انسانی کہانیاں عالمی تناظر

مردوں کی بجائے انسانوں کے حقوق پیش کرنے والی ہنسہ مہتا کی یاد میں لیکچر

انسانی حقوق کمیشن میں خواتین کی صورتحال پر سب کیمٹی کی ارکان مئی 1946 میں نیو یارک کے ہنٹر کالج میں اکٹھی ہیں۔ ڈاکٹر ہنسہ مہتا دائیں سے پہلے نمبر پر تشریف فرما ہیں۔
UN Photo
انسانی حقوق کمیشن میں خواتین کی صورتحال پر سب کیمٹی کی ارکان مئی 1946 میں نیو یارک کے ہنٹر کالج میں اکٹھی ہیں۔ ڈاکٹر ہنسہ مہتا دائیں سے پہلے نمبر پر تشریف فرما ہیں۔

مردوں کی بجائے انسانوں کے حقوق پیش کرنے والی ہنسہ مہتا کی یاد میں لیکچر

خواتین

خواتین کے حقوق کے لیے اپنے کام سے شہرت پانے والی انڈیا کی ماہر تعلیم، سماجی اصلاح کار اور لکھاری ڈاکٹر ہنسہ مہتا کی یاد میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں خواتین کے عالمی دن کی مناسبت سے ایک لیکچر بعنوان "جنوبی دنیا اور خواتین کی قیادت: ہنسہ مہتا فریم ورک برائے مشمولہ سفارت کاری" کا اہتمام کیا گیا تھا۔

ہنسہ مہتا نے انسانی حقوق کے عالمگیر اعلامیے (یو ڈی ایچ آر) کی تیاری میں اہم کردار ادا کیا جو اقوام متحدہ کی تشکیل کے ابتدائی ایام میں منظور کیا گیا تھا۔

اعلامیہ میں تاریخی ترمیم

ڈاکٹر ہنسہ مہتا 3 جولائی 1897 کو انڈیا کی ریاست بڑودا (موجودہ گجرات) میں پیدا ہوئیں اور انہوں نے خواتین کے حقوق کی پرجوش داعی کے طور پر نام پایا۔ امریکہ کی ایلینار روزویلٹ کے علاوہ ہنسہ مہتا اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کی دوسری خاتون رکن تھیں۔

انسانی حقوق کے عالمگیر اعلامیے کے مسودے کی پہلی شق میں پوری انسانیت کی نمائندگی کے لیے انگریزی اصطلاح Men کا استعمال کیا گیا تھا۔ اس میں لکھا تھا کہ تمام لوگ (Men) آزاد اور مساوی حیثیت سے پیدا ہوئے ہیں۔

ہنسہ مہتا نے اس فقرے میں ترمیم تجویز کرتے ہوئے Men کی جگہ all human (تمام انسان) لکھنے کو کہا جسے ناصرف قبول کر لیا گیا بلکہ اس تبدیلی کو صنفی مساوات اور خواتین کے حقوق کی جدوجہد میں ایک اہم سنگ میل بھی سمجھا جاتا ہے۔

صنفی مساوات کے لیے کاوشیں

ہنسہ مہتا نے 1946 میں آل انڈیا ویمن کانفرنس (اے آئی ڈبلیو سی) میں انڈیا کی خواتین کا چارٹر پیش کیا۔ اس میں ملک کی خواتین کے لیے صنفی مساوات، شہری حقوق اور انصاف کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ اس چارٹر کے بہت سے نکات انڈیا کے دستور میں صنفی مساوات کے حوالے سے شامل کی جانے والی بہت سی شقوں کی بنیاد بنے۔

ہنسہ مہتا انڈیا کی دستور ساز کمیٹی اور بنیادی حقوق پر مشاورتی کمیٹی کی رکن بھی تھیں۔

لیکچر کی مکمل تقریب دیکھیے