میں زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں پہنچنے والی اقوام متحدہ کی ٹیموں نے ملبے تلے دبے لوگوں کو نکالنے کے لیے ہنگامی بنیاد پر مدد پہنچانے کی ضرورت کو واضح کیا ہے۔ علاوہ ازیں، ہلاک ہو جانے والوں کو جلد از جلد دفنانے کی ضرورت ہے اور متاثرہ علاقوں کے لوگ بھی اس ضمن میں فوری مدد کا تقاضا کر رہے ہیں۔
یونیسف کے مطابق، زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافے کا امکان ہے کیونکہ بہت سے دور دراز علاقوں تک امدادی رسائی اب بھی ممکن نہیں ہو سکی جہاں تاخیر سے مدد پہنچنے پر ملبے تلے دبے کئی لوگوں کی زندگی خطرے میں ہے۔
دارالحکومت کابل میں ادارے کے نمائندے سلام الجبانی نے بتایا ہے کہ امدادی ٹیموں کو غازی آباد تک پہنچنے کے لیے دو گھنٹے پیدل چلنا پڑا۔ اس علاقے میں بہت سے دیہات چھ سے سات گھنٹے کی پیدل مسافت جہاں ہیلی کاپٹروں کے ذریعے رسائی بھی ممکن نہیں جبکہ موبائل فون کا نظام بھی خراب ہو گیا ہے۔
طبی خدمات پر دباؤ
اقوام متحدہ نے متاثرہ علاقوں میں 25 جائزہ ٹیمیں بھیجی ہیں اور کابل سے امدادی پروازوں کو بھی بڑھا دیا ہے۔ پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کا ادارہ (یو این ایچ سی آر) کابل میں اپنے امدادی ذخیرے سے ضروری سامان متاثرہ علاقوں میں بھیج رہا ہے جس میں خیمے، کمبل اور شمسی لیمپ شامل ہیں جبکہ ہنگامی پناہ کا سامان، ادویات، پینے کا پانی اور خوراک کو ترجیح امداد میں رکھا گیا ہے۔
الجبانی نے کہا ہے کہ متاثرہ علاقوں تک دوائیں پہنچانا آسان نہیں۔ امدادی کارکن یونیسف کی معاونت سے چلائے جانے والے قریب ترین ہسپتال سے ضروری طبی سازوسامان لے کر متاثرہ علاقوں کی جانب پیدل جا رہے ہیں۔
متاثرہ علاقوں میں طبی خدمات پر بھی بھاری بوجھ آیا ہے۔ غازی آباد کے تباہ شدہ طبی مرکز کا عملہ کھلے آسمان تلے لوگوں کو علاج کی سہولیات مہیا کر رہا ہے۔
انہوں نے بتایا ہے کہ اب بڑی تعداد میں مقامی لوگ بھی امدادی کارروائیوں میں شامل ہونے لگے ہیں اور متاثرہ لوگوں کے لیے کھانا اور پانی پہنچانے میں مدد دے رہے ہیں۔