انسانی کہانیاں عالمی تناظر

علم تک سب کی آسان و مساوی رسائی ممکن بنانا ضروری، یو این چیف

سوڈان میں اندرونی طور پر نقل مکانی پر مجبور افراد کے ایک کیمپ میں بچے تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔
© UNICEF/Ahmed Mohamdeen Elfatih سوڈان میں اندرونی طور پر نقل مکانی پر مجبور افراد کے ایک کیمپ میں بچے تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔

علم تک سب کی آسان و مساوی رسائی ممکن بنانا ضروری، یو این چیف

ثقافت اور تعلیم

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے تعلیم کو بنیادی انسانی حق اور فرد و معاشرے کی ترقی کے لیے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ تمام انسانوں کو علم تک آسان اور مساوی رسائی ملنی چاہیے۔

آج منائے جانے والے تعلیم کے عالمی دن پر اپنے پیغام میں انہوں نے کہا ہے کہ ہر فرد کو اپنی مکمل صلاحیتوں سے کام لینے کے قابل بنانے اور سماجی و معاشی ترقی میں تعلیم کا اہم ترین کردار ہے۔ دنیا کو تعلیمی نظام میں انسانیت کو مرکزی اہمیت دینے کا عہد کرنا ہو گا۔

Tweet URL

رواں سال اقوام متحدہ کے تعلیمی، سائنسی و ثقافتی ادارے (یونیسکو) نے اس دن کو مصنوعی ذہانت سے پیدا ہونے والے امکانات اور مسائل سے آگاہی کے لیے مخصوص کیا ہے۔

اس مناسبت سے سیکرٹری جنرل نے کہا ہے کہ حالیہ عرصہ میں ٹیکنالوجی کی ترقی اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے تعلیم کے شعبے میں بہت سے امکانات کے در کھلے ہیں لیکن ان سے کئی طرح کے خطرات نے بھی جنم لیا ہے جن پر قابو پانے کے لیے ٹیکنالوجی کو باضابطہ بنانے کی ضرورت ہے۔

ٹیکنالوجی کا ذمہ دارانہ استعمال

سیکرٹری جنرل نے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں ہونے والی دیگر اختراعات سے طلبہ اور اساتذہ کو اطلاعات اور سیکھنے کے جدید ذرائع تک وسیع رسائی میسر آئی ہے۔ تاہم، مصنوعی ذہانت کے نظام اس قدر طاقتور ہوتے جا رہے ہیں کہ انسانی ارادے اور مشینی عمل میں تال میل باآسانی بگڑ سکتا ہے۔

ادارے کی ڈائریکٹر جنرل آدرے آزولے نے اس ٹیکنالوجی کا ذمہ دارانہ استعمال یقینی بنانے کے لیے اساتذہ اور طلبہ کی تربیت پر مزید سرمایہ کاری کے لیے کہا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر مصنوعی ذہانت کو واضح اخلاقی اصولوں کے تحت سکولوں میں تعلیمی مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے تو اس سے بہت بڑے مواقع کھلیں گے۔ تاہم، ان مواقع سے پوری طرح فائدہ اٹھانے کے لیے ضروری ہےکہ یہ ٹیکنالوجی سیکھنے کی انسانی و سماجی جہتوں کو تبدیل کرنے کے بجائے ان کی تکمیل کرے۔ 

مصنوعی ذہانت پر انسانی اختیار

سیکرٹری جنرل نے کہا ہے، یہ دن اس بات کی یاد دہانی ہے کہ مصنوعی ذہانت کی صلاحیت کو درست سمت میں استعمال کرنے کا دارومدار اس پر انسانی اختیار کو مضبوط کرنے اور اس معاملے میں انسانی حقوق کو برقرار رکھنے پر ہے۔ تمام صارفین کو اس ٹیکنالوجی سے بہتر، محفوظ اور اخلاقی اصولوں کے مطابق کام لینے کے قابل بنانے کے لیے درکار ذرائع اور علم تک رسائی ہونی چاہیے۔

طلبہ اور اساتذہ کو سیکھنے کے عمل میں مصنوعی ذہانت سے کام لینے میں مدد دینے کے لیے یونیسکو کے استعدادی نظام اور حالیہ عرصہ میں منظور کردہ عالمی ڈیجیٹل معاہدے کی بدولت یہ یقینی بنائے جانے کی توقع ہے کہ مصنوعی ذہانت کی تیاری اور انتظام پر انسانی اختیار برقرار رہے گا۔

سکولوں میں ٹیکنالوجی پر پابندیاں

حصول تعلیم کے عمل میں مصنوعی ذہانت کا استعمال بڑھتا جا رہا ہے تاہم، دنیا میں اس کے استعمال پر اتفاق رائے نہیں پایا جاتا۔ یونیسکو کی جاری کردہ تازہ ترین معلومات کے مطابق، بلند آمدنی والے ممالک میں ثانوی درجے کی تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کی دو تہائی سے زیادہ تعداد پہلے ہی تخلیقی مصنوعی ذہانت سے کام لے رہی ہے۔ تاہم، تعلیمی ماہرین کو اس ٹیکنالوجی کے حوالے سے تاحال واضح رہنمائی میسر نہیں ہے۔

مئی 2023 میں یونیسکو کی جانب سے 450 تعلیمی اداروں کے جائزے سے ثابت ہوا تھا کہ صرف 10 فیصد سکولوں اور یونیورسٹیوں کے پاس مصنوعی ذہانت کے استعمال سے متعلق باقاعدہ فریم ورک موجود ہیں۔

کمرہ جماعت میں نئی ٹیکنالوجی پر کئی طرح کی پابندیاں نافذ کرنے والے ممالک کی تعداد بھی بڑھ رہی ہے۔ یونیسکو کے مطابق، اب تقریباً 40 فیصد ممالک نے سکولوں میں موبائل فون کے استعمال پر پابندی سے متعلق پالیسیاں نافذ کر رکھی ہیں۔ جولائی 2023 میں یہ تعداد 24 فیصد تھی۔

اس بارے میں مزید معلومات کے لیے تعلیم کے حق پر اقوام متحدہ کی خصوصی اطلاع کار فریدہ شہید کی بات سنیے جنہوں نے یو این نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے سکولوں میں مصنوعی ذہانت کے کردار اور اس سے پیدا ہونے والے مسائل پر بات چیت کی ہے۔

تعلیم تک رسائی میں رکاوٹیں

تعلیم کا عالمی دن اس بات کی یاددہانی ہے کہ اعلیٰ معیار کی تعلیم تک رسائی ایک انسانی حق ہے جس سے ناصرف افراد بلکہ پورے معاشروں کو فائدہ پہنچتا ہے۔ تاہم، آج بھی لاکھوں بچے صنف، مقام، سماجی پس منظر اور جنگوں سمیت بہت سی وجوہات کے باعث سکول جانے سے محروم ہیں۔

یونیسکو کے مطابق، تعلیمی شعبے میں کئی دہائیوں تک ہونے والی ترقی اور اس بارے میں عالمی عزائم کے باوجود اس وقت دنیا بھر میں 250 ملین بچوں اور نوجوانوں کی تعلیم تک رسائی نہیں ہے۔

عدم تحفظ کا مسئلہ

یونیسکو نے اپنی حالیہ جائزہ رپورٹ میں بتایا ہے کہ دنیا میں کم از کم ایک تہائی طلبہ کو سکول کی تعلیم کے دوران کم از کم ایک مرتبہ جسمانی حملے کا سامنا کرنا پڑا جبکہ 10 فیصد سے آن لائن بدسلوکی ہوئی۔

دنیا بھر میں بہت سے بچوں کو سکولوں یا ان کے قرب و جوار میں تشدد کا خطرہ رہتا ہے جس سے ان کی بہبود، تعلیمی نتائج اور معیار زندگی پر تباہ کن اثرات مرتب ہوتے ہیں۔