انسانی کہانیاں عالمی تناظر

افغانستان: زلزلے میں 800 ہلاکتیں، امدادی کارروائیاں شروع

زلزلے سے بہت بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے (فائل فوٹو)۔
© WFP
زلزلے سے بہت بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے (فائل فوٹو)۔

افغانستان: زلزلے میں 800 ہلاکتیں، امدادی کارروائیاں شروع

انسانی امداد

افغانستان میں آنے والے شدید زلزلے کے بعد امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں 800 ہلاکتوں کی تصدیق ہو گئی ہے جبکہ سیکڑوں افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے زلزلہ متاثرین سے ہمدردی اور افغان عوام سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ادارہ مشکل کی اس گھڑی میں ان کے ساتھ ہے۔ ملک میں اقوام متحدہ کی ٹیم متاثرہ علاقوں میں لوگوں کو مدد پہنچانے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھے گی۔

Tweet URL

اطلاعات کے مطابق، ریکٹر سکیل پر 6 شدت کے اس زلزلے کا مرکز مشرقی صوبہ کنڑ اور ننگرہار ہیں۔ زلزلہ زمین کے اندر تقریباً آٹھ کلومیٹر گہرائی میں آیا جس کے نتیجے میں کئی گاؤں ملیا میٹ ہو گئے۔

نصف شب آنے والے اس زلزلے نے دارالحکومت کابل کو بھی جھنجھوڑ کر رکھ دیا اور اس کے جھٹکے پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد اور ملحقہ شہروں تک بھی محسوس کیے گئے۔ خدشہ ہے کہ متاثرہ علاقوں میں بہت سے لوگ ملبے تلے دبے ہیں جن کی جان بچانے کے لیے بروقت کارروائی کی ضرورت ہے۔

امدادی اقدامات

افغانستان میں اقوم متحدہ کا معاون مشن (یوناما)، امدادی امور کے لیے اقوام متحدہ کا رابطہ دفتر (اوچا) اور عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) سمیت متعدد ادارے زلزلہ متاثرین کے لیے ضروری مدد پہنچانے میں مصروف ہیں۔

'ڈبلیو ایچ او' نے بتایا ہے کہ ادارے کی ٹیمیں مشرقی افغانستان میں متاثرین کو طبی امداد فراہم کر رہی ہیں جہاں بڑی تعداد میں لوگ ہلاک و زخمی ہوئے ہیں۔ زندگیوں کو تحفظ دینے کے لیے علاقے میں ادویات اور طبی سازوسامان پہنچایا جا رہا ہے اور طبی مراکز کو بھی ضروری مدد فراہم کی جا رہی ہے۔

مدد کی اپیل

پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے (یو این ایچ سی آر) کی امدادی ٹیمیں بھی متاثرہ علاقوں میں موجود ہیں۔ ادارے نے بتایا ہے کہ صوبہ کنٹر میں ممکنہ طور پر تقریباً 2,000 افراد زخمی ہو سکتے ہیں۔ علاوہ ازیں ہمسایہ شہر جلال آباد میں بھی بڑے پیمانے پر انسانی نقصان کے خدشات ظاہر کیے گئے ہیں۔

ادارے کے ترجمان بابر بلوچ نے بتایا ہے کہ زلزلے سے بہت بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے اور متاثرہ علاقوں کی ضروریات سے مقامی حکام یا لوگ اکیلے نہیں نمٹ سکتے۔ انہوں نے دنیا بھر میں عطیہ دہندگان سے اپیل کی ہے کہ وہ زلزلہ متاثرین کے لیے ہنگامی بنیاد پر امدادی وسائل مہیا کریں۔

رسائی کا مسئلہ

'اوچا' نے بتایا ہے کہ امدادی ٹیموں کو دور دراز علاقوں میں رہنے والے لوگوں تک پہنچنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ حکام نے سڑکوں سے رکاوٹیں ہٹانے کے لیے ضلع نورگل اور چاکے میں بھاری مشینری بھیجی ہے جس کے ذریعے بعض راستوں کو کھولا جا چکا ہے۔ بعض شدید زخمیوں کو ہیلی کاپٹروں کے زریعے جلال آباد اور اسد آباد کے ہسپتالوں میں پہنچایا گیا ہے۔

ننگر ہار اور کنٹر میں بعض دشوار گزار متاثرہ علاقے ایسے بھی ہیں جہاں صرف پیدل رسائی ہی ممکن ہے۔ 'اوچا' نے بتایا ہے کہ چاکے میں وادی دیواگل اور نورگل ضلع میں وادی مزار کا شمار ایسے ہی علاقوں میں ہوتا ہے جہاں زلزلے سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے جبکہ وہاں تک رسائی آسان نہیں۔

یاد رہے کہ تقریباً دو سال قبل افغانستان کے صوبہ ہرات میں 6.3 شدت کے زلزلے نے بھی بڑے پیمانے پر تباہی مچائی تھی جس سے ہزاروں لوگ متاثر ہوئے۔