غزہ کی 90 فیصد آبادی پینے کے صاف پانی سے محروم، یونیسف
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) نے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں شدید آبی قلت خطرناک حد تک پہنچ گئی ہے جہاں صرف 10 فیصد لوگوں کو ہی پینے کا صاف پانی میسر ہے۔
حماس پر یرغمالیوں کی رہائی کے لیے دباؤ ڈالنے کی غرض سے اسرائیل کی جانب سے علاقے میں بجلی منقطع کرنے کے فیصلے نے حالات کو مزید بگاڑ دیا ہے جس سے پانی صاف کرنے کا عمل بھی متاثر ہوا ہے۔ غزہ میں یونیسف کی عہدیدار روزالیا بولین نے بتایا ہے کہ نومبر 2024 میں پینے کے پانی تک دوبارہ رسائی پانے والے چھ لاکھ لوگ ایک مرتبہ پھر اس سے محروم ہو گئے ہیں۔ ہزاروں خاندانوں اور بچوں کے لیے پانی کی بحالی بہت ضروری ہے۔
اقوام متحدہ کے اداروں کا اندازہ ہے کہ غزہ میں 18 لاکھ لوگوں کو پانی، نکاسی آب اور صحت و صفائی کے حوالے سے مدد کی اشد ضرورت ہے جن میں نصف سے زیادہ تعداد بچوں کی ہے۔
فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے امدادی ادارے (انروا) کے کمشنر جنرل فلپ لازارینی نے جنیوا میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ کی موجودہ صورتحال اکتوبر 2023 کے حالات سے مماثل ہے۔
مغربی کنارے میں نقل مکانی
کمشنر جنرل نے کہا ہے کہ مقبوضہ مغربی علاقے میں اسرائیل کی عسکری کارروائیوں کے نتیجے میں 40 ہزار لوگ بے گھر ہو گئے ہیں جن میں بڑی اکثریت پناہ گزینوں کی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ مغربی علاقے اور مشرقی یروشلم سے ادارے کے کام کا خاتمہ کرنے کی منظم کوششیں ہو رہی ہیں۔ اس پر اپنے دفاتر بند کرنے اور خدمات روکنے کے لیے شدید دباؤ ڈالا جا رہا ہے جبکہ اس کے بین الاقوامی عملے کو مقبوضہ علاقوں میں داخلے کی اجازت نہیں دی جا رہی اور پہلے سے موجود ایسے عملے کو بیدخل کیا جا رہا ہے۔
انہوں نےخبردار کیا ہے کہ 'انروا' مالی وسائل روکے جانے، قانونی پابندیوں اور غلط اطلاعات پھیلانے کی مہم علاقائی استحکام کے لیے شدید خطرہ ہے۔
'انروا' کے مالی مسائل
'انروا' کو شدید مالی رکاوٹوں کا سامنا بھی ہے اور اہم عطیہ دہندگان کی جانب سے وسائل کی فراہمی بند ہونے کے نتیجے میں اس مسئلے نے شدت اختیار کر لی ہے۔
فلپ لازارینی نے اقوام متحدہ کے رکن ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ مسئلے کا سیاسی حل سامنے آنے تک ادارے کو وسائل کی فراہمی برقرار رکھیں۔ 'انروا' کو مدد کی فراہمی قبل ازوقت بند کیے جانے سے فلسطینیوں کی تکالیف میں مزید اضافہ ہو جائے گا لیکن ان کی پناہ گزین حیثیت ختم نہیں ہو گی۔
انہوں نے واضح کیا ہے کہ 'انروا' کی موجودگی کے بغیر بھی آزادانہ زندگی گزارنے کے لیے فلسطینی پناہ گزینوں کے حقوق برقرار رہیں گے جبکہ کسی قابل عمل متبادل کے بغیر ادارے کا کام بند ہونے سے فلسطینیوں کی تکالیف میں مزید اضافے کے سوا کچھ حاصل نہیں ہو گا۔
امداد کی بحالی کا مطالبہ
مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اقوام متحدہ کی امدادی سرگرمیوں کے رابطہ کار محمد ہادی نے غزہ میں انسانی امداد کی فراہمی فوری بحال کرنے کی ضرورت واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس میں مزید تاخیر سے جنگ بندی کے دوران ہونے والی پیش رفت ضائع ہو جائے گی۔
انہوں نے بحران میں اضافہ روکنے کے لیے سیاسی فریم ورک کی اہمیت پر بھی زور دیا اور اس سلسلے میں کی جانے والی کوششوں بشمول سعودی، عرب، یورپی یونین اور عرب لیگ کی جانب سے فلسطینی مسئلے کے دو ریاستی حل پر عملدرآمد کے لیے دی جانے والی تجاویز کا تذکرہ کیا ہے۔
محمد ہادی کا کہنا ہے کہ سیاسی عزم کی موجودگی میں انسانی امداد کی بلارکاوٹ فراہمی ممکن ہے۔