بنجرپن پر کانفرنس بحالی زمین کے عزم کے ساتھ ریاض میں ختم
ارضی بنجر پن کو روکنے کے لیے اقوام متحدہ کے کنونشن (یو این سی سی ڈی) کے ریاستی فریقین کی کانفرنس (کاپ 16) سعودی عرب میں ختم ہو گئی ہے جس میں خشک سالی پر قابو پانے اور زمین کی بحالی کے لیے فوری اور جامع اقدامات کا عزم کیا گیا ہے۔
دو ہفتوں تک جاری رہنے والی اس کانفرنس میں شرکا نے ارضی انحطاط، بنجرپن اور خشک سالی کو روکنے کے بہترین طریقوں پر غوروخوض اور انہیں قومی پالیسیوں کا حصہ بنانے کے علاوہ ان مسائل پر بین الاقوامی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔
سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں منعقدہ اس کانفرنس میں دنیا بھر کی نمائندگی موجود تھی۔ اگرچہ اس موقع پر خشک سالی کو روکنے کے حوالے سے عالمی معاہدے کی نوعیت پر اتفاق نہیں ہو سکا تاہم اس معاملے میں ایک مضبوط سیاسی اعلامیے کی منظوری عمل میں آئی اور مستقبل کے حوالے سے 39 اہم فیصلے بھی کیے گئے۔
'یو این سی سی ڈی' کی جانب سے دنیا میں خشک سالی سے متاثرہ اور مستقبل میں ممکنہ طور پر متاثر ہونے والے مقامات سے متعلق جاری کردہ نئی اٹلس کے مطابق یہ مسئلہ 1.8 ارب لوگوں کو متاثر کر رہا ہے۔ خشک سالی سے ہر سال 300 ارب ڈالر کا نقصان ہوتا ہے اور زراعت، توانائی اور پانی کے شعبوں کو اس سے سنگین خطرات لاحق ہیں۔
کامیابی کی کنجی
'کاپ 16' اب تک کی سب سے بڑی اور متنوع ارضی کانفرنس تھی جس میں 20 ہزار سے زیادہ لوگوں نے شرکت کی جن میں سے 3,500 کا تعلق سول سوسائٹی سے تھا۔ اس موقع پر 600 سے زیادہ اجلاس ہوئے اور غیرریاستی کرداروں کو بھی کنونشن کے کام میں شامل کیا گیا۔ نوجوانوں اور مالیات، فیشن، زرعی خوراک اور ادویہ جیسے صنعتی شعبوں کے 400 سے زیادہ نمائندوں نے بھی کانفرنس میں شرکت کی۔
اس موقع پر اقوام متحدہ کی نائب سیکرٹری جنرل امینہ جے محمد نے کہا کہ اب کام شروع ہو گیا ہے جو اس کانفرنس کے اختتام پر ختم نہیں ہو گا۔ موسمیاتی بحران پر قابو پانے کی جدوجہد جاری رکھنا ہو گی اور اس مقصد کے لیے مشمولیت، اختراع اور مضبوطی سے کام لینا کامیابی کی کلید ہے۔
انہوں نے کہا کہ نوجوان اور قدیمی مقامی لوگوں کو ان مسائل پر بات چیت میں مرکزی جگہ دینا ضروری ہے۔ پائیدار مستقبل کی تشکیل کے لیے ان کی دانائی، آواز اور اختراع ناگزیر اہمیت رکھتی ہیں۔
اہم فیصلے
کانفرنس میں خشک سالی پر مستحکم طور سے قابو پانے کے لیے بین الاقوامی مشاہدہ گاہ کا ابتدائی نمونہ پیش کیا گیا۔ مصنوعی ذہانت کی مدد سے کام کرنے والا یہ پلیٹ فارم ممالک کو کڑی خشک سالی کا اندازہ لگانے اور اس سے نمٹںے کی صلاحیت بڑھانے میں مدد دے گا۔
بزنس 4 لینڈ اقدام کے تحت خشک سالی اور ارضی انحطاط کو روکنے کے لیے نجی شعبے کو متحرک کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
قدیمی مقامی لوگوں اور مقامی آبادیوں کے اجلاس طے کیے گئے تاکہ ارضی مسائل سے نمٹنے میں ان کے مخصوص نقطہ نظر اور مسائل کو مناسب توجہ مل سکے۔
اس موقع پر قدیمی آسٹریلوی باشندوں کے نمائندے آلیور ٹیسٹر نے کہا کہ کانفرنس میں نئی تاریخ رقم ہوئی ہے اور وہ زمین کو تحفظ دینے کے لیے طے شدہ اجلاسوں کے ذریعے اپنے عزم کی ترویج کے متمنی ہیں اور اس اعتماد کے ساتھ کانفرنس سے واپس جا رہے ہیں کہ اب ان لوگوں کی آواز بھی سنی جائے گی۔
خشک سالی کے خلاف عالمی معاہدہ
'کاپ 16' میں ممالک نے مستقبل میں خشک سالی کے خلاف عالمی معاہدے کی بنیاد ڈالنے کے لیے بامعنی کام کیا جو 2026 میں منگولیا میں ہونے والی 'کاپ 17' میں پایہ تکمیل کو پہنچنے کا امکان ہے۔
کانفرنس میں بات چیت کے ذریعے اہم موضوعات پر 30 سے زیادہ فیصلے کیے گئے۔ ان مسائل میں مہاجرت، گرد کے طوفان، ارضی مسائل پر قابو پانے میں سائنس کا کردار، تحقیق و اختراع اور ماحولیاتی مسائل سے نمٹنے کے لیے خواتین کو بااختیار بنانا شامل ہیں۔
بعض فیصلوں کے ذریعے نئے موضوعات کانفرنس کے ایجنڈے کا حصہ بنے جن میں ماحولیاتی اعتبار سے پائیدار زرعی غذائی نظام اور گھاس کے میدان خاص طور پر نمایاں ہیں۔ دنیا میں زرعی اراضی کہلانے والی تمام زمین کا 54 فیصد حصہ ایسے ہی میدانوں پر مشتمل ہے۔ ان میدانوں کے بنجرپن سے دنیا میں تقریباً 17 فیصد خوراک کی فراہمی کو خطرہ لاحق ہے۔
کانفرنس میں ممالک نے دنیا بھر کے ارضی مسائل سے نمٹنے کے لیے 12 ارب ڈالر دینے کے وعدے کیے۔ ان وسائل کا بیشتر حصہ انتہائی غیرمحفوظ ممالک پر خرچ کیا جائے گا۔ اس وقت دنیا میں دو ارب لوگ ایسے علاقوں میں رہتے ہیں جہاں معیشت میں گلہ بانی کا نمایاں حصہ ہے۔ ارضی انحطاط، بنجرپن اور خشک سالی سے ان آبادیوں کو شدید خطرات لاحق ہیں۔
اہم اور فیصلہ کن موڑ
سعودی عرب کے وزیر ماحولیات، پانی و زراعت اور 'کاپ 16' کے صدر عبدالرحمان الفادلی نے کہا کہ یہ اجلاس زمین کی بحالی اور خشک سالی کے خلاف مستحکم اقدامات سے متعلق عالمگیر آگاہی بیدار کرنے کے حوالے سے بھی فیصلہ کن اہمیت رکھتا ہے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ کانفرنس میں لیے جانے والے فیصلوں سے ان مسائل پر قابو پانے کی کوششوں کو بہتر بنایا جا سکے گا اور دنیا بھر میں لوگوں کی بہبود میں اضافہ ہو گا۔
اقوام متحدہ کے انڈر سیکرٹری جنرل اور 'یو این سی سی ڈی' کے ایگزیکٹو سیکرٹری ابراہیم تھیا نے زمین اور خشک سالی سے متعلقہ مسائل پر قابو پانے کے عالمگیر طریقہ کار میں نمایاں تبدیلی کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ موسمیاتی تبدیلی، حیاتیاتی تنوع کے نقصان، غذائی عدم تحفظ، نقل مکانی اور عالمگیر عدم استحکام جیسے مسائل آپس میں جڑے ہیں جن سے نمٹنے کے لیے جامع اور مربوط طریقہ کار کی ضرورت ہے۔
مستقبل کی منصوبہ بندی
کانفرنس میں شرکا کو بتایا گیا کہ 2030 تک ایک ارب ہیکٹر سے زیادہ زمین کی زرخیزی کو بحال کرنے اور خشک سالی سے تحفظ کے لیے 2.6 ٹریلین ڈالر کی ضرورت ہو گی۔
کانفرنس میں بڑے پیمانے پر ارضی بحالی اور خشک سالی سے بچاؤ کی تیاری کے لیے کے لیے نئے وعدے بھی کیے گئے۔
ابراہیم تھیا نے کانفرنس کے اختتام پر پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ ارضی مسائل کا حل انسان کی دسترس میں ہے۔ آج جو فیصلے لیے جائیں گے وہ ناصرف کرہ ارض کے مستقبل کا تعین کریں گے بلکہ لوگوں کی زندگی اور روزگار کا دروامدار بھی انہی پر ہو گا۔