انسانی کہانیاں عالمی تناظر
شام کا دارالحکومت دمشق (فائل فوٹو)۔

جانیے شام میں امن کے امکانات اور ممکنہ خطرات بارے

UN News/Nabil Midani
شام کا دارالحکومت دمشق (فائل فوٹو)۔

جانیے شام میں امن کے امکانات اور ممکنہ خطرات بارے

امن اور سلامتی

بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد شام غیر یقینی پر مبنی ایک نئے دور میں داخل ہو چکا ہے۔ اقوامِ متحدہ کا ایک اہم کردار یہ ہوگا کہ منظم انتقالِ اقتدار کے ذریعے مستحکم اداروں کی تشکیل یقینی بنائے اور 2011 میں شروع ہونے والی خانہ جنگی کے مختلف گروہوں اور دھڑوں کو قریب لانے کی کوششوں کو جاری رکھے۔

لڑائی میں شدت آنے کے بعد بھی اقوام متحدہ نے شامی عوام کے لئے آزادی اور انصاف کی فراہمی کے سیاسی حل تلاش کرنے کی کوششیں جاری رکھیں۔

اقوامِ متحدہ کی جانب سے شام میں منصفانہ امن کے قیام کے لئے کی جانے والی کچھ اہم پیش رفت کا ذکر مندرجہ ذیل ہے:

2012 میں امن کی کوششوں کا آغاز

مارچ 2011 میں شروع ہونے والے حکومت مخالف مظاہروں کے بعد جب شامی حکومت کی جانب سے پرتشدد کریک ڈاؤن شروع ہوا تب اقوام متحدہ کے ایک سابق سیکریٹری جنرل کوفی عنان کو شام کے لئے اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے مشترکہ خصوصی مندوب کے طور پر مقرر کیا گیا۔

کوفی عنان نے ایک چھ نکاتی منصوبہ پیش کیا جس میں تشدد کے خاتمے، انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امدادی اداروں کی رسائی، قیدیوں کی رہائی، جامع سیاسی مذاکرات کے آغاز اور بین الاقوامی میڈیا کے لئے غیر محدود رسائی کا مطالبہ شامل تھا۔

یہ منصوبہ اپریل 2012 میں سلامتی کونسل کی قراردادوں 2042 اور 2043 کے ذریعے منظور ہوا اور اس طرح اقوام متحدہ کے شام کے لئے نگراں مشن (یو این ایس ایم آئی ایس) کی تشکیل ہوئی جو اگست 2012 میں خانہ جنگی کے بڑھنے پر ختم ہوگیا۔

2012 میں ہی جنیوا اعلامیہ سامنے آیا جو شام کے لئے ایکشن گروپ کے اجلاس کا نتیجہ تھا۔ اس اعلامیے میں مشرق وسطیٰ کے کئی ممالک اور سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان شامل تھے۔ یہ دستاویز، جسے جنرل اسمبلی اور سلامتی کونسل دونوں نے منظور کیا، کوفی عنان کے امن منصوبے پر مبنی تھی۔

چھ سالہ عبداللہ دمشق کے مضافات میں اس عمارت کے پاس کھڑا ہے جس کے ملبے میں اسے اور اس کی بہن کو زندہ نکالا گیا تھا (فائل فوٹو)۔
UNICEF/Almohibany
چھ سالہ عبداللہ دمشق کے مضافات میں اس عمارت کے پاس کھڑا ہے جس کے ملبے میں اسے اور اس کی بہن کو زندہ نکالا گیا تھا (فائل فوٹو)۔

2014: جنیوا مذاکرات میں تعطل

کوفی عنان کی جگہ سینئر الجزائری سفارت کار لخدار براہیمی کو تعینات کیا گیا۔ جنوری 2014 میں اس وقت کے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے بین الاقوامی کانفرنس "جنیوا 2" کا انعقاد کیا مگر حکومتی اور حزب اختلاف کے نمائندوں کے درمیان معاہدہ طے نہ پا سکا۔ لخداربراہیمی نے مئی 2014 میں اپنا منصب چھوڑ دیا۔

2015: اہم قرارداد کی منظوری

لخدار براہیمی کے بعد آنے والے اقوام متحدہ کے نئے خصوصی مندوب سٹافن ڈی مستورا کی قیادت میں نئی پیش رفت ہوئی۔ اس دوران اس تنازع کا مستقل حل تلاش کرنے کے لئے شام کے لئے بین الاقوامی مددگار گروپ (آئی ایس ایس جی) کی بنیاد بھی ڈالی گئی۔

اس کے نتیجے میں 2015 میں روس اور امریکہ کے مابین سفارتی مذاکرات کے دوران قرارداد 2254 منظور ہوئی جس میں سیاسی انتقال کا خاکہ اور شفاف انتخابات کی نگرانی کے لئے اقوام متحدہ کا کردار طے کیا گیا۔ اس قرارداد میں نئے صاف اور شفاف انتخابات منعقد کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا جو اقوامِ متحدہ کی نگرانی میں ہونا تھے۔

2016: جنگی جرائم اور مظالم کے خلاف کارروائی

شام کے تنازع میں قانونی کارروائی کا فقدان ہمیشہ نمایاں رہا ہے جس نے تنازع کے حل کی کوششوں کو نقصان پہنچایا ہے۔ اس وجہ سے جوابدہی کے عمل کو بھی نافذ نہیں کیا جا سکا جو اقوام متحدہ کے بنیادی اصولوں میں سے ایک ہے۔

اقوام متحدہ نے جنگ کے دوران انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات اور دہشت گرد گروہوں کی سرگرمیوں کی نگرانی جاری رکھی۔ قرارداد 2254 نے رکن ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ عراق اور شام میں داعش، النصرہ فرنٹ، القاعدہ اور دیگر دہشت گرد گروہوں کی کارروائیوں کو روکیں۔

21 دسمبر 2016 کو جنرل اسمبلی کی قرارداد کے ذریعے "بین الاقوامی، غیر جانبدار اور آزادانہ طریقہ کار (آئی آئی آئی ایم)" قائم کیا گیا تاکہ نسل کشی، انسانیت کے خلاف جرائم اور جنگی جرائم جیسے سنگین عوامل کی تحقیقات کی جائیں اور ان میں ملوث لوگوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل شام پر قرارداد نمبر 2254 متفقہ طور پر پاس کرتے ہوئے (فائل فوٹو)۔
UN Photo/Rick Bajornas
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل شام پر قرارداد نمبر 2254 متفقہ طور پر پاس کرتے ہوئے (فائل فوٹو)۔

الاسد حکومت کا خاتمہ

8 دسمبر 2024 کو بشار الاسد حکومت کے خاتمے کی خبروں کے دوران آئی آئی آئی ایم نے ایک بیان جاری کیا جس میں امید ظاہر کی گئی کہ اب شامی عوام کو انصاف اور قانون کی حکمرانی پر مبنی ملک میں رہنے کا موقع ملے گا۔

اس بیان میں کہا گیا کہ "اگزشتہ 13 سالوں کے دوران ہونے والے ناقابل تصور مظالم کے لئے جوابدہی شامیوں اور عالمی برادری کی آئندہ کوششوں کا مرکزی حصہ ہونی چاہیئے۔ ہسپتالوں پر بمباری، کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال، حکومت کے زیر حراست جیلوں میں منظم تشدد، صنفی بنیاد پر جنسی تشدد اور حتیٰ کہ نسل کشی جیسے جرائم کو اب نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔"

2024: امیدوں اور خدشات کا نیا دور

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے 8 دسمبر کو اعلان کیا کہ "آمرانہ حکومت کا زوال شامیوں کے لئے ایک مستحکم اور پرامن مستقبل بنانے کا تاریخی موقع فراہم کرتا ہے۔" لیکن ساتھ ہی انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اداروں کی تجدید کی طرف ایک منظم سیاسی منتقلی کو یقینی بنانے کے لئے بہت سا کام باقی ہے۔

ان کے خصوصی نمائندے ناروے کے سفارتکار گیئر پیڈرسن جو اکتوبر 2018 میں اس عہدے پر تعینات ہوئے تھے نے جنیوا میں "فوری سیاسی مذاکرات" کی اپیل کی ہے تاکہ شام کے لئے ایک پرامن مستقبل کو محفوظ بنایا جا سکے اور کہا کہ اہم شراکت داروں، بشمول ایران، روس، ترکی اور امریکہ، نے ان کی اپیل کی حمایت کی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ"یہ سیاہ باب گہرے زخم چھوڑ چکا ہے لیکن آج ہم امید کے ساتھ نئے باب کے کھلنے کی منتظر ہیں: امن، مفاہمت، وقار اور تمام شامیوں کے لئے شمولیت کا ایک باب۔"

دمشق کے ایک چوک پر لوگ الاسد حکومت کے خاتمہ کی خوشی منا رہے ہیں۔
Gaith Sabbagh
دمشق کے ایک چوک پر لوگ الاسد حکومت کے خاتمہ کی خوشی منا رہے ہیں۔

شام اور اقوام متحدہ

  • شام کی آبادی تقریباً اڑھائی کروڑ ہے۔ یہ ملک ترکی، عراق، اردن، لبنان اور اسرائیل کے ساتھ سرحدیں رکھتا ہے اور 1945 میں اقوامِ متحدہ کا ایک رکن ملک بن گیا تھا۔
  • اسرائیل کے ساتھ سرحد میں جنوب مغربی شام کا گولان کا علاقہ شامل ہے۔ اس علاقے کا دو تہائی حصہ 1967 سے اسرائیلی حکام کے زیر قبضہ ہے اور باقی حصہ پر دسمبر 2024 میں بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد اسرائیل نے قبضہ کر لیا۔
  • اقوام متحدہ کی مشاہداتی فورس (یو این ڈی او ایف) کا قیام 1974 میں یوم کیپور جنگ کے بعد ہوا تاکہ اسرائیل اور شام کے درمیان جنگ بندی کو برقرار رکھا جا سکے۔ فورس کا مینڈیٹ سیکیورٹی کونسل کے ذریعے ہر چھ ماہ بعد تجدید کیا جاتا ہے۔
  • اقوام متحدہ 200 سے زائد شراکت داروں کے ساتھ مل کر انسانوں کی زندگی بچانے اور زندگی کے لئے ضروری معاونت فراہم کرتا ہے۔ اس کے ذریعے پورے سال میں لاکھوں افراد کی ضروریات کو پورا کیا جاتا ہے۔
  • برسوں کے دوران اقوام متحدہ نے متاثرہ کمیونٹیوں کو بہتر بنایا ہے اور خاص طور پر سب سے زیادہ کمزور گھرانوں اور کمیونٹیوں میں روزگار کے مواقع اور بنیادی خدمات تک رسائی میں اضافہ کیا ہے۔
  • اقوام متحدہ کا شام کے انسانی فنڈ  (ایس ایچ ایف) 2014 میں قائم کیا گیا تھا جو انسانی آپریشنز میں اہم خلا کو پُر کرنے اور شام بھر میں منصوبوں کے ذریعے رسائی بڑھانے کے لئے فنڈ فراہم کرتا ہے۔