انسانی کہانیاں عالمی تناظر

غزہ: جنگ کے دوبارہ آغاز سے ہر قیمت پر بچنا چاہیے، یو این چیف

غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کے بعد بے گھر فلسطینی اپنے گھروں کو لوٹنے کے بعد ملبے سے گزر رہے ہیں۔
© WHO غزہ میں نقل مکانی پر مجبور ہونے والے لوگ جنگ بندی کے بعد گھروں کو واپس لوٹ رہے ہیں۔

غزہ: جنگ کے دوبارہ آغاز سے ہر قیمت پر بچنا چاہیے، یو این چیف

امن اور سلامتی

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے حماس سے ہفتے کے روز تک یرغمالیوں کی طے شدہ رہائی یقینی بنانے کی اپیل کرتے ہوئے فریقین سے کہا ہے کہ غزہ میں دوبارہ جنگ سے ہر قیمت پر گریز کرنا ہو گا۔

سیکرٹری جنرل کا کہنا ہے کہ 15 ماہ تک جاری رہنے والے جنگ میں غزہ کے لوگوں نے ہولناک تباہی اور بے پایاں مشکلات کا سامنا کیا ہے جن کا اعادہ نہیں ہونا چاہیے۔

Tweet URL

جنیوا میں اقوام متحدہ کے ترجمان رولینڈو گومز کی جانب سے جاری کردہ بیان میں انہوں نے تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ جنگ بندی معاہدے کے تحت اپنے وعدے پورے کریں اور اس کے آئندہ مرحلے کے لیے دوحہ میں سنجیدہ بات چیت جاری رکھیں۔

یاد رہے کہ، حماس نے اسرائیل پر فلسطینیوں کی ہلاکتیں جاری رکھنے اور غزہ میں بڑے پیمانے پر انسانی امداد کی فراہمی میں رکاوٹیں ڈالنے کا الزام عائد کرتے ہوئے یرغمالیوں کی رہائی کا عمل معطل کر دیا ہے جنہیں 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر حملے کے دوران اغوا کیا گیا تھا۔

اقوام متحدہ کی امدادی کارروائیاں

فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے امدادی ادارے (انروا) نے بتایا ہے کہ غزہ، مقبوضہ مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں اس کی کارروائیاں بلارکاوٹ جاری ہیں اور موخرالذکر دونوں علاقوں میں اس کے طبی مراکز بھی حسب معمول کام کر رہے ہیں۔

امدادی امور کے لیے اقوام متحدہ کے رابطہ دفتر (اوچا) کے مطابق، 19 جنوری کو طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کے تحت غزہ میں بڑے پیمانے پر امداد کی فراہمی ممکن ہو گئی ہے۔ ادارے کے ترجمان جینز لائرکے نے جنیوا میں صحافیوں کو بتایا ہے کہ اقوام متحدہ نے گزشتہ 21 یوم میں بڑے پیمانے پر خوراک، طبی سازوسامان اور پناہ کے لیے درکار اشیا غزہ میں پہنچائی ہیں۔ 

تاہم، ان کا کہنا ہے کہ امدادی ٹیموں کو بعض مخصوص چیزیں غزہ میں لانے کی اجازت نہیں ہے۔ اگر ان کی ترسیل پر پابندی ختم ہو جائے تو تباہ شدہ طبی مراکز سمیت بہت سی جگہوں کی تعمیر و مرمت آسان ہو جائے گی۔ جنگ بندی معاہدے پر عملدرآمد کے حوالے سے ضامنوں کو تمام معلومات تک آگاہی ہونی چاہیے تاہم ان میں اقوام متحدہ شامل نہیں ہے۔

انسانی امداد میں اضافہ

'اوچا' نے بتایا ہے کہ جنگ بندی عمل میں آنے کے بعد غزہ کے 15 لاکھ لوگ انسانی امداد وصول کر چکے ہیں۔ عالمی پروگرام برائے خوراک (ڈبلیو ایف پی) نے علاقے میں 860,000 لوگوں میں خوراک کے پیکٹ، تیار کھانا اور نقد امداد تقسیم کی ہے جبکہ شراکتی ادارے بھی اجتماعی باورچی خانوں کے ذریعے بڑی تعداد میں لوگوں کی غذائی ضروریات کو پورا کر رہے ہیں۔

غزہ بھر میں پانی کے کنوؤں کی مرمت کا کام بھی جاری ہے۔ تاہم بڑے پیمانے پر تباہی اور فاضل پرزہ جات، جنریٹر اور شمسی پینل جیسی سہولیات کی عدم دستیابی کے باعث پانی کی فراہمی میں اضافے کی کوششیں متاثر ہو رہی ہیں۔

اس وقت تقریباً 60 طبی شراکت دار غزہ بھر میں ابتدائی اور ثانوی درجے کی طبی خدمات مہیا کر رہے ہیں۔ جنسی و تولیدی صحت کے لیے اقوام متحدہ کا ادارہ (یو این ایف پی اے) آئندہ تین ہفتوں میں 65 ہزار سے زیادہ لوگوں کو ضروری سہولیات فراہم کرے گا۔

'اوچا' نے بتایا ہے کہ حالیہ طوفان کے نتیجے میں خان یونس اور غزہ کے وسطی علاقوں میں بچوں کی تعلیم و تفریح کے لیے قائم کردہ پانچ جگہیں تباہ ہو گئی ہیں۔ رولینڈو گومز کا کہنا ہے کہ اگرچہ جنگ بندی عمل میں آ چکی ہے لیکن غزہ کی آبادی کو زندگی بحال کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر مدد کی فراہمی بہت ضروری ہے۔