ایران بہائی خواتین کے حقوق کا احترام کرے، انسانی حقوق ماہرین
انسانی حقوق پر اقوام متحدہ کے غیرجانبدار ماہرین نے ایران میں بہائی فرقے سے تعلق رکھنے والی خواتین کے خلاف جبر کے واقعات پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان کے حقوق کا احترام یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بہائی خواتین کو گرفتاریوں، تفتیش، جبری گمشدگی، گھروں پر چھاپوں، نجی ملکیتی اشیا کی ضبطی، نقل و حرکت پر پابندی اور آزادی سے طویل محرومی جیسے مظالم کا سامنا ہے اور یہ سب کچھ منظم طریقے سے ہو رہا ہے۔
ایران میں بہائی فرقے سے تعلق رکھنے والے قیدیوں میں خواتین کی تعداد دو تہائی ہے جن کی اکثریت کو منصفانہ قانونی کارروائی کے بغیر نامعلوم جگہوں پر قید میں رکھا گیا ہے۔
تعلیمی، معاشی اور ثقافتی پابندیاں
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران میں خواتین پر جبر اور صنفی مساوات کے حوالے سے وسیع تر مسائل کے تناظر میں بہائی خواتین کے خلاف مظالم میں غیرمعمولی اضافہ انتہائی تشویش ناک ہے جو پہلے ہی فرقہ وارانہ امتیاز اور جبر کا شکار ہیں۔
ملک میں بہائی فرقے سے تعلق رکھنے والوں کو اعلیٰ تعلیم سے محروم رکھا جاتا ہے اور ان پر کئی طرح کی معاشی و ثقافتی پابندیاں بھی عائد ہیں جن کا انہیں زندگی بھر سامنا رہتا ہے۔ اس طرح انہیں فکری، سماجی اور معاشی طور پر بہت سے مسائل درپیش ہیں۔ اپنے عقائد کی بنا پر یہ نہ تو یونیورسٹیوں میں تعلیم پا سکتے ہیں اور نہ ہی انہیں سرکاری ملازمتیں ملتی ہیں۔
انہوں نے کہا ہے کہ ایران میں بہائیوں کے خلاف 'قومی سلامتی کے لیے خطرہ پیداکرنے' یا 'ریاست کے خلاف پروپیگنڈے' جیسے مبہم الزامات تشویشناک ہیں جن کے ذریعے انہیں پرامن طور سے اپنے حقوق کو استعمال کرنے سے محروم رکھا گیا ہے۔
ایرانی حکومت کا 'مشکوک' دعویٰ
ماہرین نے کہا ہے کہ ملک میں بہائیوں کی مذہب یا عقیدے، رائے، اظہار اور سیاسی و ثقافتی سرگرمیوں میں شرکت کی آزادی کو جرم قرار دینا بھی تشویش کا باعث ہے۔ اس سے ان لوگوں کے لیے اپنے بنیادی انسانی حقوق اور آزادیوں سے کام لینے میں سنگین مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔
ماہرین نے ایران کی حکومت کو بھی اپنے ان خدشات سے آگاہ کیا ہے۔ جواب میں ایرانی حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ بہائی فرقے کو مکمل شہری حقوق حاصل ہیں اور ان کی سرگرمیوں یا نقل و حرکت پر کوئی پابندیاں نہیں ہیں۔
تاہم، جس روز حکومت کی جانب سے یہ جواب موصول ہوا اسی روز اصفہان میں 10 بہائی خواتین کو مجموعی طور پر 90 برس قید کی سزا سنا کر ان کے سفر کرنے پر پابندی عائد کر دی گئی جبکہ ان کی نجی اور خاندانی ملکیتی اشیا بھی ضبط کر لی گئیں۔
غیر جانبدار ماہرین و اطلاع کار
غیرجانبدار ماہرین یا خصوصی اطلاع کار اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے خصوصی طریقہ کار کے تحت مقرر کیے جاتے ہیں جو اقوام متحدہ کے عملے کا حصہ نہیں ہوتے اور اپنے کام کا معاوضہ بھی وصول نہیں کرتے۔