انسانی کہانیاں عالمی تناظر

خطرناک سمندری سفروں پر نکلے روہنگیاؤں کے تحفظ کی درخواست

سمندر میں روہنگیا پناہ گزینوں اور یو این ایچ سی آر امدادی کارکنوں کو لے جانے والی کشتی
© UNHCR/Amanda Jufrian سال 2024 میں 7,800 سے زیادہ روہنگیا نے کشتیوں کے ذریعے میانمار سے نقل مکانی کی تھی اور یہ تعداد 2023 کے مقابلے میں 80 فیصد زیادہ تھی۔

خطرناک سمندری سفروں پر نکلے روہنگیاؤں کے تحفظ کی درخواست

مہاجرین اور پناہ گزین

پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے (یو این ایچ سی آر) نے رکن ممالک سے کہا ہے کہ وہ حالیہ دنوں میانمار سے نقل مکانی کرنے والے سیکڑوں بے ریاست روہنگیا لوگوں کی زندگی کو تحفظ دینے کے اقدامات کریں۔

اطلاعات کے مطابق 460 روہنگیا مردوخواتین اور بچے پناہ کی تلاش میں سمندری سفر کر کے تین اور پانچ جنوری کو ملائشیا اور انڈونیشیا پہنچے ہیں۔ اس دوران 10 افراد کی سمندر میں ہلاکت ہو گئی تھی۔ تین ہفتے قبل 115 روہنگیا کشتی کے ذریعے سری لنکا کے ساحل پر آئے تھے جنہوں نے دوران سفر چھ افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاع دی تھی۔

Tweet URL

ایشیا اور الکاہل کے لیے 'یو این ایچ سی آر' کی ریجنل ڈائریکٹر ہائی کونگ جون نے کہا ہے کہ زندگیوں کا تحفظ پہلی ترجیح ہونی چاہیے۔ خطے کی حکومتوں کی جانب سے سمندر میں بھٹکتے روہنگیا لوگوں کو پناہ دینے کے اقدامات قابل ستائش ہیں۔ ادارہ اس ضمن میں کی جانے والی کوششوں میں ہرممکن مدد دینے کے لیے تیار ہے۔

خطرناک سمندری سفر

مون سون کا موسم ختم ہونے کے بعد خطے کے ممالک میں روہنگیا پناہ گزینوں کی آمد میں اضافہ ہو گیا ہے۔ اس موسم میں سمندر پرسکون اور سفر کے لیے سازگار ہوتا ہے۔ 2024 میں 7,800 سے زیادہ روہنگیاؤں نے کشتیوں کے ذریعے میانمار سے نقل مکانی کی تھی اور یہ تعداد 2023 کے مقابلے میں 80 فیصد زیادہ تھی۔

گزشتہ سال 650 سے زیادہ روہنگیا سمندری سفر کے دوران ہلاک یا لاپتہ ہوئے۔ پناہ کی تلاش میں نکلنے والے ان لوگوں میں 44 فیصد تعداد بچوں کی تھی جبکہ 2023 میں یہ تناسب 37 فیصد تھا۔ 2024 میں نقل مکانی کرنے والے ان لوگوں میں خواتین کی تعداد بھی بڑھ کر تقریباً ایک تہائی تک جا پہنچی تھی۔

علاوہ ازیں، گزشتہ سال ہزاروں لوگ مون سون کے شدید موسم میں زندگی کا خطرہ مول لیتے ہوئے دریائے ناف کو عبور کر کے بنگلہ دیش گئے۔ بہت سے لوگوں نے میانمار سے براہ راست بنگلہ دیش کا سفر کیا جبکہ سیکڑوں لوگوں نے بنگلہ دیش میں پناہ گزین کیمپ چھوڑ کر اچھے مستقبل کی تلاش میں دیگر ممالک کی جانب خطرناک سمندری سفر بھی اختیار کیا۔ متعدد واقعات میں مختلف ممالک کی سمندری فورسز نے پناہ گزینوں کی کشتیوں کو ساحل پر پہنچنے سے روکا جس سے لوگوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ گئیں۔

نقل مکانی کے اسباب کا تدارک

انہوں نے کہا ہے کہ اپنی سرحدوں کا انتظام کرنا اور غیرقانونی نقل و حرکت کو روکنا ممالک کا قانونی حق ہے تاہم اس حق کو استعمال کرتے ہوئے پناہ گزینوں کا تحفظ یقینی بنانا بھی ضروری ہے۔ تمام ممالک کو چاہیے کہ وہ سمندر میں بھٹکتے روہنگیا پناہ گزینوں کی تلاش اور ان کی زندگی بچانے کی کارروائیاں جاری رکھیں اور انہیں اپنے ساحلوں پر لا کر ضروری مدد اور تحفظ فراہم کریں۔

'او ایچ سی ایچ آر' نے کہا ہے کہ میانمار میں خانہ جنگی کے باعث آئندہ عرصہ میں بڑی تعداد میں لوگوں کی نقل مکانی متوقع ہے۔ خطے کے ممالک کو ان لوگوں کی مدد کے لیے ٹھوس تعاون اور منصوبہ بندی کرنا ہو گی جبکہ آسیان کے پلیٹ فارم پر اور بالی طریقہ کار کے ذریعے غیرقانونی سمندری نقل و حرکت کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے پہلے ہی متعدد اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔

ادارے نے رکن ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ سمندر میں لوگوں کو تحفظ دیں، پناہ گزینوں کی امدادی ضروریات پوری کریں اور ان کے خلاف جھوٹے بیانیوں اور نفرت کے اظہار کو روکیں۔ میانمار میں لڑائی کو روکنے اور نقل مکانی کی بنیادی وجوہات سے نمٹنے کے لیے بڑے پیمانے پر عالمی اور علاقائی اقدامات بھی ضروری ہیں اور اسی صورت پناہ گزینوں کو رضاکارانہ، محفوظ اور باوقار طریقے سے ان کے ملک میں واپس بھیجا جا سکتا ہے۔