سوڈان خانہ جنگی: زیر محاصرہ علاقے الفاشر میں جنگ بندی کا مطالبہ
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے سوڈان کی ریاست شمالی ڈارفر کے زیر محاصرہ دارالحکومت الفاشر میں جنگ بندی کی اپیل کی ہے جہاں ایک سال سے پھنسے لاکھوں شہری انسانی امداد سے محروم ہیں۔
سیکرٹری جنرل کے ترجمان سٹیفن ڈوجیرک کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ شہر اور اس کے قریب ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کے حملوں کو 500 روز مکمل ہو گئے ہیں جن میں شہریوں کی بڑی تعداد ہلاک و زخمی ہو رہی ہے۔
حالیہ ہفتوں میں شہر اور اس کے قریب واقع ابو شوک پناہ گزین کیمپ پر تقریباً مسلسل بمباری ہوتی رہی ہے جہاں گزشتہ سال دسمبر میں قحط جیسے حالات کی نشاندہی ہوئی تھی۔ 11 اگست تک الفاشر اور گردونواح میں کم از کم 125 شہریوں کے ہلاک ہونے کی تصدیق ہوئی تھی جن میں بعض لوگوں کو ماورائے عدالت قتل کیا گیا، تاہم اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔
سیکرٹری جنرل نے اس لڑائی میں انسانی حقوق اور بین الاقوامی قانون کی سنگین پامالیوں اور نسلی بنیاد پر تشدد کے خدشات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
امداد کی فراہمی میں رکاوٹیں
امدادی امور کے لیے اقوام متحدہ کے رابطہ دفتر (اوچا) نے بتایا ہے کہ انسانی امداد کی بڑی مقدار الفاشر کے قریب موجود ہے لیکن اقوام متحدہ اور اس کے شراکت داروں کو اسے شہر میں پہنچانے کی راہ میں کڑی رکاوٹوں کا سامنا ہے۔
جنوبی ڈارفر کے علاقے نیالا میں امدادی سامان لے کر 70 ٹرک شمالی ڈارفر کی طرف جانے کی اجازت ملنے کے منتظر ہیں۔ ترجمان نے کہا ہے کہ حالیہ مہینوں میں امدادی مراکز، اہلکاروں اور سازوسامان پر بھی متواتر حملے ہوتے رہے ہیں۔
تشدد روکنے کی کوششیں
سیکرٹری جنرل نے کہا ہے کہ شہریوں کو تحفظ دینے اور انسانی امداد کی بڑے پیمانے پر بلارکاوٹ فراہمی یقینی بنانے کے لیے فوری اقدامات اٹھائے جانا چاہئیں اور علاقہ چھوڑنے کے خواہش مند لوگوں کو محفوظ انخلا کی سہولت ملنی چاہیے۔
ترجمان کے مطابق، سوڈان کے لیے سیکرٹری جنرل کے خصوصی نمائندے رمتان لامامرا تشدد روکنے کے لیے متحارب فریقین سے رابطے میں ہیں اور سوڈانی عوام کی خواہشات کے مطابق مشمولہ سیاسی عمل میں مدد دینے کے لیے تیار ہیں۔