اردن کے محمد ضیف اللہ حمود عالمی عدالت انصاف کے جج منتخب
اردن سے تعلق رکھنے والے تجربہ کار سفارت کار اور قانونی ماہر محمد ضیف اللہ حمود کو عالمی عدالت انصاف (آئی سی جے) کا جج مقرر کر دیا گیا ہے۔
ان کی تعیناتی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اور سلامتی کونسل میں ایک متوازی اور آزادانہ رائے شماری کے ذریعے عمل میں آئی جس کا انعقاد خفیہ ووٹ کے ذریعے ہوا۔ ضیف اللہ کی تقرری لبنان سے تعلق رکھنے والے عدالت کے سابق صدر نواف سلام کی رخصتی کے بعد عمل میں آئی ہے جنہوں نے جنوری میں اپنا عہدہ چھوڑ دیا تھا جس کے بعد انہیں لبنان کا وزیراعظم مقرر کیا گیا۔
نومنتخب جج نواف سلام کے عہدے کی بقیہ مدت مکمل کریں گے جو 5 فروری 2027 کو ختم ہو رہی ہے۔
بھاری حمایت سے انتخاب
عدالت میں بطور جج انتخاب کے لیے ضیف اللہ حمود واحد امیدوار تھے۔ ان کی نامزدگی مصر، اردن، رومانیہ، سلواکیہ اور سویڈن نے کی تھی۔
'آئی سی جے' کا جج بننے کے امیدوار کے لیے جنرل اسمبلی اور سلامتی کونسل میں ارکان کی اکثریت کی حمایت حاصل ہونا یا بالترتیب 97 اور 8 ووٹ حاصل کرنا لازم ہے۔
سلامتی کونسل کے تمام 15 ارکان نے ضیف اللہ کے حق میں ووٹ دیا جبکہ 193 ارکان پر مشتمل جنرل اسمبلی میں ہونے والی رائے شماری کے موقع پر موجود 181 میں سے انہیں 178 ارکان کی حمایت حاصل ہوئی۔ بقیہ تین ممالک نے اس عمل میں حصہ نہیں لیا۔
ضیف اللہ حمود ستمبر 2021 سے اقوام متحدہ میں اردن کے سفیر کی حیثیت سے خدمات انجام دینے کے علاوہ اپنے ملک کی وزارت خارجہ امور کے شعبہ قانون کے ڈائریکٹر اور قانونی مشیر کے طور پر کام کر رہے تھے۔ وہ بین الاقوامی قانونی کمیشن کے سابق چیئرمین اور رکن بھی رہے ہیں۔ یہ اقوام متحدہ کے ماہرین کا ادارہ ہے جو بین الاقوامی قانون کی تیاری اور متعلقہ ضابطہ کاری کے لیے کام کرتا ہے۔
عالمی عدالت انصاف
'آئی سی جے' کو عالمی عدالت بھی کہا جاتا ہے جو رکن ممالک کے مابین تنازعات طے کراتی ہے اور اقوام متحدہ کے اداروں کی جانب سے پوچھے گئے قانونی سوالات پر اپنی مشاورتی رائے دیتی ہے۔
گزشتہ سال جولائی میں جنرل اسمبلی کی جانب سے طلب کردہ قانونی رائے پر غزہ کی پٹی اور مغربی کنارے بشمول مشرقی یروشلم پر اسرائیل کے قبضے کو غیرقانونی قرار دینے کے بعد یہ عدالت عالمی توجہ کا مرکز رہی ہے۔ گزشتہ مہینے اس نے غزہ اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں کےکام پر پابندیاں جاری رکھنے کے اسرائیلی اقدامات سے متعلق مقدمے کی سماعت شروع کی تھی۔
'آئی سی جے' 15 ججوں پر مشتمل ہے جو نو سالہ مدت کے لیے فرائض انجام دیتے ہیں۔ ہر تین سال کے بعد پانچ ججوں کا انتخاب عمل میں آتا ہے اور کوئی جج ایک سے زیادہ مرتبہ بھی عہدہ سنبھال سکتا ہے۔ ججوں کے انتخاب میں ان کی قومیت کے بجائے اہلیت کو دیکھا جاتا ہے تاہم ایک ملک سے دو جج نہیں لیے جا سکتے۔
یہ عدالت جون 1945 میں نیدرلینڈز کے شہر دی ہیگ کے امن محل میں قائم کی گئی تھی۔ اس کا شمار اقوام متحدہ کے چھ بنیادی اداروں میں ہوتا ہے جن میں جنرل اسمبلی، سلامتی کونسل، معاشی و سماجی کونسل (ایکوسوک)، تولیتی کونسل اور ادارے کا سیکرٹریٹ بھی شامل ہیں اور عدالت کے علاوہ ان پانچوں کے دفاتر نیویارک میں واقع اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں قائم ہیں۔
'آئی سی جے' اور عالمگیر امن و سلامتی میں اس کے کردار کے بارے میں مزید جانیے