پاکستان سے انسانی حقوق کے کارکن ادریس خٹک کی فوری رہائی کا مطالبہ
انسانی حقوق پر اقوام متحدہ کے غیرجانبدار ماہرین نے پاکستان میں حقوق کے تحفظ اور فروغ کے لیے کام کرنے والے ادریس خٹک کو قید سے فوری اور غیرمشروط طور پر رہا کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ حراست میں انہیں تشدد اور بدسلوکی کا سامنا ہے۔
ماہرین نے کہا ہے کہ ادریس خٹک کو جبری گمشدگیوں اور نسلی اقلیتوں پر جبر کے حوالے سے اطلاعات سامنے لانے پر گرفتار کر کے ناجائز حراست میں رکھا گیا ہے اور پانچ سالہ قید میں ان کے انسانی حقوق کی سنگین طور سے پامالی ہوئی ہے۔
ادریس خٹک کو 2019 میں گرفتار کیا گیا تھا اور 2021 میں انہیں فوجی عدالت میں خفیہ مقدمے کے ذریعے 14 سال قید کی سزا دی گئی۔
سول سوسائٹی کی حوصلہ شکنی
انسانی حقوق پر اقوام متحدہ کے ماہرین ادریس خٹک کی جبری گمشدگی، طویل قید تنہائی، ان پر مبینہ تشدد و بدسلوکی اور انہیں منصفانہ قانونی کارروائی کے حق سے مبینہ طور پر محروم کیے جانے پر خدشات کا اظہار کرتے چلے آئے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ادریس خٹک عسکری حکام کی جانب سے بظاہر عدم تعاون کے باعث سزا کے خلاف اپیل کے حق سے محروم ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ اس کا دانستہ مقصد انہیں غیرفوجی نظام انصاف کے تحفظ سے دور رکھ کر ان کی حراست کو طول دینا ہے۔
ماہرین نے یہ بھی کہا ہے کہ ادریس خٹک کو قید میں درشت حالات کا سامنا ہے جبکہ انہیں علاج معالجے کی مناسب سہولت سے بھی محروم رکھا گیا ہے جس سے ان کی زندگی کو خطرہ لاحق ہے۔ انہیں انتہائی غیرمنصفانہ فوجی مقدمے کے ذریعے دی جانے والی سزا سے ملک میں سول سوسائٹی اور صحافیوں پر منفی اثرات ہوں گے۔ اس سے سول سوسائٹی کی بدنامی اور ملک میں اقلیتوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والوں کی حوصلہ شکنی ہو گی۔
بنیادی آزادیوں پر ضرب
ماہرین کا کہنا ہے کہ ادریس خٹک کا معاملہ ملک میں بنیادی آزادیوں پر جبر اور حقوق کی پامالیوں کے ذمہ داروں کا محاسبہ نہ ہونے کے رحجان کی عکاسی کرتا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ سول سوسائٹی کے جائز کام کو جرم کی ذیل میں لانے والے سلامتی کے قوانین کا استعمال اور حقوق کے کارکنوں کو فوجی عدالتوں کے ذریعے سزائیں دینے کا سلسلہ روکے اور انسانی حقوق کا تحفظ یقینی بنائے۔
انہوں نے پاکستان کی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ جبری گمشدگیوں اور ادریس خٹک کے حقوق کی پامالیوں پر آزادانہ، غیرجانبدارانہ، موثر اور مفصل تحقیقات کرائے اور انہیں گرفتار کرنے اور قید میں ڈالنے کے ذمہ داروں بالخصوص اس معاملے میں اعلیٰ سطح پر کردار ادا کرنے والوں کا محاسبہ کرے۔
حکومت ملک کی سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلوں کی تعمیل کرے جن میں ایسے مقدمات کو غیرآئینی قرار دیا گیا ہے اور ادریس خٹک اور ان کے خاندان کو ہونے والے نقصان کا مناسب ازالہ بھی یقینی بنایا جائے۔
ماہرین ادریس خٹک کے معاملے پر پاکستان کے حکام سے رابطے میں ہیں۔
غیر جانبدار ماہرین و اطلاع کار
غیرجانبدار ماہرین یا خصوصی اطلاع کار اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے خصوصی طریقہ کار کے تحت مقرر کیے جاتے ہیں جو اقوام متحدہ کے عملے کا حصہ نہیں ہوتے اور اپنے کام کا معاوضہ بھی وصول نہیں کرتے۔