انسانی کہانیاں عالمی تناظر

پاکستان: ٹھٹھہ کی فرح نے نکالا ایام ماہواری میں رازداری کے مسئلے کا حل

پاکستان کے ایک دیہی گاؤں میں کمیونٹی بیداری کی میٹنگ، خواتین اور ایک نوجوان لڑکی کے ساتھ ایک چٹائی پر بیٹھی اسپیکر سن رہی ہے۔
© UNFPA پاکستان کے صوبہ سندھ کے علاقے ٹھٹھہ میں خواتین و لڑکیاں حفظان صحت اور صفائی بارے ایک تربیتی مجلس میں اکٹھی ہیں۔

پاکستان: ٹھٹھہ کی فرح نے نکالا ایام ماہواری میں رازداری کے مسئلے کا حل

خواتین

پاکستان کے صوبہ سندھ میں ایک گاؤں کے چھوٹے سے گھر میں فرح بی بی سلائی مشین پر روئی کو کپڑے میں لپیٹ کر سینیٹری نیپکن (پیڈ) تیار کرتی ہیں۔ ایک ایسے علاقے میں ان یہ کام بہت غیرمعمولی کہا جا سکتا ہے جہاں لفظ 'ماہواری' بھی کھلے عام نہیں بولا جاتا۔

وہ روئی کی چند تہوں کو کاٹن کے کپڑے میں لپیٹ کر اسے پیڈ کی شکل میں سی دیتی ہیں۔ ناصرف ان کے گاؤں بلکہ ارد گرد کے دیہات کی سیکڑوں خواتین اور لڑکیاں ان کی گاہک ہیں جنہیں وہ یہ پیڈ بازار سے نصف قیمت پر فروخت کرتی ہیں۔ ان کا تیار کردہ پیڈ صحت کے لیے محفوظ ہونے کے ساتھ مضبوط بھی ہوتا ہے جسے چھ ماہ تک استعمال کیا جا سکتا ہے۔

فرح کا تعلق صوبہ سندھ کے شہر ٹھٹھہ میں واقع میرپور سکرو گاؤں سے ہے۔ انہیں یہ پیڈ تیار کرنے کا خیال اس وقت آیا جب وہ کالج میں پڑھتی تھیں۔ ایام ماہواری میں سفید یونیفارم پہن کر ویگن پر طویل سفر کر کے کالج آنا جانا ان کے لیے نہایت مشکل ہوتا تھا۔ چونکہ بازار سے ملنے والے پیڈ مہنگے ہوتے ہیں اور انہیں استعمال کرنے سے کپڑوں پر داغ لگنے کا خطرہ برقرار رہتا ہے اس لیے ان کے علاقے میں بہت سے لڑکیاں ان ایام میں سکول سے غیرحاضر رہتی تھیں۔

پاکستان میں اسکول کی طالبات کا ایک گروپ عمارت کے باہر کھڑا ہے جب ایک اور طالبہ بیسن میں ہاتھ دھو رہی ہے۔
© UNFPA فرح بی بی علامت ہیں اس امر کی کہ تعلیم، اختراع، اور معاونت کیسے مل کر تبدیلی لا سکتے ہیں۔

فرح نے اپنے اور اپنی بہنوں کے لیے پیڈ تیار کر کے اس کے مسئلے کا حل نکالا تو ان کی دوستوں اور ہمسایہ خواتین نے بھی ان سے ایسے ہی پیڈ بنا کر دینے کی فرمائش کی۔ فرح کی اختراعی سوچ کی بدولت ان کے بنائے پیڈ کی مانگ بڑھتی گئی اور اس اختراع نے پورے علاقے میں خواتین اور لڑکیوں کی زندگی آسان کر دی۔

صحت و صفائی اور جسمانی تحفظ

فرح کو اس کام میں اپنے بھائی کی مدد بھی حاصل ہے۔ وہ پیڈ تیار کرنے کے لیے پہلے روئی کی چند تہیں بناتی ہیں اور ان کے ساتھ واٹر پروف شیٹ رکھ کر اسے کاٹن کے کپڑے میں عمدگی سے سی دیتی ہیں۔ ان کا بنایا پیڈ بازار میں دستیاب ایسی اشیا کے مقابلے میں ماحول دوست بھی ہے۔

فرح بی بی کی اس ایجاد کا شہرہ سن کر ایک لیڈی ہیلتھ ورکر ان کے علاقے میں آئیں اور اس کام کو مزید پھیلانے کے لیے ان کی حوصلہ افزائی کی۔

کئی ہاتھ سے بنے دوبارہ استعمال کے قابل سینیٹری پیڈز کا ایک کلوز اپ شاٹ، جس میں ایک رنگین سرکلر پیٹرن بھی شامل ہے، جسے سبز تانے بانے کی سطح پر رکھا گیا ہے۔
© UNFPA فرح بی بی کے تیارکردہ سینیٹری پیڈ بازار میں دستیاب مصنوعات کے مقابلے میں ںصف قیمت پر مل جاتے ہیں۔

سماجی بہبود کے لیے کام کرنے والے چند مقامی گروہوں کی مدد سے اور بعدازاں جنسی و تولیدی صحت کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے (یو این ایف پی اے) کی تربیت اور رہنمائی کے ذریعے فرح کو اس کام میں صحت و صفائی اور تحفظ کے اعلیٰ معیار تک پہنچنے میں مدد ملی۔

انہوں نے خود کو پیڈ تیار کرنے تک ہی محدود نہیں رکھا بلکہ خواتین کو ایام ماہواری میں صحت و صفائی، تولیدی حقوق اور محفوظ زچگی کے بارے میں بھی آگاہی دینے لگی ہیں۔

دقیانوسی تصورات کا توڑ

فرح بی بی کا شمار ایسی بہت سی خواتین میں ہوتا ہے جو 'یو این ایف پی اے' کے زیراہتمام ٹھٹھہ میں خواتین اور لڑکیوں کی تولیدی صحت و بہبود کو فروغ دینے کے پروگرام کے ذریعے بااختیار بنی ہیں۔ اس کام میں غیرسرکاری ادارے 'ریکٹ پاکستان' نے بھی تعاون کیا ہے۔

'یو این ایف پی اے' کے اس پروگرام کا مقصد پاکستان کے دیہی علاقوں میں ماہواری، تولیدی صحت اور زچگی کے ایسے مسائل پر قابو پانا ہے جو سماجی رکاوٹوں سے جنم لیتے ہیں۔

اس اقدام کی بدولت آگاہی پھیلانے اور زندگیوں کو تبدیل کرنے میں مدد مل رہی ہے جبکہ دیہی علاقوں میں ایسے موضوعات پر آگاہی دینا تو درکنار بات بھی کم ہی کی جاتی ہے۔ پروگرام کے ذریعے طبی کارکنوں کو خواتین اور لڑکیوں کو ایام ماہواری میں صحت و صفائی برقرار رکھنے، انفیکشن سے بچاؤ، حمل کی پیچیدگیوں کو سمجھنے اور ان کی روک تھام، خاندانی منصوبہ بندی اور ایسے بہت سے مسائل پر آگاہی دینا سکھایا جاتا ہے۔

پاکستان میں اسکول کی طالبات کا ایک گروپ نیلی یونیفارم اور سفید اسکارف پہنے ہوئے، انفیکشن سے بچاؤ اور ذاتی حفظان صحت سے متعلق آگاہی مہم میں حصہ لے رہا ہے۔ ان کے پاس تعلیمی سامان اور تھیلے ہیں۔
© UNFPA حیضی صحت کے عالمی دن اٹھائیس مئی فرح بی بی کی صلاحتیں اورکوششیں سراہنے کا موقع ہے۔

ایسی کوششیں محض طبی مراکز تک ہی محدود نہیں بلکہ گھروں، سکولوں اور ذرائع ابلاغ کے ذریعے بھی یہ کام کیا جاتا ہے۔

فرح بی بی تعلیم، اختراع اور مدد کے ملاپ سے زندگیوں میں آنے والی بہتری کی مثال بن گئی ہیں۔ ایسے معاشرے میں ان کی آواز اور ان کے بنائے پیڈ دقیانوسی تصورات کو توڑ رہے ہیں جہاں خواتین اور لڑکیوں سے ان کے اپنے جسم کے بارے میں خاموشی اختیار کرنے کی توقع رکھی جاتی ہے۔ ان کی داستان اس بات کی یاد دہانی ہے کہ وقار آگاہی سے شروع ہوتا ہے اور تبدیلی گھر سے آتی ہے۔

نوٹ: یو این ایف پی اے پاکستان نے پہلے یہ مضمون اٹھائیس مئی کو انگریزی میں شائع کیا تھا۔