انسانی کہانیاں عالمی تناظر

سلامتی کونسل: ایران کے جوہری پروگرام پر سفارتکاری کی اہمیت پر اصرار

UN انڈر سیکرٹری جنرل روزمیری ڈی کارلو نے سلامتی کونسل کو قرارداد 2231 اور JCPOA کے نفاذ سے متعلق سیکرٹری جنرل کی رپورٹ سے آگاہ کیا۔
UN Photo/Eskinder Debebe ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے مشترکہ جامع منصوبہ پر بات کے لیے سلامتی کونسل کے اجلاس کا ایک منظر۔

سلامتی کونسل: ایران کے جوہری پروگرام پر سفارتکاری کی اہمیت پر اصرار

امن اور سلامتی

اقوام متحدہ نے ایران کے جوہری مسئلے کا سفارتی حل نکالنے کے مطالبے کا اعادہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مشترکہ جامعہ لائحہ عمل (جے سی پی او اے) اور اس کی مںظوری دینے والی قرارداد کے مقاصد حاصل نہیں ہو سکے۔

سیاسی امور کے لیے اقوام متحدہ کی انڈر سیکرٹری جنرل روزمیری ڈی کارلو نے کہا ہے کہ امریکہ کے صدر کی جانب سے اسرائیل اور ایران کے مابین جنگ بندی کا اعلان تباہ کن کشیدگی کو روکنے اور ایران کے جوہری مسئلے کا پرامن حل نکالنے کا موقع ہے۔

حالیہ تنازع نے اس مسئلے کے سفارتی حل کی کوششوں کو کمزور کیا ہے اور ایران کی جوہری تنصیبات پر اسرائیل کے حملوں نے سلامتی کونسل کی قرارداد 2231 پر مکمل عملدرآمد کے امکانات کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔

انہوں نے یہ بات ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے 2015 میں طے پانے والے معاہدے کا جائزہ لینے کے لیے منعقدہ سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

UN انڈر سیکرٹری جنرل روزمیری ڈی کارلو نیویارک میں UN سلامتی کونسل کے اجلاس کے دوران ایک پوڈیم سے خطاب کر رہی ہیں۔
UN Photo/Eskinder Debebe

جوہری معاہدہ اور خدشات

یہ معاہدہ ایران اور امریکہ، چین، یورپی یونین، جرمنی، فرانس، برطانیہ اور روس کے مابین طے پایا تھا۔ اس کے تحت ایران کو یورینیم کی افزودگی سختی سے محدود کرنے، جوہری مواد کی مقدار میں کمی لانے، سینٹری فیوج کے مخصوص حد سے زیادہ استعمال کو روکنے اور جوہری توانائی کے عالمی ادارے (آئی اے ای اے) کو اپنی تنصیبات کی موثر نگرانی کی اجازت دینے کا پابند کیا گیا اور اس کے عوض اس پر اقتصادی پابندیوں میں نرمی کی گئی تھی۔

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پہلی مدت صدارت کے دوران 2018 میں اس معاہدے سے علیحدگی اختیار کر لی تھی جس کے بعد ایران نے بھی جوہری سرگرمیوں کو محدود رکھنے کا وعدہ پورا کرنے سے انکار کر دیا۔

اس معاہدے کے تحت ایران پر جوہری سرگرمیوں سے متعلق پابندیاں 18 اکتوبر کو ختم ہو جائیں گی۔ روزمیری ڈی کارلو نے خبردار کیا ہے کہ کونسل کی جانب سے اس مدت میں توسیع نہ کی گئی تو معاہدے کے اہم مقاصد حاصل نہیں ہو پائیں گے۔

سفارت کاری عزم

انڈر سیکرٹری جنرل نے کونسل کے ارکان کو بتایا کہ حالیہ مہینوں کے دوران اومان میں ایران اور امریکہ کے مابین جوہری مسئلے پر دوطرفہ بات چیت کے پانچ ادوار کے نتیجے میں معاہدے پر مکمل عملدرآمد بحال نہیں ہو سکا اور اس دوران ایران پر اسرائیل کے حملوں نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

روزمیری ڈی کارلو نے کہا کہ 'جے سی پی او اے' میں شامل چین، فرانس، جرمنی، ایران، روس اور برطانیہ نے اس مسئلے کا سفارتی حل نکالنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ مارچ میں چین، ایران اور روس نے سیکرٹری جنرل کو قرارداد 2231 کی شرائط اور اس پر عملدرآمد کے مراحل سے آگاہ کیا تھا۔ علاوہ ازیں، چین نے ایران کے جوہری مسئلے کو حل کرنے کے لیے مرحلہ وار اور دوطرفہ طریقہ کار بھی تجویز کیا۔

انہوں نے کہا کہ سفارت کاری اور تصدیق ہی ایران کے جوہری پروگرام کو یقینی طور پر پُرامن رکھنے کا بہترین طریقہ ہیں۔

UN سیکرٹری جنرل نیویارک میں UN سلامتی کونسل کے اجلاس کے دوران ایک پوڈیم سے خطاب کر رہے ہیں۔
UN Photo/Eskinder Debebe

جنگ نہیں مذاکرات

یورپی یونین نے اس مسئلے پر بات چیت کے لیے اقوام متحدہ کی اپیل کو دہراتے ہوئے واضح کیا ہے کہ عسکری کارروائی کے بجائے مذاکراتی معاہدہ ہی ایران کے جوہری مسئلے کے پائیدار حل کا ضامن ہو سکتا ہے۔

یورپی پارلیمنٹ کے سابق نائب صدر سٹیوروس لیمبرینیڈز نے یونین کی اعلیٰ سطحی نمائندہ کاجا کیلس کی جانب سے سلامتی کونسل کو بریفنگ دیتے ہوئے اس مسئلے کے سفارتی حل کی جانب فوری واپسی کی ضرورت کو واضح کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول یا تیاری سے روکنا یورپی یونین کے لیے سلامتی کی ایک اہم ترجیح ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران کی بڑھتی ہوئی جوہری سرگرمیوں اور 'آئی اے ای اے' کو ان کی نگرانی کے لیے رسائی نہ ملنے کے مسئلے نے 'جے سی پی او اے' کو بری طرح نقصان پہنچایا ہے جبکہ یورپی یونین سفارت کاری کے ذریعے معاہدہ برقرار رکھنے کے لیے متواتر کوششیں کرتی رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سفارت کاری جاری رہنی چاہیے اور اس معاملے میں آگے بڑھنے میں 'آئی اے ای اے' کی جانب سے نگرانی اور تصدیق کی کوششوں کو مرکزی اہمیت حاصل ہونا ضروری ہے۔