انسانی کہانیاں عالمی تناظر

شام میں دستوری اصلاحات اور منصفانہ انتخابات کی اہمیت پر زور

UN UN نشانات والی سفید SUVs کا ایک قافلہ شام کے ایک دھول آلود کھلے علاقے میں جمع ہے، جس کے قریب کئی لوگ کھڑے ہیں۔
© UNOCHA/Bilal Alhammoud شام کے علاقے حلب میں اقوام متحدہ کے اہلکار مصروف عمل ہیں۔

شام میں دستوری اصلاحات اور منصفانہ انتخابات کی اہمیت پر زور

امن اور سلامتی

شام کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے جیئر پیڈرسن نے کہا ہے کہ سلامتی کونسل کی قرارداد 2254 کی مطابقت سے ملک میں دستوری اصلاحات، آزادانہ و منصفانہ انتخابات اور شام کے لوگوں کی قیادت میں مشمولہ سیاسی عمل کی ضرورت ہے۔

جیئر پیڈرسن ان دنوں عالمی رہنماؤں سے شام میں سیاسی تبدیلی اور ملکی مستقبل کے حوالے سے بات چیت کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں انہوں نے فرانس اور جرمنی کے حکام کے علاوہ روس کے نائب وزیر خارجہ سرگئی ورشینن سے بھی ملاقاتیں کی ہیں۔

اقوام متحدہ کی ترجمان فلورنسیا سوتو نینو مارٹینز نے نیویارک میں صحافیوں کو بتایا ہے کہ جیئر پیڈرسن آئندہ سال کے آغاز پر شام کا دوسرا دورہ بھی کریں گے۔

عدم تحفظ اور غذائی امداد

امدادی اداروں کے مطابق گزشتہ ہفتے شام کے شہر حلب، حمص، حمہ، لاطاکیہ، طرطوس، دیہی دمشق، دیرالروز اور القنیطرہ میں کشیدگی اور عدم تحفظ کی صورتحال برقرار رہی۔

ترجمان نے بتایا ہے کہ سلامتی کے حوالے سے مخدوش حالات کے باعث متعدد علاقوں میں امدادی کارروائیاں معطل کر دی گئی ہیں۔گزشتہ مہینے شام بھر میں 17 لاکھ ضرورت مند لوگوں کو غذائی امداد کے طور پر روٹی مہیا کی گئی۔ اس دوران مجموعی طور پر 265,109 لوگوں کو دیگر غذائی مدد بھی دی گئی جس میں راشن، تیار کھانا اور خام خوراک شامل ہے۔

اگرچہ ملک کے بیشتر علاقوں میں تعلیمی ادارے دوبارہ کھل گئے ہیں لیکن دیہی حمہ، دیہی القنیطرہ، لاطاکیہ اور طرطوس سکولوں میں بچوں کی حاضری بہت کم ہے۔

UN خصوصی ایلچی گیئر پیڈرسن مائیکروفونز اور کیمروں سے گھرے دمشق میں پریس سے بات کر رہے ہیں۔
Tahseen Saour شام کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے جیئر پیڈرسن اپنے حالیہ دورہ دمشق کے دوران صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے۔۔

لبنان میں بے گھری کا بحران

اقوام متحدہ اور اس کے شراکت دار شام کے ہمسایہ ملک لبنان میں نقل مکانی کرنے والے لوگوں کو واپسی میں مدد دے رہے ہیں۔ عالمی ادارہ مہاجرت (آئی او ایم) کے مطابق، 27 نومبر کو جنگ بندی کا اعلان ہونے کے بعد آٹھ لاکھ سے زیادہ لوگوں کی اپنے گھروں کو واپسی ہو چکی ہے جبکہ ایک لاکھ 60 ہزار لوگ تاحال بے گھر ہیں۔

امدادی حکام نے بتایا ہے کہ ملک میں شہری تنصیبات کی تباہی، ضروری خدمات کی فراہمی معطل ہونے اور سلامتی کے خدشات کے باعث لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ بہت سے لوگ اپنے گھر تباہ ہو جانے کے باعث واپسی اختیار نہیں کر سکتے۔ جنوبی لبنان کے 60 سے زیادہ دیہاتوں میں لوگوں کی واپسی نہیں ہو سکی کیونکہ اسرائیل کی فوج نے انہیں وہاں آنے سے روک رکھا ہے۔

اقوام متحدہ نے لبنان کے لیے 426 ملین ڈالر کے امدادی وسائل کی اپیل کی ہے جن میں سے فی الوقت 78 فیصد ہی مہیا ہو پائے ہیں جبکہ ضروریات تاحال بہت زیادہ ہیں۔