چین میں ایچ ایم پی وی وائرس کا پھیلاؤ غیر معمولی نہیں، ڈبلیو ایچ او
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے بتایا ہے کہ چین میں 'ایچ ایم پی وی' وائرس کا پھیلاؤ 'غیرمعمولی' نہیں بلکہ یہ معلوم اور عام وائرس ہے جو ہر سال موسم سرما میں بہت سے لوگوں کو نشانہ بناتا ہے اور اس پر چند احتیاطی تدابیر سے قابو پایا جا سکتا ہے۔
ادارے نے یہ وضاحت ایسی خبریں آنے پر جاری کی ہے جن میں کہا جا رہا ہے کہ چین میں 'ایچ ایم پی وی' کے پھیلاؤ میں غیرمعمولی اضافہ ہوا ہے اور یہ بیماری کووڈ۔19 کی طرح وبا کی صورت اختیار کر سکتی ہے۔
ادارے کا کہنا ہے کہ، چین میں سانس کی بیماریوں میں مبتلا افراد کی تعداد اتنی ہی ہے جتنی عام طور پر ہر موسم سرما میں ہوتی ہے۔ گزشتہ سال کے مقابلے میں اس وقت ان بیماریوں کے باعث ہسپتال میں داخل ہونے والے مریضوں کی تعداد کم ہے۔
'ڈبلیو ایچ او' نے یہ بات چین میں بیماریوں پر قابو پانے اور ان کی روک تھام کے مرکز (سی ڈی سی۔چین) کی 2 جنوری کو جاری ہونے والی رپورٹ اور چین کے طبی حکام سے ہونے والی ملاقاتوں کے نتیجے میں سامنے آنے والی معلومات کی بنیاد پر کہی ہے۔چین کے حکام نے واضح کیا ہے کہ ملک میں سانس کی کسی بیماری کے حوالے سے کوئی ہنگامی صورتحال نہیں ہے۔
موسمی انفلوائنزا کا پھیلاؤ
عالمی ادارہ صحت نے بتایا ہے کہ چین میں انفلوئنزا جیسی اور سانس کی شدید بیماریوں کی نگرانی کا نظام موجود ہے۔ 'سی ڈی سی' کی جانب سے جاری کردہ معلومات کے مطابق ملک میں ان بیماریوں کا سبب بننے والے جرثوموں کے بارے میں تمام معلومات دستیاب ہیں جن میں انفلوئنزا وائرس، آر ایس وی، ایچ ایم پی وی اور سارس۔سی او وی۔2 (جو کووڈ۔19 کا سبب بنتا ہے) شامل ہیں۔
'سی ڈی سی' نے اس وقت جن جرثوموں کے پھیلاؤ کی اطلاع دی ہے ان میں موسمی انفلوائنزا سب سے زیادہ عام ہے اور اس کے پھیلاؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ دسمبر کے آخر تک اس بیماری کا ٹیسٹ کرانے والوں میں 30 فیصد لوگ ایسے تھے جن میں اس وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہوئی۔ چین کے حکام نے تصدیق کی ہے کہ حالیہ دنوں ملک میں 'ایچ ایم پی وی' کے پھیلاؤ میں اضافہ ضرور ہوا ہے لیکن ایسا ہر موسم سرما میں ہوتا ہے۔
'ایچ ایم پی وی' وائرس
'ڈبلیو ایچ او' کے زیراہتمام عالمی سطح پر انفلوئنزا کی نگرانی اور اس کے خلاف اقدامات کے نظام (جی آئی ایس آر ایس) نے شمالی کرے میں اس بیماری کے قدرے زور پکڑنے کی اطلاع دی ہے۔ ایشیا، یورپ اور افریقہ کے بعض حصے اور غرب الہند کے چند ممالک میں اس کا پھیلاؤ دیگر کے مقابلے میں زیادہ ہے۔
'ڈبلیو ایچ او' کے مطابق، 'ایچ ایم پی وی' کوئی نیا وائرس نہیں ہے۔ اسے 2001 میں دریافت کیا گیا تھا۔ یہ عام وائرس ہے جو موسم سرما اور بہار میں پھیلتا ہے۔ اس سے متاثرہ افراد میں عام طور پر نزلہ زکام جیسی علامات ظاہر ہوتی ہیں۔ تاہم، بچوں اور معمر افراد سمیت جن لوگوں کا جسمانی مدافعتی نظام کمزور ہو انہیں اس سے نمونیہ ہو سکتا ہے اور وہ پھیپھڑوں کی شدید انفیکشن میں بھی مبتلا ہو سکتے ہیں۔
احتیاطی تدابیر
ادارے کا کہنا ہے کہ موسم سرما میں بیماری کی صورت میں گھر پر آرام کرنے، پرہجوم جگہوں پر چہرے کا ماسک پہننے، رہنے کی جگہ پر ہوا کے گزر کا بہتر انتظام کرنے، کھانسی یا چھینک آنے کی صورت میں منہ پر ٹشو پیپر یا کپڑا رکھنے، باقاعدگی سے ہاتھ دھونے اور معالج کی تجویز کردہ ویکسین لینے کی صورت میں اس وائرس کا پھیلاؤ روکا جا سکتا ہے۔
'ڈبلیو ایچ او' نے معمر یا کمزور مدافعتی نظام کے حامل افراد کے لیے بیماری کی صورت میں مناسب طبی نگہداشت کی تجویز دی ہے۔