ہیٹی گینگ وار: خواتین اور لڑکیوں کے خلاف جنسی مظالم پر گہری تشویش
عالمی ادارہ برائے مہاجرت (آئی او ایم) نے کہا ہے کہ 2021 میں صدر جووینل موز کو قتل کیے جانے کے بعد ہیٹی جرائم پیشہ مسلح جتھوں کے تشدد کی لپیٹ میں ہے جس کے نتیجے میں 10 لاکھ لوگ نقل مکانی پر مجبور ہوئے جن میں ںصف سے زیادہ تعداد بچوں کی ہے۔
امدادی امور کے لیے اقوام متحدہ کے رابطہ دفتر (اوچا) نے بتایا ہے کہ بڑے پیمانے پر مسلح تشدد سے ہیٹی کے بچوں کی زندگی بری طرح متاثر ہو رہی ہے جنہیں جنسی بدسلوکی، استحصال اور جتھوں میں جبری بھرتی جیسے سنگین مسائل کا سامنا ہے۔ ان جتھوں نے اب ملک کے بڑے حصوں میں قدم جما لیے ہیں۔
مسلح تنازعات میں جنسی تشدد کے مسئلے پر اقوام متحدہ کی نمائندہ خصوصی پرامیلا پیٹن نے رواں سال کے آغاز سے ملک میں خواتین اور لڑکیوں پر جنسی تشدد کے واقعات میں اضافے پر تشویش کا اظہار کیا ہے جنہیں جنسی زیادتی، اجتماعی جنسی زیادتی اور جنسی غلامی جیسے جرائم کا سامنا ہے۔
جنسی تشدد میں ہولناک اضافہ
نمائندہ خصوصی نے کہا ہے کہ ایسے بیشتر وحشیانہ جرائم جتھوں کی عملداری والے علاقوں میں پیش آ رہے ہیں۔ یہ جتھے اپنی طاقت منوانے اور مخصوص لوگوں کو سزا دینے کے لیے جنسی تشدد کو دانستہ اور منصوبہ بندی کے تحت ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔
متاثرین نے بتایا ہے کہ خواتین اور لڑکیوں کو ان کے اپنے گھروں اور عوامی مقامات پر بھی ایسے جرائم کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ طبی مراکز بند ہو رہے ہیں اور لوگ گنجان پناہ گاہوں میں جانے پر مجبور ہیں جہاں ضروری خدمات کی فراہمی انتہائی محدود ہے۔ محاسبہ نہ ہونے کے باعث جرائم پیشہ عناصر دیدہ دلیری سے وارداتیں کر رہے ہیں۔
نمائندہ خصوصی کا کہنا ہے کہ ہیٹی کے لوگوں کو تحفظ دینے کے لیے ٹھوس اور ہنگامی بنیاد پر اقدامات کرنا لازم ہو گیا ہے۔
اقوام متحدہ کا ردعمل
پرامیلا پیٹن نے ملک میں کینیا کے زیرقیادت کثیرملکی سکیورٹی سپورٹ مشن (ایم ایس ایس) کی مکمل تعیناتی پر زور دیا ہے۔ اس مشن کا مقصد ہیٹی میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مضبوط بنانا ہے مگر اس کے لیے خاطرخواہ وسائل دستیاب نہیں ہو سکے۔ انہوں نے عالمی برادری سے کہا ہے کہ وہ مشن کے لیے مالی مدد فراہم کرے۔
نمائندہ خصوصی نے مسلح جتھوں کو کمزور کرنے اور انہیں غیرقانونی اسلحے تک رسائی سے روکنے کے لیے ان کے خلاف سلامتی کونسل کی جانب سے پابندیاں نافذ کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ دارالحکومت پورٹ او پرنس میں عدالت کا قیام قانون کی عملداری بحال کرنے کی جانب اہم قدم ہے۔ اس سے قبل اقوام متحدہ کے تعاون سے دو خصوصی عدالتی یونٹ بھی قائم کیے جا چکے ہیں جن میں سے ایک خاص طور پر جنسی تشدد سمیت بڑے پیمانے پر جرائم سے متعلق ہے۔
پرامیلا پیٹن نے ہیٹی کی حکومت سے کہا ہے کہ وہ ان یونٹوں کو فعال کرنے کی رفتار بڑھائے۔ جرائم پر عدم احتساب کا خاتمہ تشدد کے سلسلے کو ختم کرنے اور خواتین و لڑکیوں کے وقار کی بحالی کے لیے بنیادی قدم ہے۔