انسانی کہانیاں عالمی تناظر

لبنان: متاثرین جنگ کے لیے 371.4 ملین ڈالر اضافی امداد کی اپیل

2024 کی جنگ بندی کے بعد ٹائر، جنوبی لبنان میں تباہ شدہ عمارتیں اور ملبہ۔ لوگ منہدم ڈھانچے کے ملبے سے تلاش کر رہے ہیں۔
© UNICEF/Fouad Choufany جنوبی لبنان میں لوگ اسرائیلی بمباری میں تباہ ہونے والے اپنے گھروں کے ملبے سے اپنا قیمتی سامان تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

لبنان: متاثرین جنگ کے لیے 371.4 ملین ڈالر اضافی امداد کی اپیل

انسانی امداد

اقوام متحدہ اور لبنان کی حکومت نے کہا ہے کہ ملک میں حالیہ جنگ اور انسانی بحران سے متاثرہ لوگوں کو ضروری مدد فراہم کرنے کے لیے مزید 371.4 ملین ڈالر درکار ہیں۔

لبنان کے نائب وزیراعظم سعدی الشامی اور ملک میں اقوام متحدہ کے امدادی رابطہ کار عمران رضا نے بتایا ہے کہ طلب کردہ اضافی امدادی وسائل سے رواں سال مارچ تک کی ضروریات پوری کی جائیں گی۔

Tweet URL

ان وسائل سے لبنان کے شہری، شام اور فلسطین سے تعلق رکھنے والے پناہ گزین اور تارکین وطن استفادہ کریں گے جبکہ انسانی بحران پر قابو پانے کے منصوبے کی تکمیل ہو گی جس کے تحت لوگوں کو انسانی امداد فراہم کرنے کے ساتھ استحکام لانے کے اقدامات بھی اٹھائے جانا ہیں۔

اس ضمن میں خوراک کی فراہمی، موسم سرما کی مخصوص ضروریات کے حوالے سے مدد مہیا کرنے، ہنگامی تعمیر ومرمت، شہریوں کو تحفظ دینے اور صحت، پانی و تعلیم کی سہولیات بہتر بنانے پر خاص توجہ دی جائے گی۔

بدترین سال

عمران رضا نے بتایا ہے کہ گزشتہ 15 سال سے ملک کو سنگین بحرانوں کا سامنا ہے لیکن 2024 ملک کی تاریخ کا ایک بدترین سال تھا جس میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی۔ اکتوبر 2023 میں اسرائیل اور لبنانی عسکری تنظیم حزب اللہ کے مابین شروع ہونے والی کشیدگی اور پھر ستمبر کے اواخر سے نومبر کے اوائل تک فریقین کی جنگ میں چار ہزار سے زیادہ لوگ ہلاک اور 16 ہزار زخمی ہوئے جبکہ 10 لاکھ سے زیادہ لوگوں نے نقل مکانی کی۔

گھروں، اہم تنصیبات اور ضروری خدمات کی تباہی نے جنگ سے متاثرہ لوگوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ جنگ بند ہو جانے کے باوجود ایک لاکھ 25 ہزار سے زیادہ لوگ بے گھر ہیں اور اپنے علاقوں میں واپس آنے والے ہزاروں لوگوں کو نئے سرے سے زندگی شروع کرنے میں کڑی مشکلات درپیش ہیں۔

جنگ کے نفسیاتی اثرات

لبنان کے وزیر ماحولیات اور حکومت کی ہنگامی کمیٹی کے رابطہ کار نصر یاسین نے بتایا ہے کہ انسانی امداد کی فراہمی کے ساتھ لبنان کے اداروں اور سرکاری شعبے کو بنیادی اور سماجی خدمات برقرار رکھنے کے لیے بھی ضروری مدد درکار ہے۔ مقامی حکومتوں کو اپنا کام جاری رکھنے کے لیے ہنگامی بنیاد پر مالی وسائل کی ضرورت ہے کیونکہ جنگ کے باعث سب سے زیادہ بوجھ انہی کو جھیلنا پڑا ہے۔

مادی تباہی کے علاوہ لاکھوں لوگوں بالخصوص بچوں پر جنگ کے نفسیاتی اثرات بھی بہت گہرے ہیں جنہیں زائل ہونے میں کئی سال درکار ہوں گے۔

اقوام متحدہ کا ادارہ برائے اطفال (یونیسف) شام سے واپس آنے والے پناہ گزین خاندانوں کو خوراک اور دیگر ضروری مدد فراہم کر رہا ہے۔ملک میں یونیسف کے نمائندے اخیل ایار نے کہا ہے کہ لبنانی ہلال احمر جیسے متعدد شراکت داروں کے تعاون سے بہت سی جگہوں پر لوگوں میں امدادی سامان تقسیم کیا جا رہا ہے۔

شفاف اقدامات کا وعدہ

ان کا کہنا ہے کہ لبنان کی حکومت مربوط، شفاف اور جوابدہ اقدامات اٹھانے کے لیے پرعزم ہے جسے موسم سرما کی ضروریات اور بحالی کے اقدامات کے لیے عالمی برادری کا مزید تعاون درکار ہے۔

نائب وزیراعظم نے بتایا ہے کہ حکومت فوری امدادی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ بحالی کی طویل مدتی حکمت عملی پر کام کرنا چاہتی ہے اور یہ کام موثر و شفاف انداز میں ہو گا۔