سوڈان خانہ جنگی: وسیع پیمانے پر ماورائے عدالت ہلاکتوں کی کڑی مذمت
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے سوڈان کے دارالحکومت خرطوم میں لڑائی کے دوران بڑے پیمانے پر شہریوں کی مبینہ ہلاکتوں کو قابل مذمت قرار دیتے ہوئے زندگی کے حق کو تحفظ دینے کے لیے کہا ہے۔
انہوں نے سوڈان کی مسلح افواج کے حکام پر زور دیا ہے کہ وہ لوگوں کی ہلاکتوں کو روکیں۔ ماورائے عدالت قتل بین الاقوامی قوانین کی سنگین پامالی ہے اور اس میں ملوث افراد اور ہلاکتوں کا حکم دینے والوں کا بین الاقوامی فوجداری قانون کے تحت محاسبہ ہونا چاہیے۔
سوڈان کی مسلح افواج نے گزشتہ دنوں شدید لڑائی کے بعد ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) سے خرطوم کا قبضہ واپس لے لیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق، اس دوران سرکاری فوج کی جانب سے شہر کے مختلف علاقوں میں لوگوں کو 'آر ایس ایف' کے جنگجوؤں سے مبینہ تعلق کے الزام میں ہلاک کیا گیا۔
شہریوں پر ہولناک مظالم
ہائی کمشنر نے یہ بیان 26مارچ سے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی متعدد ویڈیوز کا جائزہ لینے کے بعد جاری کیا جن میں بظاہر مشرقی اور جنوبی خرطوم میں باوردی اور سادہ لباس میں مسلح افراد شہریوں کو ہلاک کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
ایسی بعض ویڈیوز میں مسلح افراد یہ کہتے بھی سنائی دیتے ہیں کہ وہ 'آر ایس ایف' کے حامیوں کو سزا دے رہے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق، خرطوم کے علاقے جنوب الہیزم میں فوج اور اس کے حامیوں کی جانب سے مبینہ طور کم از کم 20 شہریوں کو ہلاک کیا گیا جن میں ایک خاتون بھی شامل تھی۔
جنگ، بدحالی اور قحط
سوڈان کی مسلح افواج (ایس اے ایف) اور اس کی مخالف ملیشیا (آر ایس ایف) کے درمیان اپریل 2023 سے ملک بھر میں لڑائی جاری ہے جس میں ہزاروں افراد ہلاک اور لاکھوں اندرون و بیرون ملک بے گھر ہو چکے ہیں۔
ہائی کمشنر ملک میں جنگ کے خاتمے اور لوگوں کی تکالیف میں کمی لانے کے لیے متواتر کوششیں کرتے آئے ہیں۔ انہوں نے گزشتہ سال مئی میں دونوں متحارب عسکری دھڑوں کے سربراہوں سے بات کر کے اس بحران کا پرامن حل نکالنے پر زور دیا تھا۔
وولکر ترک نے حالیہ دنوں اقوام متحدہ کی کونسل برائے انسانی حقوق کے اجلاس میں خبردار کیا تھا کہ ملک میں چھ لاکھ لوگ قحط کے دھانے پر ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ شمالی ڈارفر کے زمزم پناہ گزین کیمپ سمیت پانچ علاقوں میں قحط پھیل چکا ہے۔ اس کیمپ کے اردگرد ہونے والی شدید لڑائی کے بعد اقوام متحدہ کے پروگرام برائے خوراک (ڈبلیو ایف پی) نے وہاں انسانی امداد کی فراہمی معطل کر دی تھی۔
ہائی کمشنر نے خبردار کیا کہ آئندہ مہینوں میں اور اس کے بعد مجموعی طور پر مزید 22 علاقے قحط کی لپیٹ میں آ سکتے ہیں۔
آن لائن خطرات
وولکر ترک نے ملک میں نفرت کے بڑھتے ہوئے آن لائن اظہار، تشدد کی ترغیب دینے اور 'آر ایس ایف' سے وابستہ لوگوں کی فہرستیں آن لائن جاری کیے جانے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا ہے کہ ڈارفر اور کردفان کے مخصوص نسلی گروہوں کو اندھا دھند حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ سوڈان کے حکام کو چاہیے کہ وہ ایسے واقعات کی فوری، شفاف اور موثر تحقیقات عمل میں لائیں۔