موسمیاتی تبدیلی کے خلاف تحریک میں انسانی حقوق اہم، وولکر ترک
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے خبردار کیا ہے کہ صحت مند زمین کے بغیر انسان کی بقا ممکن نہیں۔ دنیا کو موسمیاتی بحران پر قابو پانے کے لیے ہنگامی، منصفانہ اور حقوق کی بنیاد پر طریقے وضع کرنا ہوں گے۔
برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ دنیا کو درپیش یہ بحران اور بڑھتی ہوئی عدم مساوات نئی طرز کی سیاست اور مضبوط قیادت کا تقاضا کرتے ہیں۔
انہوں نے ماحولیاتی نظام کے استحصال پر افسوس اور تنقید کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انسان نے فطرت سے جھوٹی علیحدگی اختیار کر لی ہے اور اس دھوکے کا شکار ہے کہ وہ فطرت کو اپنی خواہش کے مطابق تبدیل کر سکتا ہے جبکہ ایسا ممکن نہیں۔
ہائی کمشنر نے ماحولیاتی انحطاط کو بنیادی ناانصافی سے جوڑتے ہوئے کہا کہ دنیا کے امیر ترین ایک فیصد لوگ غریب ترین دو تہائی آبادی سے زیادہ کاربن خارج کرنے کے ذمہ دار ہیں۔ جن لوگوں پر موسمیاتی بحران کی بہت کم ذمہ داری عائد ہوتی ہے وہی اس کے بدترین اثرات جھیل رہے ہیں۔
تبدیلی کی عالمگیر تحریک
انہوں نے موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے حسب ضرورت مالی وسائل کی قلت پر تشویش کا اظہار کیا اور بین الاقوامی مالیاتی نظام میں اصلاحات کے لیے زور دیتے ہوئے کہا کہ معدنی ایندھن کے استعمال کو روکنے کے لیے مجوزہ معاہدے کی حمایت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ایسے معاہدے سے تیل، کوئلہ اور گیس نکالنے کے نئے منصوبوں کو روکنے میں مدد ملے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ دور حاضر اور مستقبل میں صحت مند زمین پر تحفظ، سلامتی اور مواقع کے ساتھ رہنا تمام ممالک کا حق ہے۔
وولکر ترک نے تمام حکومتوں، اداروں اور افراد پر زور دیا کہ وہ اس حوالے سے مثبت تبدیلی لانے کی عالمگیر تحریک شروع کریں جس کی بنیاد انسانی حقوق، موسمیاتی بحران پر قابو پانے اور مزید مساوی و مستحکم مستقبل کی تعمیر پر ہو۔