انسانی کہانیاں عالمی تناظر

انسانی حقوق کے کارکنوں کا تحفظ انتہائی ضروری، وولکر ترک

وولکر ترک، United Nations ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق، نیویارک میں UN جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران ایک پوڈیم سے خطاب کر رہے ہیں۔
UN Photo/Eskinder Debebe انسانی حقوق کے لیے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر وولکر ترک۔

انسانی حقوق کے کارکنوں کا تحفظ انتہائی ضروری، وولکر ترک

انسانی حقوق

اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے کہا ہے کہ آج کی بحرانی دنیا میں انسانی حقوق کے محافظوں کا کردار بہت اہم ہے جنہیں ہر طرح کے حالات میں تحفظ ملنا چاہیے۔

برطانیہ میں وزارت خارجہ کے انتظامی ادارے ولٹن پارک میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے بہت سے لوگوں کے لیے یہ محض ایک کام ہی نہیں بلکہ ان حقوق کے فروغ و تحفظ کی پکار بھی ہے۔ یہ لوگ دوسروں کی خدمات کا احساس اور اپنے کام کے بامعنی اثرات کی خواہش لے کر اپنی ذمہ داریاں انجام دیتے ہیں۔

Tweet URL

جنگ زدہ علاقوں سے لے کر بعداز جنگ معاشروں تک یہ لوگ قیدیوں اور تشدد کے متاثرین کو مدد پہنچانے، ہنگامی امداد مہیا کرنے، انسانی حقوق کی پامالیوں کے بارے میں معلومات جمع کرنے اور مسلح تنازعات کی بنیادی وجوہات کو سامنے لانے سمیت بہت سے اہم کام کرتے ہیں۔

حقوق کے محافظوں پر بڑھتے حملے

وولکر ترک نے کہا کہ تنازعات کی روک تھام میں انسانی حقوق کے محافظوں کا اہم کردار ہے اور یہ لوگ وقار، انصاف اور امن کے پیامبر ہوتے ہیں۔ تاہم، اپنے قابل قدر کام کے باوجود انہیں ناقابل قبول طور سے سنگین خطرات کا سامنا ہوتا ہے اور ایسے بعض حملے جنگی جرائم کے مترادف ہیں۔

صحافیوں اور امدادی کارکنوں کا اپنے کام کے دوران ہلاک اور اغوا ہونا، انہیں ہراساں کرنا اور قید کیا جانا عام ہوتا جا رہا ہے۔ان حالات میں خواتین کے لیے خطرہ کہیں زیادہ ہے جنہیں عام طور پر جنسی تشدد، آن لائن خطرات اور ان کے خاندانوں کو آن لائن دھمکیوں اور دیگر خطروں کا سامنا رہتا ہے۔

وولکر ترک نے انسانی حقوق کے محافظوں کو تحفظ دینے کی اہمیت واضح کرتے ہوئے کہا کہ یہ ناصرف اخلاقی لازمہ بلکہ انصاف اور امن کے حصول کی جانب ایک اہم قدم بھی ہے۔

ڈیجیٹل خطرات

ہائی کمشنر نے اختلافی آواز اٹھانے والوں سے مجرموں جیسا سلوک کیے جانے، پرامن احتجاج کو بزور طاقت دبانے اور غیرسرکاری اداروں/تنظیموں پر پابندیوں کو تشویش ناک رجحان قرار دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ایسے واقعات کے باعث انسانی حقوق کے محافظوں کو جلاوطنی اختیار کرنا پڑتی ہے اور وہ نئی طرز کے ظلم اور جبر کا نشانہ بنتے ہیں جس میں آن لائن نگرانی بھی شامل ہے۔

انہوں نے متنبہ کیا کہ انسانی حقوق کے محافظوں کے کام اور تحفظ پر ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے مکمل اثرات تاحال نامعلوم ہیں اور جدید طرز کے ان خطرات سے فوری طور پر نمٹنا ضروری ہے۔

ٹھوس اقدامات کی ضرورت

وولکر ترک نے حکومتوں پر زور دیا کہ وہ انسانی حقوق کے محافظوں اور سول سوسائٹی کے اداروں کو تحفظ دینے کے لیے باوسائل نظام قائم کریں اور ان لوگوں کو سرحد پار تحفظ کی فراہمی یقینی بنائیں۔ ابھرتے ہوئے خطرات پر قابو پانے کے لیے فوری اقدامات خاص اہمیت رکھتے ہیں۔

انسانی حقوق کا تحفظ کرنے والے غیرسرکاری اداروں/تنطیموں کو سرکاری سطح پر مدد دی جانی چاہیے اور ان لوگوں کو دہشت گرد، غیرملکی ایجنٹ یا غدار قرار دینے کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔

ہائی کمشنر کا کہنا تھا کہ ہر جگہ انسانی حقوق کے محافظوں کو آزادانہ اور محفوظ طور سے کام کی سہولت فراہم کرنے کے لیے ہرممکن اقدامات کرنا ہوں گے۔