انسانی کہانیاں عالمی تناظر

غزہ: سردی سے بچوں کی ہلاکتیں جبکہ نہتے صحافی فضائی حملے کا نشانہ

اسرائیلی فوجی کارروائی میں غزہ کھنڈر میں بدل چکا ہے۔
© WFP
اسرائیلی فوجی کارروائی میں غزہ کھنڈر میں بدل چکا ہے۔

غزہ: سردی سے بچوں کی ہلاکتیں جبکہ نہتے صحافی فضائی حملے کا نشانہ

امن اور سلامتی

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) نے غزہ میں شدید سردی اور کم جسمانی درجہ حرارت کے باعث نومولود اور بچوں کی اموات کی اطلاعات پر غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان اموات سے بچا جا سکتا تھا۔

غزہ میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کی اشد ضرورت کے باوجود ضرورتمندوں تک مناسب مقدار میں امداد پہنچانے میں رکاوٹیں درپیش ہیں۔

Tweet URL

درجہ حرارت مزید گرنے کے امکانات کے درمیان اسرائیلی فوج غزہ پر بمباری جاری رکھے ہوئے ہے۔ ان حالات میں بے گھر ہونے والے لاکھوں فلسطینی خیموں اور عارضی پناہ گاہوں میں سر چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے لیے یونیسف کے ریجنل ڈائریکٹر ایڈورڈ بیگبیدر نے جمعہ کو فلسطینی وزارت صحت کے حوالے سے بتایا کہ جسم کے درجہ حرارت میں کمی (ہائپوتھرمیا) کی وجہ سے گزشتہ چند دنوں میں چار نومولود ہلاک ہو چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ اموات روکی جا سکتی تھیں۔ آنے والے دنوں میں درجہ حرارت مزید گرنے کا امکان ہے  اور ان حالات میں مزید کئی بچوں کی جانیں جانے کا افسوسناک امکان موجود ہے۔

یونیسف کے ایک اور سینئر اہلکار کے مطابق عام شہریوں کا حملے کی زد میں آنے کا خطرہ بدستور برقرار ہے اور مقامی لوگ خوراک اور صحت کی مناسب دیکھ بھال تک رسائی سے محروم ہیں جبکہ ان کی عارضی پناہ گاہیں اس یخ بستہ موسم میں ان کی حفاظت کے لیے ناکافی ہیں۔

امداد کی ترسیل میں رکاوٹیں

یونیسف اور اقوام متحدہ کے دیگر اداروں نے بتایا ہے کہ ان کے انسانی امداد کے قافلوں کو غزہ میں داخل ہونے اور ضرورت مندوں تک امداد پہنچانے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔

ایڈورڈ بیگبیدر کے مطابق نومبر کے مہینے میں روزانہ اوسطاً 65 ٹرک غزہ میں داخل ہوتے تھے جو بچوں، خواتین اور دیگر شہریوں کی بے پناہ ضروریات کے مقابلے میں انتہائی ناکافی تھے۔

اس صورتحال کے پیش نظر یونیسف اور عالمی ادارہ برائے خوراک (ڈبلیو ایف پی) نے تمام راستوں اور سرحدی چوکیاں کھولنے کی درخواست کی ہے۔ ڈبلیو ایف پی نے کچھ روز قبل ہی اطلاع دی تھی کہ غزہ کو درکار خوراک کا صرف ایک تہائی حصہ ہی علاقے میں پہنچ پا رہا ہے۔

صحافیوں کے قتل کی مذمت

دوسری جانب اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق (او ایچ سی ایچ آر) نے جمعرات کو اسرائیلی فوج  کے ہاتھوں پانچ صحافیوں کے قتل کی شدید مذمت کی ہے۔

ایک بیان میں او ایچ سی ایچ آر نے کہا ہے کہ صحافی غیر مسلح تھے اور واضح طور پر ان کی شناخت پریس کے ارکان کے طور پر کی جا سکتی تھی۔ لیکن پھر بھی ان کی ویگن کو غزہ کے العودہ ہسپتال کے قریب ایک فضائی حملے میں نشانہ بنایا گیا۔

دوسری طرف اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ ان صحافیوں کا تعلق فلسطینی مسلح گروہوں سے تھا۔ تاہم او ایچ سی ایچ آر کا کہنا ہے کہ اس دعوے سے عام شہریوں کے تحفظ کی ذمہ داری ختم نہیں ہو جاتی۔ انسانی حقوق دفتر نے اس واقعہ کی تفصیلی اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے اور اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ غزہ میں صحافیوں سمیت تمام شہریوں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات کرنے ہوں گے۔