انسانی کہانیاں عالمی تناظر

عالمی عدالت انصاف کے صدر نواف سلام نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا

ہیگ میں بین الاقوامی عدالت انصاف میں جج نواف سلام ایک سیشن کی صدارت کر رہے ہیں۔
UN Photo/Frank van Beek نواف سلام عالمی عدالت انصاف (آئی سی جے) کے موجودہ صدر بھی ہیں جو اقوام متحدہ کا اعلیٰ ترین عدالتی ادارہ ہے۔

عالمی عدالت انصاف کے صدر نواف سلام نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا

اقوام متحدہ کے امور

عالمی عدالت انصاف (آئی سی جے) کے صدر نواف سلام آج اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے ہیں۔ اب  وہ لبنان کے نئے وزیراعظم کی حیثیت سے ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔

نواف سلام 2018 سے عدالت میں اپنے فرائض انجام دے رہے تھے اور گزشتہ سال فروری میں اس کے صدر مقرر ہوئے جبکہ ان کی مدت صدارت 2027 میں ختم ہونا تھی۔

Tweet URL

'آئی سی جے' کے شعبہ اطلاعات نے بتایا ہے کہ عدالتی ضابطے کی شق 14 کے تحت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل ان کی جگہ لینے والے نئے صدر کے انتخاب کی تاریخ مقرر کرے گی۔ عدالت کا جج منتخب ہونے کے لیے جنرل اسمبلی اور سلامتی کونسل میں بالترتیب 97 اور 8 ووٹوں کی خالص اکثریت حاصل کرنا ہوتی ہے۔ ضابطے کی شق 15 کے مطابق، نئے صدر سبکدوش ہونے والے نواف سلام کی مدت مکمل کریں گے۔

نواف سلام اس سے پہلے 2007 سے 2017 تک اقوام متحدہ میں لبنان کے مستقل نمائندے کی حیثیت سے کام کر چکے ہیں۔

عالمی عدالت انصاف 15 ججوں پر مشتمل ہے۔ ان میں پانچ کا انتخاب ہر تین سال کے بعد ہوتا ہے جن کے متواتر منتخب ہونے پر کوئی پابندی نہیں۔ ججوں کو ان کی قومیت کے بجائے اہلیت کی بنیاد پر چُنا جاتا ہے تاہم کسی ملک سے دو جج نہیں ہو سکتے۔ عدالت کی ترکیب میں توازن یقین بنانے کی کوشش بھی کی جاتی ہے۔

'آئی سی جے' کیا ہے؟

'آئی سی جے' نیدرلینڈز (ہالینڈ) کے شہر دی ہیگ میں واقع امن محل میں قائم ہے۔ اس کا قیام 1945 میں ممالک کے مابین تنازعات کے تصفیے کی غرض سے عمل میں آیا تھا۔ عدالت ایسے قانونی سوالات پر مشاورتی رائے بھی دیتی ہے جو اقوام متحدہ کے دیگر اداروں کی جانب سے اسے بھیجے جاتے ہیں۔

اسے عام طور پر 'عالمی عدالت' بھی کہا جاتا ہے جو اقوام متحدہ کے چھ بنیادی اداروں میں سے ایک ہے۔ دیگر میں جنرل اسمبلی، سلامتی کونسل، معاشی و سماجی کونسل (ای سی او ایس او سی)، تولیتی کونسل اور سیکرٹریٹ شامل ہیں۔ یہ عدالت ان میں واحد ادارہ ہے جو نیویارک سے باہر قائم ہے۔

یورپی یونین کی عدالت انصاف سے برعکس 'آئی سی جے' دنیا کی قومی عدالتوں کے لیے اعلیٰ ترین عدالت کا درجہ نہیں رکھتی۔ یہ ممالک کے مابین قانونی تنازعات طے کراتی ہے اور صرف اسی وقت کسی تنازع پر سماعت کر سکتی ہے جب ایک یا زیادہ ممالک کی جانب سے اس بارے میں درخواست دی جائے۔