انسانی کہانیاں عالمی تناظر

زرعی غذائی نظام بدلنے میں کسانوں کی حیثیت مرکزی، ایف اے او

ایک خاتون آب و ہوا کی تحقیق کے منصوبے کے تحت نیپال میں سیلاب زدہ کھیت میں چاول کے پودے لگا رہی ہے۔
© CIAT/Neil Palmer نیپال میں ایک کسان چاول کی پنیری لگا رہی ہیں۔

زرعی غذائی نظام بدلنے میں کسانوں کی حیثیت مرکزی، ایف اے او

موسم اور ماحول

عالمی ادارہ خوراک و زراعت کے ڈائریکٹر جنرل کو ڈونگ یو نے کہا ہے کہ حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اور فطری ماحول کے انحطاط کو روکنے کے لیے زرعی غذائی نظام میں تبدیلیاں لانا ضروری ہے جس کے لیے کسانوں کو مرکزی اہمیت دینا ہو گی۔

حیاتیاتی تنوع پر روم میں منعقدہ اقوام متحدہ کی کانفرنس میں شریک مندوبین سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ فطری ماحول کے تحفظ کو تمام ممالک میں خوراک اور زراعت کی پالیسیوں کا حصہ بنانا ہو گا۔ کنمنگ۔مانٹریال فریم ورک کے 23 میں نصف سے زیادہ اہداف کا زراعت سے براہ راست تعلق ہے۔ حیاتیاتی تنوع مٹی اور پانی سے بھی منسلک ہے اور اسے کلی سہ جہتی تناظر میں دیکھنا ضروری ہے۔

Tweet URL

27 فروری تک جاری رہنے والی سہ روزہ کانفرنس میں 150 سے زیادہ ممالک کے نمائندے شرکت کر رہے ہیں۔ اس کا مقصد حیاتیاتی تنوع کو تحفظ دینے کے لیے مالی وسائل جمع کرنا، اس مسئلے پر احتساب کا فروغ اور زرعی غذائی نظام کو فطری ماحول کے تحفظ کی عالمگیر حکمت عملی سے منسلک کرنا ہے۔

زرعی پالیسیاں اور حیاتیاتی تنوع

ڈائریکٹر جنرل کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال اس معاملے پر کولمبیا میں ہونے والی 'کاپ 16' میں جینیاتی معلومات اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ میں قدیمی مقامی لوگوں کے نگران کردار کے اعتراف سے متعلق نمایاں پیش رفت ہوئی۔ تاہم حالیہ کانفرنس (کاپ 16.2) کا مقصد اس سمت میں مزید اقدامات اٹھانا ہے تاکہ 2030 تک حیاتیاتی تنوع کے نقصان کو روکنے اور اس کا ازالہ کرنے کے لیے کنمنگ۔مانٹریال فریم ورک پر کماحقہ عملدرآمد میں مدد مل سکے۔ 

انہوں نے کہا کہ 'کاپ 16' میں شروع کردہ 'ایگری۔این بی ایس اے پی اقدام' اس مسئلے پر قابو پانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ اس اقدام کا مقصد حکومتوں کو حیاتیاتی تنوع کے تحفظ سے متعلق اپنی حکمت عملی اور مںصوبوں کو زرعی غذائی نظام سے منسلک کرنے میں مدد دینا تھا تاکہ زرعی پالیسی اور حیاتیاتی تنوع سے متعلق اہداف میں تفاوت کو ختم کیا جا سکے۔

کولمبیا کی وزیر ماحولیات ماریا سوزانا محمد اور وزیر زراعت مارتھا کارواجالینو نے اس اقدام پر مکمل عملدرآمد کی اہمیت کو واضح کیا۔

200 ارب ڈالر کی ضرورت

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے ایک بیان میں خبردار کیا ہے کہ حیاتیاتی تنوع تباہی کے دھانے پر ہے اور حکومتوں کو اسے تحفظ دینے کے وعدوں پر عملدرآمد کرنا ہو گا۔ کامیابی جوابدہی کا تقاضا کرتی ہے اور عملی اقدامات مالی وسائل مانگتے ہیں۔

حیاتیاتی تنوع کو تحفط دینے کے لیے ہر سال 200 ارب ڈالر کی ضرورت ہے اور ترقی پذیر ملک امیر ممالک سے اس ضمن میں اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کو کہہ رہے ہیں۔

روم میں ہونے والی بات چیت کے موقع پر حیاتیاتی تنوع کی حفاظت کے لیے مہیا اور خرچ کیے جانے والے مالی وسائل کی نگرانی کے طریقہ ہائے کار وضع کرنے پر بھی بات ہو گی تاکہ یہ وسائل اس مسئلے سے بری طرح متاثر ہونے والے لوگوں تک پہنچ سکیں۔

عالمی عزم کا امتحان

کانفرنس میں حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کی خاطر مالی وسائل کی فراہمی سے متعلق وعدوں، عملدرآمدی حکمت عملی اور نگرانی کے نظام کو حتمی شکل دی جائے گی۔

ڈائریکٹر جنرل نے اپنی بات کا اختتام کرتے ہوئے کہا کہ بہتر پیداوار، غذائیت، ماحول اور بہتر زندگی کے لیے حکومتی شعبوں اور وزارتوں کا احاطہ کرتے مربوط طریقہ کار اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔

فطری ماحول کی حفاظت کے لیے 2030 تک اہداف پورے کرنے میں بہت کم وقت باقی رہ گیا ہے۔ حالیہ کانفرنس اس حوالے سے عالمگیر عزم کا امتحان ہے جس میں یہ طے ہو گا کہ آیا رکن ممالک اس مسئلے پر قابو پانے کے لیے ٹھوس اقدامات کریں گے یا کرہ ارض کے ماحولیاتی نظام کو تحفظ دینے میں ناکام رہیں گے۔