انسانی کہانیاں عالمی تناظر

گوتیرش لبنان کی نئی سیاسی صورتحال میں استحکام اور ترقی کے لیے پرامید

United Nations سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس ایک پریس کانفرنس میں صحافیوں کے ایک گروپ سے بات کر رہے ہیں۔
UNIFIL/Pasqual Gorriz سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش لبنان کے وزیراعظم نواف سلام کے ساتھ ملاقات کے بعد صحافیوں کے سوالوں کے جواب دے رہے ہیں۔

گوتیرش لبنان کی نئی سیاسی صورتحال میں استحکام اور ترقی کے لیے پرامید

امن اور سلامتی

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے لبنان کے بہتر مستقبل کی امید ظاہر کرتے ہوئے ملک کی نئی حکومت، عوام اور عالمی برادری سے کہا ہے کہ وہ امن کے حالیہ موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے استحکام و ترقی کے لیے کوششیں کریں۔

لبنان کے دو روزہ دورے کے اختتام پر دارالحکومت بیروت میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک کو اپنے ادارے مضبوط بنانے، لوگوں کے تحفظ کی صلاحیت پیدا کرنے اور انہیں ایسا نظام فراہم کرنے کا راستہ ملا ہے جس کی بدولت وہ اپنی پوری صلاحیتیں بروئےکار لا سکتے ہیں۔ تاہم، اس راہ پر بہت سے مسائل بھی ہیں جن پر قابو پانے کے لیے موثر کوششیں درکار ہیں۔

Tweet URL

سیکرٹری جنرل نے اس دورے کے دوسرے روز لبنان کے نومنتخب صدر جوزف عون اور نامزد وزیراعظم نواف سلام سے ملاقات کی۔ اس موقع پر انہوں نے لبنانی عوام سے یکجہتی اور مستقبل کی حکومت کے لیے اقوام متحدہ کی مکمل حمایت کا اظہار کیا۔

امیدیں اور مسائل

انہوں نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے جنوبی لبنان کے اپنے دورے کا تذکرہ بھی کیا جہاں حزب اللہ کے جنگجوؤں اور اسرائیلی فوج کے مابین جنگ بندی بڑی حد تک برقرار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس علاقے میں انہوں جنگ کے بدترین اثرات کا بذات خود مشاہدہ کیا جہاں سے نقل مکانی کرنے والے لوگوں کو واپسی پر اپنے گھر تباہ حالت میں ملے ہیں۔

سیکرٹری جنرل نے کہا کہ تعمیرنو کے حوالے سے ضروریات بہت بڑی ہیں تاہم ان کی تکمیل ناممکن نہیں۔ اقوام متحدہ بحالی کی کوششوں کے لیے لبنان کے حکام اور شراکت داروں کے تعاون سے اپنی مدد میں اضافہ کرے گا۔

انہوں نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ جنگ سے متاثرہ اسرائیلیوں کی روزمرہ زندگی بھی جلد بحال ہو جائے گی۔ 

جنگ بندی برقرار

سیکرٹری جنرل نے دونوں فریقین اور ان پر اثرورسوخ رکھنے والوں پر زور دیا کہ وہ قیام امن سے متعلق وعدوں کی تکمیل یقینی بنائیں اور اس موقع سے باقی ماندہ مسائل حل کرنے کا کام لیں۔

انہوں نے جنگ بندی کے باوجود جنوبی لبنان میں اسرائیل کی جانب سے لوگوں کے گھروں اور عمارتوں کو تباہ کیے جانے اور مہلک فضائی حملوں پر تشویش کا اظہار بھی کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی فوج کی لبنان کے علاقے سے واپسی اور جنوبی لبنان میں ہر جگہ لبنانی مسلح افواج کی تعیناتی ضروری ہے تاکہ سلامتی کونسل کی قرارداد 1701 کی مطابقت سے پائیدار امن یقینی بنایا جا سکے۔

یکجہتی کا جذبہ

انتونیو گوتیرش نے کہا کہ اب خطے میں حالات تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں۔ غزہ میں جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کا معاہدہ طےپانا اور ہمسایہ ملک شام میں سیاسی تبدیلی دو بڑے واقعات ہیں۔

انہوں نے بڑی تعداد میں شام اور فلسطین کے پناہ گزینوں کو طویل عرصہ سے پناہ دینے پر لبنانی حکومت کو سراہتے ہوئے کہا کہ دنیا کو بھی لبنان کے لوگوں سے یکجہتی کے اسی جذبے کا اظہار کرنا چاہیے۔ 

امن کا نیا باب

ملک کے صدر سے ملاقات میں انہوں نے کہا کہ لبنان کے اداروں کو مضبوط بنانا اور ریاست کے لیے اپنے شہریوں کو تحفظ دینے کی صلاحیت پیدا کرنا ممکن ہے۔ اگرچہ مستقبل کے حوالے سے بہت سی اچھی امیدیں ہیں لیکن اس راہ پر بہت سے مشکل کام بھی درپیش ہوں گے جن میں اصلاحات اور وسیع و موثر احتساب بھی شامل ہے اور اقوام متحدہ اس راستے پر لبنان کے لوگوں کا ساتھ دیتا رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ لبنان بھر میں اس کی مسلح افواج کی موجودگی کے نتیجے میں اسرائیلی فوج کی اس کے علاقوں سے مکمل واپسی بھی ممکن ہے اور اسی طرح امن کا نیا باب بھی شروع کیا جا سکتا ہے۔

جنوبی لبنان کا دورہ

سیکرٹری جنرل دورے کے آغاز پر اسرائیل کے ساتھ سرحد کے متوازی 'بلیو لائن' پر تعینات اقوام متحدہ کی امن فورس (یونیفیل) کے ہیڈکوارٹر میں گئے۔ اس موقع پر انہوں نے امن کاروں کی جرات اور عزم کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ انتہائی مشکل ماحول میں اپنا کام کر رہے ہیں جہاں حزب اللہ کے جنگجوؤں اور اسرائیلی فوج کے مابین نازک جنگ بندی بڑی حد تک برقرار ہے۔

سیکرٹری جنرل نے امن کاروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ محض بلیولائن پر ہی نہیں بلکہ امن کے محاذ پر بھی تعینات ہیں۔ یونیفل کا مشن دنیا میں امن کاروں کے لیے مشکل ترین کام ہے۔ 27 نومبر کے بعد امن فورس نے اس علاقے میں حزب اللہ اور دیگر مسلح گروہوں کے جمع کردہ اسلحے کے 100 سے زیادہ ذخائر برآمد کیے ہیں۔

سیکرٹری جنرل نے جنوبی لبنان میں ملکی فوج کے کمانڈر سے بھی بات کی۔ اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ علاقے میں اقوام متحدہ کی موجودگی عارضی ہے اور اس کا مقصد علاقے میں امن و استحکام برقرار رکھنے کے لیے لبنان کی فوج کو مدد دینا ہے جس کے لیے ہرممکن کوشش کی جائے گی۔