انسانی کہانیاں عالمی تناظر

لبنان: صدر کا انتخاب ملکی استحکام کی طرف پہلا قدم، پلاشرٹ

سلامتی کونسل کے اجلاس کے دوران جینین ہینس-پلاسچیرٹ مائیکروفون پر بول رہی ہیں۔
UN Photo/Eskinder Debebe لبنان کے لیے اقوام متحدہ کی خصوصی رابطہ کار جینائن ہینز پلاشرٹ۔

لبنان: صدر کا انتخاب ملکی استحکام کی طرف پہلا قدم، پلاشرٹ

اقوام متحدہ کے امور

لبنان کے لیے اقوام متحدہ کی خصوصی رابطہ کار جینائن ہینز پلاشرٹ نے لبنان کے نومنتخب صدر جوزف عون کو عہدہ سنبھالنے پر مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدارتی عہدے پر انتخاب ملکی استحکام کی جانب پہلا قدم ہے جس کا طویل عرصہ سے انتظار تھا۔

جوزف عون لبنان کی فوج کے سابق سربراہ ہیں جنہوں نے صدر منتخب ہونے سے پہلے یہ عہدہ چھوڑ دیا تھا۔ ان کا انتخاب ملکی پارلیمان میں رائے شماری کے دو ادوار کے بعد ہوا ہے۔

Tweet URL

رابطہ کار نے صدر کے انتخاب کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہ ہے کہ اس پیش رفت کے بعد ملک میں سیاسی و ادارہ جاتی خلا پر ہو گا اور ریاستی ادارے فعال ہوں گے جس کا براہ راست فائدہ ملکی عوام کو پہنچے گا۔

نئی حکومت کی فوری تشکیل پر زور

رابطہ کار کا کہنا ہے کہ اب ملک میں وزیراعظم کی بلاتاخیر نامزدگی اور حکومت کا قیام ضروری ہے۔ لبنان کی ریاست کو بہت سے اہم کام کرنے ہیں جن کی تکمیل کے لیے مزید وقت ضائع کرنے کی کوئی گنجائش نہیں۔

انہوں نے واضح کیا ہے کہ اب ملک میں ہر فیصلہ ساز کو اپنے تمام ذاتی و سیاسی مفادات ایک طرف رکھتے ہوئے لبنان کے مفاد کو ترجیح دینا ہو گی۔

نئی امیدیں اور مواقع

جینائن ہینز پلاشرٹ نے کہا ہے کہ ملک کے صدر کا انتخاب ہونے سے جنگ بندی کو مضبوط کرنے اور ملکی سلامتی و استحکام کو برقرار رکھنے کے معاملے میں نئی امید اور مواقع سامنے آئے ہیں۔ اس پیش رفت کی بدولت لبنان بھر میں ریاستی اختیار بھی مضبوطی پائے گا اور جامع و پائیدار اصلاحات کو فروغ دینے میں مدد ملے گی۔

انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ صدر جوزف عون اور دیگر متعلقہ حکام کے ساتھ کام کرنے کا منتظر ہے تاکہ لبنان کو امن و استحکام کی جانب بامعنی اور واضح قدم اٹھانے میں مدد دی جا سکے۔

مسیحی صدر

لبنان کے آئین میں صدارتی عہدہ مسیحی آبادی کے نمائندوں کے لیے مخصوص ہے۔ اکتوبر 2022 میں صدر مائیکل عون کی مدت صدارت ختم ہونے کے بعد سیاسی عدم استحکام کے باعث نئے صدارتی انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں ہو سکا تھا۔

کسی امیدوار کو صدر منتخب ہونے کے لیے ملک کی 128 رکنی پارلیمان میں 86 ووٹوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ جوزف عون رائے شماری کے پہلے دور میں مطلوبہ تعداد میں ووٹ نہیں لے سکے تھے، البتہ دوسرے دور میں وہ 99 ووٹ لے کر کامیاب ہو گئے۔