ایشیا میں گزشتہ سال باقی دنیا کی نسبت ریکارڈ توڑ گرمی، ڈبلیو ایم او
گزشتہ سال ایشیا میں اوسط درجہ حرارت میں اضافے کی شرح دیگر دنیا سے کہیں زیادہ رہی جہاں چین میں اپریل، مئی، اگست، ستمبر اور نومبر میں گرمی کے نئے ریکارڈ قائم ہوتے اور ٹوٹتے رہے۔
عالمی موسمیاتی ادارے (ڈبلیو ایم او) کی جاری کردہ نئی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ براعظم ایشیا عالمی اوسط کے مقابلے میں دو گنا زیادہ تیزی سے گرم ہو رہا ہے اور اس شرح میں کمی کے کوئی آثار دکھائی نہیں دیتے۔
گرمی میں اضافے سے لوگوں کی زندگیاں اور روزگار بری طرح متاثر ہو رہے ہیں اور اس صورتحال سے خطے کا کوئی بھی ملک محفوظ نہیں ہے۔
ادارے کی سیکرٹری جنرل سیلیسٹ ساؤلو نے کہا ہے کہ ایشیا میں موسمی شدت کے واقعات ناگوار طور سے لوگوں پر انتہائی شدید اثرات مرتب کر رہے ہیں۔ قدرتی آفات میں زندگیوں کو تحفظ دینے کے لیے قومی سطح پر موسمیاتی اور آبی خدمات کے شعبے اور ان کے شراکت داروں کا کام بہت اہمیت رکھتا ہے۔
وسیع زمین اور شدید گرمی
رپورٹ کے مطابق، سمندر کے مقابلے میں خشکی پر درجہ حرارت کہیں زیادہ تیزی سے بڑھتا ہے۔ چونکہ ایشیا میں خشکی کی وسعت بہت زیادہ ہے اس لیے وہاں درجہ حرارت میں اضافے کی رفتار بھی زیادہ ہے۔
زمین کے درجہ حرارت میں تغیر کے فطری نظام اور انسانوں پر وسیع اثرات ہوتے ہیں۔ ایشیا کے گرد سمندروں میں بھی درجہ حرارت بڑھ رہا ہے۔ گزشتہ سال بحر ہند اور بحر الکاہل کی سطح کے اوسط درجہ حرارت نے بھی ریکارڈ بلندیوں کو چھوا۔
گزشتہ سال خشکی و سمندر پر گرمی کی طویل لہروں نے بھی خطے بھر میں تباہی مچائی جس کے نتیجے میں گلیشیئر پگھلتے رہے اور سطح سمندر میں اضافہ ہوتا رہا۔
شدید بارشیں اور خشک سالی
رپورٹ کے مطابق، ایشیا میں بعض ممالک اور علاقوں میں ریکارڈ بارشیں ہوئیں۔ مثال کے طور پر انڈیا کی ریاست کیرالہ کے شمالی علاقے میں پہاڑی تودے گرنے کے نتیجے میں 350 سے زیادہ لوگ ہلاک ہو گئے۔
قازقستان میں شدید بارشوں اور برف پگھلنے سے 70 سالہ تاریخ کا بدترین سیلاب آیا۔ بعض ممالک اور علاقوں میں معمول سے بہت کم بارشیں ہوئیں۔ چین میں موسم گرما کے دوران طویل خشک سالی رہی جس سے تقریباً 48 لاکھ لوگ متاثر ہوئے اور ہزاروں ہیکٹر پر فصلوں کو نقصان پہنچا۔
'ڈبلیو ایم او' نے کہا ہے کہ ایسی موسمی کیفیات سے مطابقت اختیار کرنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ ہر جگہ موسم کے بارے میں بروقت اطلاعات کی فراہمی کے نظام نصب کیے جائیں اور لوگوں کو ایسے طریقوں سے روشناس کرایا جائے جن کی بدولت وہ موسمی شدت کے واقعات سے مستحکم طور پر نمٹ سکیں۔
نیپال کے مثالی اقدامات
رپورٹ میں بروقت آگاہی کے نظام قائم کرنے کے معاملے میں نیپال کی کامیابی کا تذکرہ بھی شامل ہے جس نے لوگوں کو سیلاب کے بارے میں پیشگی اطلاعات کی فراہمی کا موثر اہتمام کیا ہے۔ گزشتہ سال 26 اور 28 ستمبر کے درمیان نیپال میں شدید بارشوں کے نتیجے میں پہاڑی تودے گرنے اور سیلاب آنے سے 246 افراد ہلاک، 178 زخمی اور 200 سے زیادہ لاپتہ ہو گئے تھے۔ اگرچہ یہ بحران انتہائی شدید تھا لیکن سیلاب کے بارے میں بروقت اطلاعات ملنے کے نتیجے میں لوگوں نے خطرے کی زد پر موجود علاقے پہلے ہی خالی کر دیے تھے اور ہنگامی حالات میں مدد دینے والی ٹیموں کی تیاری بھی مکمل تھی۔
مشرقی نیپال میں سیلاب سے متاثرہ علاقے باراکھشٹرا کے میئر رمیش کارکی نے کہا ہے کہ یہ سات دہائیوں میں آنے والا بدترین سیلاب تھا۔ تاہم، بروقت تیاری اور لوگوں کی تلاش اور بچاؤ کے اقدامات کی بدولت انسانی نقصان کم سے کم رہا البتہ بنیادی ڈھانچہ اس آفت سے وسیع پیمانے پر متاثر ہوا۔
علاوہ ازیں، ملکی سطح پر جامع ضابطوں اور ہنگامی حالات کے لیے درکار مالی وسائل کی موجودگی میں امدادی اور تعمیرنو سے متعلق ضروریات فوری طور پر پوری کی گئیں۔
'ڈبلیو ایم او' نیپال کی حکومت اور دیگر شراکت داروں کے ساتھ مل کر یہ نظام مزید مضبوط بنانے کے لیے کام کر رہا ہے۔