لبنان: جنگ کی وجہ سے غذائی عدم تحفظ میں اضافہ، رپورٹ
لبنان میں ایک تہائی آبادی کو شدید غذائی عدم تحفظ کا سامنا ہے جہاں زراعت اور معیشت پر جنگ کے بدترین اثرات کی وجہ سے معاشی بحالی کی رفتار سست ہو گی۔
غذائی تحفظ کے مراحل کی مربوط درجہ بندی (آئی پی سی) کے مطابق ملک میں 16 لاکھ 50 ہزار لوگوں کو بحرانی یا ہنگامی درجے کی بھوک کا سامنا ہے جبکہ 400,000 لوگ شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں۔
عالمی ادارہ خوراک و زراعت (ایف اے او)، عالمی پروگرام برائے خوراک (ڈبلیو ایف پی) اور لبنان کی وزارت زراعت کی تیار کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملک میں 200,000 سے زیادہ لوگوں کو ہنگامی حالات کا سامنا ہے جبکہ گزشتہ سال کے آخر میں اسرائیل اور حزب اللہ کے جنگجوؤں کے مابین جنگ شروع ہونے سے قبل یہ تعداد اس سے نصف تھی۔
تباہی اور بھوک
لبنان میں گزشتہ سال نومبر کے آخر میں طے پانے والی جنگ بندی بڑی حد تک برقرار ہے۔ اس کے نتیجے میں اسرائیل کی فوج اور حزب اللہ کے جنگجو جنوبی لبنان سے واپس چلے گئے ہیں جبکہ علاقے میں قیام امن کی ضمانت کے طور پر اقوام متحدہ کی امن فورس کے ساتھ لبنان کی فوج کو تعینات کیا جا رہا ہے۔
ملک میں 'ڈبلیو ایف پی' کے نمائندے میتھیو ہولنگورتھ نے بتایا ہے شدید غذائی عدم تحفظ حیران کن بات نہیں۔ کئی ماہ تک جاری رہنے والی کشیدگی اور پھر 66 روزہ جنگ کے نتیجے میں لوگوں کی زندگیاں اور روزگار تباہ ہو گئے ہیں۔
ان حالات میں پناہ گزین آبادی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ ملک میں تقریباً 40 فیصد شامی اور فلسطینی پناہ گزینوں کو بحرانی درجے کی بھوک کا سامنا ہے۔
زراعت کا نقصان
2019 کے بعد لبنان کی معیشت 34 فیصد تک سکڑ گئی ہے جہاں زراعت، سیاحت اور تجارت کے شعبوں کی حالت کہیں زیادہ خراب ہے۔ جنگ کے نتیجے میں زرعی زمین اور اثاثوں کو بڑے پیمانے پر تباہی کا سامنا کرنا پڑا اور 12 ہزار ہیکڑ پر کھیت جل گئے جس سے زرعی شعبے کو ایک ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔
ملک میں 'ایف اے او' کی نمائندہ ویرونیکا کواٹرولا نے کہا ہے کہ جنگ سے کسان گھرانوں کے روزگار کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ زرعی اثاثوں اور ڈھانچے کی تباہی کا نتیجہ غذائی عدم تحفظ میں اضافے کی صورت میں برآمد ہوا اور زرعی سرگرمیوں کا استحکام خطرے میں پڑ گیا ہے۔
مہنگائی اور گندم پر امدادی قیمت کے خاتمے نے لوگوں کی قوت خرید کو متاثر کیا ہے جبکہ غذائی قیمتیں بہت سے کمزور خاندانوں کی پہنچ سے باہر ہو گئی ہیں۔ بنیادی ضرورت کی خوراک مہنگی ہو جانے کے باعث لوگ فاقے کرنے یا کم غذائیت والی خوراک کھانے پر مجبور ہیں۔
بچوں میں جسمانی مسائل
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ لبنان میں بچوں اور خواتین کو غذائی قلت کے باعث جسمانی عارضے لاحق ہو رہے ہیں۔ ایک حالیہ جائزے سے اندازہ ہوتا ہے کہ پانچ سال سے کم عمر کے تین چوتھائی بچے انتہائی غیرمتنوع خوراک کھاتے ہیں جس کے باعث انہیں بڑھوتی اور کم وزنی جیسے جسمانی مسائل درپیش ہیں۔
شام کے پناہ گزین بچے ان حالات سے غیرمتناسب طور پر متاثر ہوئے ہیں جن میں عدم بڑھوتری کی شرح قومی اوسط سے کہیں زیادہ ہے۔
عالمی مدد کی ضرورت
'ڈبلیو ایف پی' نے گزشتہ سال لبنان میں 750,000 لوگوں کو غذائی مدد فراہم کی تھی اور رواں سال شام کے 900,000 پناہ گزینوں سمیت 25 لاکھ لوگوں کو مدد دے گا۔ تاہم مالی وسائل کی قلت اور انصرامی مسائل کے باعث جنگ سے متاثرہ علاقوں میں امداد پہنچانے کی راہ میں مشکلات حائل ہیں۔
ویرونیکا کواٹرولا نے کہا ہے کہ 'ایف اے او' کسانوں کو زرعی سرگرمیاں جاری رکھنے میں مدد دینے اور لوگوں کو بحالی اور استحکام میں تعاون فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ لبنان کی وزارت زراعت نے ملک میں زرعی شعبے کی بحالی اور جنگ سے متاثرہ کسانوں کے نقصان کا ازالہ کرنے کے لیے بین الاقوامی مدد کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ملک میں زرعی شعبے کی پائیدار ترقی کے لیے متواتر مدد اور تعاون کی فراہمی ضروری ہے اور اس مقصد کے لیے مضبوط تر شراکتیں قائم کرنا ہوں گی۔
فوری بحالی خارج از امکان
اگرچہ لبنان میں گزشتہ سال نومبر میں جنگ بند ہو گئی تھی لیکن بحالی کے اقدامات سے متعلق تاحال غیریقینی صورتحال برقرار ہے۔ جائزے میں بتایا گیا ہے کہ ملک میں غذائی عدم تحفظ آئندہ تین ماہ تک برقرار رہے گا اور اس معاملے میں بحران سے پہلے کے حالات فوری طور پر واپس آنے کا کوئی امکان نہیں۔
ہولنگورتھ نے کہا ہے کہ اس موقع پر ادارے کا واضح مقصد حکومت اور لوگوں کو زندگیوں اور غذائی نظام کی بحالی میں مدد دینا ہے۔