انسانی کہانیاں عالمی تناظر

موسمیاتی تبدیلی: مختصر لانینا سے عالمی حدت میں اضافہ متوقع

خواتین اور لڑکیوں کی ایک قطار سروں پر بالٹیاں اٹھائے سندھ، پاکستان کے جیوکالوئی گاؤں میں سیلاب زدہ علاقے سے ایک تنگ راستے پر چل رہی ہے۔
© UNICEF/Vlad Sokhin پاکستان خاص طور اس کے ساحلی علاقے بڑھتی سطح سمندر سے بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔

موسمیاتی تبدیلی: مختصر لانینا سے عالمی حدت میں اضافہ متوقع

موسم اور ماحول

عالمی موسمیاتی ادارے (ڈبلیو ایم او) نے بتایا ہے کہ گزشتہ سال دسمبر میں شروع ہونے والی سرد سمندری (موسمی) کیفیت لانینا کا دورانیہ مختصر رہے گا جبکہ عالمی حدت میں متواتر اضافہ ہو رہا ہے۔

'ڈبلیو ایم او' کی تازہ ترین پیش گوئی میں آئندہ مہینوں کے دوران استوائی الکاہل میں سطح سمندر کا درجہ حرارت معمول پر آنے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ اس بات کے 60 فیصد امکانات ہیں کہ مارچ سے مئی تک موسمی حالات معمول پر آ جائیں گے جبکہ اپریل سے جون تک یہ امکان بڑھ کر70 فیصد ہو جائے گا۔

لانینا وسطی و مشرقی بحر الکاہل میں سمندر کے درجہ حرارت میں بڑے پیمانے پر آنے والی کمی کا نام ہے جس کے اثرات پوری دنیا کے موسم پر مرتب ہوتے ہیں۔

اس میں ہوا، دباؤ اور بارشوں کے معمول میں تبدیلی آتی ہے اور خاص طور پر استوائی خطوں میں اس کے موسمیاتی اثرات (ال نینو) گرم سمندری کیفیت سے مختلف ہوتے ہیں۔ ال نینو کے دوران آسٹریلیا میں خشک سالی آتی ہے جبکہ لانینا سے بارشوں اور سیلاب میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس سے برعکس جنوبی امریکہ میں لانینا کے دوران خشک سالی دیکھنے کو مل سکتی ہے جبکہ ال نینو میں موسم نم رہتا ہے۔

بنگلہ دیش میں ایک چھوٹا لڑکا، جس کے ہاتھ میں نیلا مچھلی کا جال ہے، ایک وسیع، ٹوٹا ہوا اور خشک تالاب کے ایک چھوٹے اور کم گہرائی والے پانی کے تالے میں کھڑا ہے۔
© WMO/Muhammad Amdad Hossain

تپتی زمین

'ڈبلیو ایم او' کی سیکرٹری جنرل سیلیٹ ساؤلو نے کہا ہے کہ ال نینو اور لانینا سے متعلق پیش گوئیاں قدرتی آفات سے بروقت آگاہی اور حفاظتی اقدامات کے لیے بہت اہم ہیں۔ ان کی بدولت زراعت، توانائی اور نقل و حمل کے شعبے میں کروڑوں ڈالر کی بچت ہوتی ہے اور آنے والے برسوں میں قدرتی آفات سے بچاؤ کا اہتمام کر کے لاکھوں زندگیوں کو تحفظ دیا جا سکتا ہے۔

ان قدرتی موسمیاتی کیفیات کے ساتھ انسان کی لائی موسمیاتی تبدیلی کے اثرات بھی نمایاں ہیں جس سے زمین گرم ہو رہی ہے اور موسم شدت اختیار کر رہے ہیں۔ 'ڈبلیو ایم او' کے مطابق لانینا کی سرد کیفیت کے باوجود رواں سال جنوری اب تک کا گرم ترین جنوری تھا۔

'ڈبلیو ایم او' کرہ ارض کے موسموں کے بارے میں باقاعدہ سے تازہ ترین معلومات فراہم کرتا ہے جن کی بدولت بحر اوقیانوس اور قطب شمالی کے خطے میں موسمیاتی کیفیات کو مدنظر رکھتے ہوئے مزید جامع موسمی منظرنامہ سامنے آتا ہے۔ ان معلومات کی بدولت سطح سمندر کی گرمی، عالمی و علاقائی درجہ حرارت اور بارشوں کے معمول میں ہونے والی تبدیلیوں پر بھی نظر رکھی جاتی ہے۔

'ڈبلیو ایم او' کا کہنا ہےکہ آئندہ عرصہ میں مشرقی بحرالکاہل کے علاوہ بیشتر سمندری خطے معمول سے زیادہ گرم رہیں گے اور خشکی کے تقریباً تمام علاقوں میں معمول سے زیادہ گرمی پڑے گی۔