غزہ: فریقین جنگ بندی کے اگلے مرحلے کا راستہ ہموار کریں، گوتیرش
غزہ میں جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کا پہلا مرحلہ مکمل ہونے کے بعد اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ مزید کشیدگی سے گریز کرتے ہوئے پائیدار امن کے قیام کی راہ تلاش کریں۔
ان کا کہنا ہےکہ گزشتہ چھ ہفتوں میں فلسطینیوں اور اسرائیلیوں دونوں کو سکھ کا سانس لینے کا موقع ملا ہے اور اس پیش رفت کو مستقل جنگ بندی میں تبدیل ہونا چاہیے۔ امن کے اس عرصہ میں امدادی سامان لے کر ہزاروں ٹرک غزہ میں آئے ہیں جہاں تقریباً ہر فرد اس امداد سے مستفید ہوا ہے۔
سیکرٹری جنرل نے اپنے ترجمان سٹیفن ڈوجیرک کی جانب سے جاری کردہ بیان میں فریقین سے کہا ہے کہ وہ تحمل سے کام لیتے ہوئے جنگ بندی کو برقرار رکھیں اور اس کے اگلے مرحلے کے لیے بات چیت جلد از جلد شروع کریں۔ مزید کشیدگی سے بچنے اور شہریوں کو تحفظ دینے کے لیے مستقل امن کا قیام اور تمام یرغمالیوں کی غیرمشروط رہائی ضروری ہے۔
امدادی کارروائیوں کا تحفظ
اسرائیل اور حماس کے مابین جنگ بندی کا پہلا مرحلہ آج مکمل ہو گیا ہے تاہم، اطلاعات کے مطابق آئندہ مرحلے کے لیے فریقین کے مابین بات چیت تاحال معطل ہے۔
انتونیو گوتیرش نے غزہ اور اسرائیل میں قید تمام لوگوں کے ساتھ انسانی سلوک کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہےکہ غزہ کے لیے حسب ضرورت امدادی وسائل فراہم کیے جانے چاہئیں اور امدادی کارروائیوں کے لیے محفوظ ماحول کی موجودگی ضروری ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ رمضان امن و عبادت کا مہینہ ہے اور اس موقع پر مقبوضہ مغربی علاقے میں ہر طرح کے تشدد کا خاتمہ ہونا چاہیے۔ اقوام متحدہ اس مقصد کے لیے ہر ممکن مدد دینے کو تیار ہے اور خطے میں امن و استحکام کی خاطر اپنا کردار ادا کرنے کا عزم رکھتا ہے۔
سیکرٹری جنرل آج مصر کے دارالحکومت قاہرہ جا رہے ہیں جہاں وہ غزہ کی تعمیرنو کے معاملے پر عرب لیگ کے ہنگامی اجلاس میں شرکت کریں گے۔