جنسی و تولیدی حقوق کے حوالے سے 2024 میں حاصل ہونے والے 5 اہم سبق
نیا سال نئی امیدیں لاتا ہے لیکن سبھی کے خواب ایک سے نہیں ہوتے۔ جنگ زدہ لوگ امن و استحکام، نوجوان لڑکیاں تشدد و بدسلوکی سے پاک مستقبل اور حاملہ خواتین محفوظ زچگی کی امید رکھتی ہیں۔ یہ تمام خواب تعبیر پا سکتے ہیں لیکن اس کے لیے گزرے سال سے سیکھنا ضروری ہے۔
ذیل میں جانیے کہ 2024 سے ہم نے کیا سیکھا اور 2025 کو سبھی کے لیے مزید پرامن اور خوشحال برس کیسے بنایا جا سکتا ہے؟
اتحاد کی ضرورت
2024 کے دوران عالمی حدت میں اضافے سے لے کر جنگوں اور بحرانوں کے باعث بڑی تعداد میں لوگوں کے بے گھر ہونے تک دنیا بھر میں بہت سے خطرناک ریکارڈ ٹوٹے۔ پہلے کی طرح اس برس بھی ان خطرات سے نمٹنے کے معاملے میں پائی جانے والی بین الاقوامی تقسیم کا سب سے زیادہ نقصان خواتین اور لڑکیوں کو ہوا۔
جمہوریہ کانگو، ہیٹی، سوڈان، غزہ، یوکرین، یمن اور دیگر بہت سی جگہوں پر جاری جنگوں میں خواتین کے خلاف جنسی زیادتی اور تشدد کو جنگی ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا۔ ان علاقوں میں ہزاروں حاملہ خواتین نقل مکانی پر مجبور ہوئیں جنہیں ہولناک بھوک اور جان کے خطرے کا سامنا رہا۔
حمل اور زچگی ہنگامی حالات میں رک نہیں سکتے۔ انسانی حقوق سرحدوں سے ماورا ہوتے ہیں اور انہیں قدرتی آفات میں پس پشت نہیں ڈالا جا سکتا۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے حقوق کو عالمی برادری کا 'دھڑکتا دل' قرار دیا ہے جن کے تحفظ میں دنیا کی اجتماعی بے عملی اب اس معاملے میں کثیرفریقی تعاون کو ترجیح بنانے کا تقاضا کرتی ہے۔
ترقی کی راہ کا تحفظ
تیس سال پہلے آبادی اور ترقی کے موضوع پر قاہرہ میں منعقدہ کانفرنس میں دنیا بھر کے مندوبین نے اس بنیادی سچائی پر اتفاق کیا تھا کہ پائیدار ترقی کے لیے صنفی مساوات اور جنسی و تولیدی حقوق ضروری ہیں۔
اس موقع پر خواتین اور لڑکیوں کو بااختیار بنانے، زچگی میں اموات اور نوعمری کے حمل میں ایک تہائی کمی لانے اور جدید مانع حمل استعمال کرنے والی خواتین کی تعداد دو گنا بڑھانے کے لیے حالات کو سازگار بنانے کے فیصلے لیے گئے تاکہ حقوق کی تکمیل ہو اور زندگیوں کو تحفظ ملے۔
اگرچہ دنیا میں پائی جانے والی تقسیم کے سبب اس معاملے میں اب تک حاصل ہونے والی کامیابیوں کو خطرہ لاحق ہے، تاہم حقوق کے کارکن اور پالیسی ساز مزید پیش رفت کے لیے ثابت قدم ہیں۔ خواتین اہم فیصلے لے رہی ہیں اور اپنے حقوق حاصل کر رہی ہیں۔ اقوام متحدہ کا فنڈ برائے آبادی (یو این ایف پی اے) ان کے ساتھ کھڑا ہے اور مانع حمل اشیا، ویکسین اور دائیوں تک رسائی، صنفی بنیاد پر ہونے والے تشدد سے تحفظ اور زندگی کے لیے دیگر ضروری مدد کے حصول میں انہیں مدد دے رہا ہے۔
پس ماندگی اور اخراج
اگرچہ اس معاملے میں گزشتہ تین دہائیوں کے عرصہ میں نمایاں کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں تاہم ان سے معاشرے کے سب سے زیادہ بااستحقاق لوگوں کو غیرمتناسب فوائد ملے ہیں۔ عالمگیر آبادی کی صورتحال سے متعلق رواں سال کی رپورٹ میں کئی طرح کی پس ماندگی اور تفریق کی نشاندہی کی گئی ہے جس کے باعث لاکھوں خواتین اور لڑکیاں ترقی کے ثمرات سے محروم ہیں۔
یہ عدم مساوات نظام صحت اور معاشی، سماجی و سیاسی اداروں میں دیکھی جا سکتی ہے جس کے باعث بہت سی خواتین اور لڑکیاں بنیادی جنسی و تولیدی صحت اور حقوق سے محروم رہتی ہیں۔
آئندہ 30 برس میں سبھی کو ترقی کے ثمرات سے مستفید کرنے کے لیے ایک نئی دنیا کا تصور درکار ہے جس میں عدم مساوات پر قابو پایا جا سکے۔ اس کا مطلب صحت کے حوالے سے ایسے پروگرام وضع کرنا ہے جن کے ذریعے منظم طبی تفریق کا خاتمہ ہو سکے۔
اس کا مطلب وسیع تر اوسط کے ذریعے انسانی تجربے کو ماپنے کے بجائے مختلف معلومات کو الگ کر کے دیکھنے کی اہمیت کو سمجھنا بھی ہے۔ تمام لوگوں کے لیے جنسی و تولیدی صحت کے حقوق یقینی بنانے کے لیے ان لوگوں کی آوازوں اور تجربات کو بطور خاص مدنظر رکھنا ہو گا جنہیں ناصرف پیچھے چھوڑ دیا جاتا ہے بلکہ پرے دھکیل دیا جاتا ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ دنیا کو یہ احساس کرنا ہو گا کہ افراد کے حقوق اور بہبود کو فروغ دینے سے ہی اجتماعی بہبود ممکن ہے۔
نئے تصورات کی ضرورت
رواں سال 'یو این ایف پی اے' کی تحقیق سے ایک واضح حقیقت سامنے آئی ہے کہ دنیا زچگی کی اموات کا مکمل خاتمہ کرنے، سبھی کے لیے خاندانی منصوبہ بندی کی سہولت یقینی بنانے اور ہر جگہ صنفی بنیاد پر تشدد کا قلع قمع کرنے کے اہداف سے کوسوں دور ہے۔ کبھی اس معاملے میں تیزرفتار ترقی دیکھنے کو مل رہی تھی جو اب سست پڑ گئی ہے اور بعض جگہوں پر صورتحال پہلے سے بھی زیادہ خراب ہے۔ اس کی وجہ کیا ہے؟
دراصل عالمی موسمیاتی بحران، جنگیں اور خواتین، لڑکیوں اور دیگر پس ماندہ سماجی گروہوں کو محکوم بنانے کی روایات اور طور طریقوں کا دوبارہ تقویت پانا اس کی بڑی وجوہات ہیں۔ ان سے صحت کو نقصان ہو رہا ہے، حقوق پامال ہو رہے ہیں اور نابرابری بڑھتی جا رہی ہے۔
'یو این ایف پی اے' کی تحقیق میں ایسی اختراعات کی نشاندہی بھی کی گئی ہے جن کی بدولت لاکھوں کروڑوں لوگوں کو فائدہ ہو سکتا ہے اور ان کے حقوق اور انتخاب کو وسعت دی جا سکتی ہے۔
مثال کے طور پر معاون تولیدی ٹیکنالوجی کے ذریعے ان لوگوں کو اپنی خواہش کے مطابق خاندان بنانے میں مدد مل رہی ہے جو بانجھ پن کے باعث اس سے محروم رہتے ہیں۔ بڑھتے ہوئے موسمیاتی بحران کے تناظر میں معلومات دینے اور ان کا تجزیہ کرنے کے جدید طریقوں سے لوگوں کو قدرتی آفات کا بہتر طور سے مقابلہ کرنے اور زندگیوں کو تحفظ دینے میں مدد مل رہی ہے۔ ترقی کی رفتار میں اضافے کے لیے ایسے اختراعی طریقہ ہائے کار اور دیگر نئے تصورات بہت اہم ہیں۔
'خواتین کے حقوق انسانی حقوق ہیں'
2025 میں خواتین کے بارے میں بیجنگ کانفرنس کو 30 سال مکمل ہو جائیں گے جس میں امریکہ کی سابق خاتون اول ہلیری کلنٹن نے مرکزی خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ 'انسانی حقوق خواتین کے حقوق اور خواتین کے حقوق انسانی حقوق ہیں۔' بحرانوں، جنگوں اور تقسیم کے باعث اس سچائی کے اعتراف کی جانب دنیا کی راہ کھوٹی نہیں ہونی چاہیے۔
فی الوقت دنیا کا کوئی ملک مکمل صنفی مساوات کے ہدف کو نہیں پہنچا۔ ہر 10 منٹ کے بعد ایک خاتون اپنے مرد ساتھی یا خاندان کے ارکان کے ہاتھوں ہلاک ہو جاتی ہے۔ روزانہ 800 خواتین حمل اور زچگی کی قابل انسداد وجوہات کے باعث موت کے منہ میں چلی جاتی ہیں اور دنیا میں نصف حمل خواتین کے ان چاہے ہوتے ہیں۔
ان ناانصافیوں کا خاتمہ کرنے کے لیے خواتین اور لڑکیوں پر سرمایہ کاری کرنا ہو گی، پرانی و نئی دانش سے کام لینا ہو گا اور تمام لوگوں بالخصوص انتہائی بدحال طبقات کے حقوق کی حمایت کرنا ہو گی۔ دنیا کے امن، خوشحالی اور امکانات کا اسی پر دارومدار ہے۔