انسانی کہانیاں عالمی تناظر

الفاشر محاصرہ: بچوں کو بے گھری اور شدید غذائی قلت کا سامنا

امانی نامی خاتون سوڈان کے شمالی دارفور کے علاقے تاویلا میں ایک عارضی پناہ گاہ میں دو دیگر بچوں کے ساتھ بیٹھی ہوئی اپنے نوزائیدہ بچے کو اٹھائے ہوئے ہے۔
© UNICEF/Mohammed Jamal سوڈان کے علاقے الفاشر کے محاصرے سے جان بچا کر تویلا پہنچنے والا ایک خاندان مہاجر کیمپ میں پناہ لیے ہوئے ہے۔

الفاشر محاصرہ: بچوں کو بے گھری اور شدید غذائی قلت کا سامنا

انسانی امداد

سوڈان کی ریاست شمالی ڈارفر کے دارالحکومت الفاشر کے محاصرے کو 500 روز مکمل ہو گئے ہیں جہاں بچوں کو شدید غذائی قلت، بیماریوں، بے گھری اور جان لیوا تشدد کا سامنا ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) نے خبردار کیا ہے کہ متحارب عسکری دھڑوں کی لڑائی میں آئے روز بچوں کی ہلاکتیں ہو رہی ہیں۔ زیرمحاصرہ شہر میں 260,000 لوگ پھنسے ہیں جن میں نصف تعداد بچوں کی ہے جنہیں 16 ماہ سے انسانی امداد میسر نہیں آ سکی۔

Tweet URL

یونیسف کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کیتھرین رسل نے کہا ہے کہ الفاشر کے بچے بدترین بھوک کا شکار ہیں جبکہ امدادی رسائی نہ ہونے کے باعث ادارہ ان بچوں کو غذائیت فراہم نہیں کر سکتا۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ الفاشر میں بچوں کی زندگیاں داؤ پر لگی ہیں جنہیں تحفظ دینے کے لیے لڑائی میں وقفے دینا اور امدادی اداروں کو علاقے میں مکمل رسائی مہیا کرنا لازم ہے۔

بچوں کا تباہ کن نقصان

یونیسف کے مطابق، اپریل 2024 میں ملکی مسلح افواج کی مخالف ملیشیا ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کی جانب سے الفاشر کا محاصرہ شروع ہونے کے بعد بچوں کے حقوق کی سنگین پامالی کے 1,100 واقعات کی تصدیق ہو چکی ہے جن میں ہزار سے زیادہ بچوں کو ہلاک و زخمی کیا گیا۔ ان میں بیشتر اپنے گھروں، پناہ گزین کیمپوں اور گلیوں بازاروں میں مارے گئے۔

کم از کم 23 بچوں کو جنسی زیادتی، اجتماعی جنسی زیادتی یا جنسی حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔ بہت سے بچوں کو اغوا کر کے انہیں عسکری مقاصد کے لیے بھرتی کرنے کے واقعات بھی پیش آتے رہے ہیں۔

رواں ہفتے الفاشر کے قریب ابو شوک پناہ گزین کیمپ میں بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کا واقعہ پیش آیا جس کے متاثرین میں کم از کم سات بچے بھی شامل تھے۔

طبی خدمات کی معطلی

'آر ایس ایف' کی جانب سے الفاشر اور گردونواح میں راستے بند کیے جانے کی وجہ سے انسانی امداد کی فراہمی بھی بند ہو چکی ہے۔ طبی مراکز اور غذائیت فراہم کرنے والی متحرک ٹیموں کو اپنی کارروائیاں معطل کرنا پڑی ہیں۔ ان حالات میں تقریباً 6,000 بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہیں۔

طبی و تعلیمی سہولیات مسلسل حملوں کی زد میں ہیں۔ اب تک 35 ہسپتالوں اور چھ سکولوں پر بمباری کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ ان میں سعودی میٹرنٹی ٹیچنگ ہسپتال بھی شامل ہے جسے دس سے زیادہ مرتبہ بمباری کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ جنوری میں ابو شوک کیمپ کے قریب طبی مرکز پر بمباری کے باعث غذائی قلت کا شکار ہزاروں بچے ضروری علاج سے محروم ہو گئے تھے۔

علاقے میں شدید غذائی قلت تیزی سے پھیل رہی ہے اور رواں سال اس سے متاثرہ 10 ہزار سے زیادہ بچوں کو علاج کے لیے طبی مراکز میں لایا گیا ہے جو گزشتہ سال کے مقابلے میں دو گنا بڑی تعداد ہے۔ تاہم ضروری سازوسامان کی شدید قلت کے باعث اب بیشتر بچوں کو اس علاج کی فراہمی ممکن نہیں رہی اور گزشتہ ہفتے ہی کم از کم 63 افراد غذائیت کی قلت کے باعث ہلاک ہو گئے جن میں بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔

ہیضے کی بدترین وباءء

یونیسف نے بتایا ہے کہ سوڈان کے متعدد علاقوں میں ہیضے کی بدترین وباء پھیل چکی ہے۔ گزشتہ سال جولائی کے بعد اس بیماری کے 96 ہزار سے زیادہ مشتبہ مریض سامنے آئے اور اس سے 2,400 اموات ہوئیں۔ ان میں 5,000 سے زیادہ مریضوں کا تعلق ڈارفر سے تھا جہاں اس مرض نے 98 افراد کی جان لی۔

ادارے نے سوڈان کی حکومت اور تمام متعلقہ فریقین سے کہا ہے کہ وہ ملک بھر میں بچوں کو ضروری مدد کی بلارکاوٹ اور مسلسل فراہمی یقینی بنانے میں سہولت دیں۔ الفاشر اور گردونواح سمیت تشدد کا شکار ہر علاقے میں امدادی سرگرمیوں کے لیے جنگ میں وقفہ دیا جائے۔

یونیسف نے مطالبہ کیا ہے کہ ہر جگہ غذائیت، ادویات، صاف پانی اور دیگر ضروری مدد کی رسائی یقینی بنائی جائے۔ جہاں ضروری ہو وہاں اقوام متحدہ اور شراکت داروں کی امدادی کارروائیوں کو بحال کیا جائے اور بچوں سمیت شہریوں اور شہری تنصیبات کو حملوں سے تحفظ دیا جائے۔