یو این نیوز چیمپیئن: غزہ میں مصروف عمل امدادی کارکن لویز کی ڈائری
جنگ اور انسانی بحران کا ایک اور سال مکمل ہونے کو ہے اور اس موقع پر یو این نیوز دنیا بھر میں اپنے قارئین، سامعین اور ناظرین کو مختلف علاقوں میں لوگوں کی مدد کرنے والے اقوام متحدہ کے عملے کی غیرمعمولی کاوشوں سے آگاہ کر رہا ہے۔
فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے امدادی ادارے (انروا) کی سینئر ایمرجنسی آفیسر لویز ویٹریج اس سلسلے میں متعارف کرائی جانے والی پہلی شخصیت (یو این نیوز چیمپئن) ہیں۔ ان کی فراہم کردہ خبروں اور اطلاعاتی مہارت نے ہمیں غزہ کی جنگ سے متعلق تازہ ترین حالات سے آگاہ ہونے میں مدد دی اور ثابت کیا کہ دنیا بھر میں لاکھوں لوگوں کے لیے اقوام متحدہ کیوں اہم ہے۔
لویز بتاتی ہیں:
میں اپنی ٹیم، اپنے دوستوں کی وجہ سے ہی آج اس مقام پر ہوں۔ یقیناً یہ ان کی خدمات کا اعتراف ہو گا لیکن یہ غزہ کے لیے بھی خراج تحسین ہے جسے جاننا میرے لیے نہایت خوش قسمتی کی بات ہے۔ جو لوگ غزہ سے واقف ہیں وہ سمجھ جائیں گے کہ میں کیا کہنا چاہتی ہوں۔ پرانا غزہ، ناقابل تصور تباہی اُس غزہ کی یاد کو گہنا رہی ہے۔
اس وحشیانہ جنگ کے ابتدائی چند مہینوں کے حوالے سے میری یادوں میں اپنے دوستوں کی مبہم سی جذباتی الوداعی آوازیں نمایاں ہیں جو یہ سوچتے تھے کہ شاید وہ اگلی صبح نہیں دیکھ سکیں گے۔ اس مایوس گفتگو کے بعد اذیت ناک خاموشی ملتی ہے۔ مونا کے الفاظ اب بھی مجھے دکھی کر دیتے ہیں۔ اس نے کہا تھا 'اگر ہم دوبارہ نہ مل سکیں تو مجھے یاد رکھنا۔ میرے بیٹے کو یاد رکھنا'۔
یہاں لوگوں نے اپنی بقا کے لیے جدوجہد کی۔ ان کا ناصرف ایک دوسرے اور اپنے خاندانوں سے بلکہ بیرونی دنیا سے رابطہ بھی ختم ہو گیا جو ان کے حالات سے آگاہی کے لیے بے تابی سے خبروں اور سوشل میڈیا پر نظریں جمائے ہوئے تھے۔
محمد کی بیٹی سما نے 31 اکتوبر 2023 کو غزہ شہر میں جنم لیا۔ ایمبولینس گاڑیوں کی کمی تھی جو بمباری میں ہلاک اور زخمی ہونے والے لوگوں کو ہسپتالوں میں پہنچا رہی تھیں۔ انہیں حملوں سے بمشکل بچ کر اپنی اہلیہ کو ہسپتال لے جانا پڑا۔ جب انہوں نے بچی کو جنم دیا تو ان کے چاروں جانب موت ناچ رہی تھی۔ چند ہفتوں کے بعد میرے ایک ساتھی کی چار سالہ بچی سلمیٰ اسرائیلی فوج کی فائرنگ کے نتیجے میں گردن پر گولی لگنے سے سڑک پر والدین کی بانہوں میں ہلاک ہو گئی۔ اس وقت وہ لوگ غزہ شہر سے نکلنے کی کوشش کر رہے تھے۔ اس کے والد کے چہرے پر یہ تکلیف گویا نقش ہو گئی ہے۔
ہسپتال میں برستی گولیاں
رواں سال کے آغاز پر حسین سے ہمارا رابطہ ایک ہفتے تک منقطع رہا۔ اس وقت ان کا خاندان اقوام متحدہ کے ایک مرکز میں پناہ گزین تھا جس کا اسرائیلی فوج نے ٹینکوں سے محاصرہ کر رکھا تھا۔ حسین نے بتایا کہ اسرائیلی فوجی صحن میں ان پر گولیاں برسا رہے تھے۔ ایمبولینس گاڑیوں اور ہنگامی مدد پہنچانے والی ٹیموں کو اس جگہ آنے کی اجازت نہیں تھی۔ جب حسین سے رابطہ بحال ہوا تو وہ بچوں سمیت ہلاک ہونے والوں کی لاشیں مرکز کے صحن میں دفن کر رہے تھے۔
میرے ساتھی عبداللہ نے ویڈیو کیمرے سے اس جنگ کی نہایت متاثر کن عکسبندی کی۔ فروری میں انہیں شمالی غزہ میں جنگی حالات کو فلماتے ہوئے گولی لگی۔ ہفتے کی دوپہر ہمیں اطلاع ملی کہ وہ ہلاک ہو گئے ہیں۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ یہ خبر سن کر میری سانسیں تھم گئی تھیں۔ سوموار کو کسی نے عبداللہ کو ایک ہسپتال میں دیکھا جو زندہ تھے لیکن ان کی دونوں ٹانگیں کاٹ دی گئی تھیں۔ اس کےبعد دو ہفتے تک ہمارا ان سے رابطہ منقطع ہو گیا جبکہ الشفا ہسپتال میں ڈاکٹر انہیں زندہ رکھنے کی سرتوڑ کوششیں کرتے رہے۔ اس وقت یہ ہسپتال اسرائیلی محاصرے میں تھا۔ چار کوششوں کے بعد بالآخر اقوام متحدہ کا عملہ ان تک پہنچنے میں کامیاب ہو گیا۔
'محفوظ علاقے' میں موت
اپریل میں پہلی مرتبہ مجھے غزہ میں داخلے کی اجازت ملی۔ میں سب سے پہلے جس جگہ گئی وہ رفح کا فیلڈ ہسپتال تھا جہاں عبداللہ کو بمشکل زندہ رکھا جا رہا تھا۔ وہ ریت پر قائم ایک خیمے میں موجود تھے جہاں ڈاکٹروں نے بتایا کہ وہ چند روز کے مہمان ہیں کیونکہ ان کا مزید علاج کرنے کے لیے درکار طبی سازوسامان موجود نہیں تھا۔ میرے دو ساتھیوں کے خون کا گروپ عبداللہ سے ملتا تھا جنہوں نے انہیں زندہ رکھنےکے لیے اپنا خون عطیہ کیا۔ بالآخر، زخمی ہونے سے دو ماہ کے بعد وہ صحت یاب ہو گئے اور انہیں علاج کے لیے غزہ سے باہر بھیجنے کی اجازت مل گئی جس سے چند روز کے بعد مصر کے ساتھ غزہ کی سرحد مستقل طور پر بند کر دی گئی۔ ہمیں اب تک یہ یقین نہیں آتا کہ وہ زندہ بچ گئے۔
مئی میں ہماری آنکھوں کے سامنے بہت بڑی تباہی برپا ہوئی۔ ایک دوسرے سے دوبارہ ملنے اور عبداللہ کے زندہ بچ جانے کی خوشی زیادہ دیر قائم نہ رہ سکی کیونکہ اسرائیلی فوج نے رفح پر زمینی پر حملہ شروع کر دیا تھا۔ اس وقت ہر طرف افراتفری، پریشانی اور دہشت پھیلی تھی۔ چند ہی روز میں 10 لاکھ سے زیادہ لوگوں کو علاقہ خالی کرنا پڑا۔ میں رفح سے نکلنے والے جن پہلے لوگوں سے ملی ان میں جمال بھی شامل تھے۔ وہ اسرائیلی فوج کی جانب سے انخلا کے احکامات پر مبنی پمفلٹ پر لکھی ہدایات کی روشنی میں اپنے خاندان کے ساتھ دیر البلح گئے اور اسی رات اسرائیل کے فضائی حملے میں اپنے اہلخانہ کے ساتھ مارے گئے۔
میں غزہ میں کیوں ہوں؟
میں آخری وقت میں رفح سے نکلنے والے جن لوگوں کو جانتی ہوں ان میں محمد بھی شامل تھے۔ انہیں مستقبل کا ناقابل بیان اور شدید خوف لاحق تھا۔ جب ان سے بات ہوئی تو وہ پریشانی کے عالم میں کہہ رہے تھے کہ 'ہم کہاں جائیں'۔ محمد اس رات تک وہیں رہے جب اسرائیلی بمباری کے بعد ایک خیمے سے اس بچے کی لاش نکالی گئی جس کا سر دھڑ سے علیحدہ ہو چکا تھا۔ یہ تصویر دنیا بھر نے دیکھی۔ بے بسی کے عالم میں زندہ جلتے بچوں کے چہرے ہر رات محمد کے خواب میں آتے ہیں۔
اگر آپ یہاں تک پڑھ چکے ہیں تو پھر آپ کو علم ہو چکا ہو گا کہ میں یہاں غزہ میں کیوں موجود ہوں۔ آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ میری زندگی یہاں کیوں رکی ہوئی ہے۔ میں اپنے دوستوں کے ساتھ رہنے اور لوگوں کی زندگیوں کو جہنم بنا دینے والی ہولناکیوں کو دنیا کے سامنے لانے کے لیے یہاں موجود ہوں۔ میں ان لوگوں کے بارے میں بتانے کے لیے یہاں ہوں جو مایوسی کے عالم میں چیختے ہوئے ہمیں پکارتے ہیں۔ میں ان لوگوں کے لیے یہاں ہوں جو مہینوں سے قید اپنے عزیزوں کے بارے میں جاننے کے بے تابی سے منتطر ہیں۔
میں فوجی چوکیوں کے پاس پڑی لاشوں کے بارے میں بتانے کے لیے یہاں موجود ہوں جنہیں کتوں کے غول نوچتے پھرتے ہیں۔ میں ہسپتالوں میں پڑے ان بچوں کے بارے میں بتانا چاہتی ہوں جو 'محفوظ علاقوں' میں ہونے والے حملوں کے نتیجے میں جسمانی اعضا سے محروم ہو گئے۔ حسین کی بیٹی ہلاک ہو گئی۔ رجا کا چچا زاد بھائی مارا گیا۔ یہاں جو یہ جانتا ہے کہ اس کا خاندان زندہ ہے وہ خوش قسمت ہے۔
کیا دنیا تھک گئی ہے؟
صحافی ہلاک و زخمی ہونے کا خطرہ مول لے کر دنیا کو ان ہولناکیوں سے آگاہ کر رہے ہیں جو ان کے دوستوں، خاندانوں اور ہمسایوں کو نگل رہی ہیں۔ کیا دنیا اب بھی اس صورتحال کو دیکھ رہی ہے؟ کیا لوگ یہ سن سن کر تھک گئے ہیں کہ بچے فضائی حملوں میں، ملبے تلے دب کر، غذائی قلت سے، ہسپتالوں پر بمباری میں اور بجلی کے بغیر انکیوبیٹر بند ہو جانے سے ہلاک ہو رہے ہیں؟
غزہ کا پورا معاشرہ اب قبرستان بن گیا ہے لیکن لوگ مرنے والوں کا غم نہیں منا سکتے کیونکہ ہر فرد کو اپنی بقا کی جدوجہد کا سامنا ہے۔ ان کے پاس خوراک ہے نہ پانی، طبی سہولیات ہیں نہ تحفظ۔ لوگوں کو زندگی کی ان بنیادی سہولیات سے محروم ہوئے اب دوسرا سال شروع ہو چکا ہے۔ 100 یرغمالی اب بھی غزہ میں ہیں اور ان کے خاندان بے تابی سے ان کی واپسی اور تحفظ کی خبر سننے کے منتظر ہیں۔ 20 لاکھ سے زیادہ لوگ موت اور تباہی میں پھنسے ہیں۔ ان کے لیے کوئی راہ نجات نہیں۔
میں نے ننھی سما کے لیے ہیپی برتھ ڈے گایا جو اب ایک سال کی ہو چکی ہے اور میں اس وقت کو کبھی بھلا نہیں پاؤں گی۔ اس وقت بمباری سے زمین ہل رہی تھی لیکن سبھی لوگ بم دھماکوں کی آوازوں سے زیادہ بلند آواز میں یہ گیت گانے کے لیے پرعزم تھے۔ سما کی پوری زندگی اس جنگ کی بربریت کی عکاس ہے۔