انسانی کہانیاں عالمی تناظر

ویغور پناہ گزینوں کو واپس چین بھیجنے پر تھائی لینڈ کی مذمت

تھائی لینڈ میں بنکاک شہر کے منظر کا ایک اونچے زاویے کا منظر، جس میں افق پر سورج کم ہونے کے ساتھ ابر آلود آسمان کے نیچے فلک بوس عمارتوں اور جدید عمارتوں کی گھنی اسکائی لائن کو دکھایا گیا ہے۔
UN News/Daniel Dickinson تھائی لینڈ کا دارالحکومت بنکاک۔

ویغور پناہ گزینوں کو واپس چین بھیجنے پر تھائی لینڈ کی مذمت

انسانی حقوق

اقوام متحدہ نے تھائی لینڈ کی جانب سے 40 ویغور پناہ گزینوں کو چین واپس بھجوانے کی مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قانون اور پناہ گزینوں کو ان کی رضامندی کے بغیر ملک بدر کرنے کی ممانعت کے اصولوں کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

ادارے کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے کہا ہے کہ تھائی لینڈ میں 11 سال سے زیرحراست ویغور افراد کی ملک بدری انتہائی پریشان کن ہے۔ تشدد کی ممانعت کے کنونشن کی شق 3 کے مطابق، پناہ گزینوں کو ایسی جگہ واپس نہیں بھیجا جا سکتا جہاں انہیں تشدد، بدسلوکی یا دیگر ناقابل تلافی نقصان کا خدشہ ہو۔ شہری و سیاسی حقوق سے متعلق بین الاقوامی معاہدے کی شق 7 اور انسانی حقوق کے عالمگیر اعلامیے کی شق 14 میں بھی یہی بات کی گئی ہے۔

ہائی کمشنر کا کہنا ہے کہ پناہ کے حصول کی کوشش اور انہیں جبری واپسی سے تحفظ کے حقوق تھائی لینڈ میں تشدد اور جبری گمشدگیوں کی ممانعت سے متعلق قانون کی شق 13 اور آسیان ممالک کے اعلامیہ برائے انسانی حقوق کی شق 16 میں بھی مندرج ہیں۔

قیدیوں کے تحفظ کا مطالبہ

واپس بھیجے جانے والے ان افراد کا تعلق مارچ 2014 میں پناہ کے  لیے تھائی لینڈ آنے والے ویغور لوگوں کے گروہ سے تھا جو چین سے ترکیہ کے راستے ملک میں پہنچے تھے۔ ان لوگوں کو ایک دہائی سے زیادہ عرصہ تک تارکین وطن کے حراستی مراکز میں رکھا گیا۔

'او ایچ سی ایچ آر' کے مطابق، اس گروہ کے پانچ اراکان دوران حراست انتقال کر گئے تھے جبکہ آٹھ دیگر تاحال تھائی لینڈ میں قید ہیں۔

ہائی کمشنر نے تھائی لینڈ کی حکومت سے کہا ہے کہ وہ مزید ویغور افراد کی ملک بدری کو روک دے اور بین الاقوامی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے حراستی مراکز میں ان لوگوں کا تحفظ یقینی بنائے۔

'یو این ایچ سی آر 'کی مذمت

پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے (یو این ایچ سی آر) نے بھی ان لوگوں کو ملک بدر کیے جانے کی مذمت کی ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ اس نے ویغور قیدیوں تک رسائی کے لیے تواتر سے کوششیں کیں اور حکام سے یہ یقین دہانی چاہی کہ انہیں ملک بدر نہیں کیا جائے گا تاہم اس کی درخواستیں مسترد کی جاتی رہیں۔

ادارے میں اسسٹنٹ ہائی کمشنر برائے تحفظ رویندرینی مینیکڈیویلا نے کہا ہے کہ تھائی لینڈ کا یہ اقدام پناہ گزینوں کو ان کی رضامندی کے خلاف ملک بدر نہ کرنے کے اصول کی خلاف ورزی ہے۔

ادارے نے تھائی لینڈ کی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ پناہ کے خواہش مند لوگوں کو اس انداز میں واپس بھیجنے کا سلسلہ روک دے۔

وولکر ترک نے چین کے حکام سے کہا ہے کہ وہ ملک میں واپس بھیجے جانے والے ویغور افراد کے بارے میں ضروری معلومات سے آگاہ کریں۔ حکام کو ان کے ساتھ انسانی حقوق کے بین الاقوامی ضابطوں کی مطابقت سے اچھا سلوک یقینی بنانا ہو گا۔