افغانستان: زلزلے سے تباہی ابتدائی اندازوں سے کہیں زیادہ ہونے کا خدشہ
افغانستان میں آنے والے شدید زلزلے کے بعد ملبے تلے دبے لوگوں کی زندگی بچانے کے لیے امدادی کارروائیاں جاری ہیں جبکہ ہلاکتوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے اور خدشہ ہے کہ تباہی کا حجم ابتدائی اندازوں سے کہیں زیادہ ہو سکتا ہے۔
ملک میں اقوام متحدہ کے امدادی رابطہ کار اندریکا رتواتے نے بتایا ہے کہ زلزلے سے اب تک کم از کم 800 ہلاکتوں کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ 2,000 افراد زخمی ہیں۔ متاثرہ پہاڑی علاقوں میں مٹی اور لکڑی سے بنے گھروں کے باعث بھاری جانی نقصان ہوا ہے۔ زلزلہ رات کے وقت آیا اور اسی لیے بیشتر لوگوں کو بروقت گھروں سے نکلنے اور پناہ حاصل کرنے کا موقع نہ مل سکا۔
انہوں نے بتایا ہے کہ زلزلے میں بڑے پیمانے پر مویشیوں کا نقصان بھی ہوا ہے اور لوگ روزگار سے محروم ہو گئے ہیں۔ لینڈ سلائیڈنگ کے باعث راستے بند ہونے کی وجہ سے ابتدائی 24 گھنٹوں میں تمام متاثرہ علاقوں تک رسائی آسان نہیں تھی لیکن اب متعدد مقامات پر رکاوٹیں دور کر دی گئی ہیں جس سے امدادی سرگرمیوں میں قدرے آسانی پیدا ہوئی ہے۔ کابل سے جلال آباد تک زلزلے سے ہونے والے نقصانات کا درست اندازہ لگانے کے لیے 35 ٹیمیں بھی تعینات کر دی گئی ہیں۔
اقوام متحدہ کی امدادی فضائی سروس نے مددگار عملے اور سامان کو جلد از جلد متاثرہ علاقوں میں پہنچانے کے لیے کابل اور جلال آباد کے درمیان اضافی پروازیں شروع کر دی ہیں۔ اندیکا رتواتے نے یہ بھی بتایا ہے کہ اقوام متحدہ اور امدادی ادارے متاثرہ لوگوں کے ساتھ مواصلاتی رابطہ بحال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بعض علاقوں میں موبائل فون سروس معطل ہو چکی ہے اور کئی دشوار گزار جگہوں پر ہیلی کاپٹر کے ذریعے پہنچنا بھی ممکن نہیں ہے۔
بیماریاں پھیلنے کا خدشہ
رابطہ کار نے زلزلہ متاثرین کو تحفظ مہیا کرنے کی فوری ضرورت پر زور دیا ہے جس میں ان لوگوں کے لیے نفسیاتی و سماجی معاونت بھی شامل ہے جنہوں نے اپنے خاندان کے افراد یا عزیزوں کو کھو دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ لاشوں اور مردہ مویشیوں کی جلد از جلد تدفین اور تلفی بہت ضروری ہے تاکہ آبی ذرائع سے پھیلنے والی بیماریوں کو روکا جا سکے۔
متاثرہ علاقوں میں سب سے پہلے پہنچنے والوں میں افغان ہلال احمر بھی شامل ہے۔ افغانستان میں انٹرنیشنل فیڈریشن آف ریڈ کراس اینڈ ریڈ کریسنٹ سوسائٹیز (آئی ایف آر سی) کے قائم مقام سربراہ جوئے سنگھل نے کہا ہے کہ اگر سڑکوں تک رسائی آسان ہوتی تو مزید جانیں بچائی جا سکتی تھیں۔ امدادی عملے کو بعض اوقات چار سے پانچ گھنٹے پیدل چل کر دور دراز دیہات تک پہنچنا پڑتا ہے۔ یہ لوگ زخمیوں کو اٹھا کر پیدل ہسپتالوں تک لاتے ہیں جہاں پہلے ہی گنجائش ختم ہو چکی ہے۔
بحران در بحران
افغانستان طویل عرصہ سے انسانی بحرانوں کا سامنا کر رہا ہے جہاں ملک کی نصف آبادی یا تقریباً دو کروڑ 25 لاکھ افراد کو زندہ رہنے کے لیے امداد کی ضرورت ہے، جبکہ حالیہ خشک سالی نے خوراک کی قلت کو مزید شدید بنا دیا ہے۔ رواں سال کے آغاز سے امدادی پروگراموں کے لیے مالی وسائل میں بڑے پیمانے پر کٹوتیوں کے باعث ملک میں سیکڑوں امدادی مراکز بند ہو گئے ہیں۔
اندریکا رتواتے نے کہا ہے کہ حالیہ زلزلہ ایسے وقت میں آیا ہے جب کمزور لوگ پہلے ہی شدید دباؤ کا شکار ہیں اور اب ان پر مزید مشکلات آئیں گی۔ پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے (یو این ایچ سی آر) کے ترجمان بابر بلوچ نے بتایا ہے کہ رواں سال ایران اور پاکستان سے 24 لاکھ افغان مہاجرین کی واپسی متوقع ہے جنہیں ملک میں بسانے کے لیے وسائل موجود نہیں ہیں۔
امدادی وسائل کی قلت
بابر بلوچ نے کہا ہے کہ دونوں ممالک سے واپس آنے والے مہاجرین کی بیشتر تعداد انہی علاقوں کا رخ کر رہی ہے جو زلزلے سے متاثر ہوئے ہیں۔ پاکستان کی جانب سے افغان مہاجرین کو ملک چھوڑنے کے لیے دی گئی مہلت گزشتہ روز ختم ہو گئی ہے جس کے بعد 'یو این ایچ سی آر' ان لوگوں کو افغانستان میں وصول کرنے کے لیے تیار ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ واپس آنے والے مہاجرین کے پاس وسائل پہلے ہی محدود ہیں اور اب وہ ایسے علاقے میں جا رہے ہیں جو تباہی کا شکار ہے۔
اندریکا رتواتے نے کہا ہے کہ افغانستان کو متواتر بحرانوں کا سامنا ہے جن سے نمٹنے کے لیے امدادی اداروں کی صلاحیت ختم ہو چکی ہے۔ رواں سال ملک کو 2.4 ارب ڈالر کے امدادی وسائل درکار ہیں جن میں سے اب تک صرف 28 فیصد ہی مہیا ہو سکے ہیں جبکہ زلزلے کی صورت میں ایک اور تباہ کن آفت افغانوں کے سر آن پڑی ہے۔