انسانی کہانیاں عالمی تناظر

شام میں اقلیتوں کے حقوق کا مکمل احترام ضروری، یو این چیف

جامنی رنگ کے ایمرجنسی گیئر میں ایک شخص شام میں ملبے سے بھری سڑک پر جلتی ہوئی، جلی ہوئی کار کے پاس سے گزر رہا ہے۔
© UNOCHA/Ali Haj Suleiman شام کے علاقے ادلب میں ایک ہسپتال پر حملے کے بعد کا منظر۔

شام میں اقلیتوں کے حقوق کا مکمل احترام ضروری، یو این چیف

امن اور سلامتی

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ شام میں ایسے مشمولہ سیاسی عمل کے ذریعے اقتدار کی پرامن اور ہموار منتقلی میں مدد دینے کا عزم رکھتا ہے جس میں اقلیتوں کے حقوق کا مکمل احترام کیے جانے کی ضمانت دی جائے۔

انہوں نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں بڑی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں اور ان حالات میں فلسطینیوں کے حق ریاست و خود ارادیت کی توثیق ہونا ضروری ہے۔ خطے میں بعض پرامید علامات بھی دکھائی دیتی ہیں اور ان کا زیادہ تر تعلق شام میں آمریت کے خاتمے سے ہے۔

Tweet URL

سیکرٹری جنرل نے یہ بات جنوبی افریقہ کے شہر پریٹوریا میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہی ہے جہاں انہوں نے ملک کو صنعتی ممالک کے گروپ جی 20 کی میزبانی ملنے کے بعد سرکاری حکام کے ساتھ ملاقاتیں کی ہیں۔

اتحاد کی ضرورت

سیکرٹری جنرل نے کہا کہ شام میں ان کے خصوصی نمائندے جیئر پیڈرسن مستقبل کے اقدامات کے لیے تمام اہم مقامی فریقین کے ساتھ رابطے میں ہیں اور انہیں ملک کے لوگوں پر اعتماد ہے کہ وہ اپنا مقدر خود منتخب کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

انتونیو گوتیرش نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ شام کے مختلف رہنماؤں کو یہ یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن مدد فراہم کرے کہ وہ اکٹھے ہو کر اقتدار کی ہموار اور مشمولہ انداز میں منتقلی کے لیے کام کریں۔ اس طریقہ کار کا کوئی اور بہتر متبادل نہیں ہے۔ شام میں بڑے پیمانے پر تقسیم پائی جاتی ہے اور اب اتحاد اور ملک کی تشکیل نو کا وقت ہے۔

سیکرٹری جنرل نے جنوب مغربی شام کے علاقے گولان میں اسرائیل کی مزید پیش قدمی اور اسرائیلی وزیراعظم کی جانب سے اس علاقے کو ہمیشہ کے لیے اسرائیل کا حصہ بنانے کے بیان پر کہا کہ گولان پر اسرائیل کا قبضہ ہے لیکن عالمی سطح پر اس قبضے کو تسلیم نہیں کیا گیا۔ لہٰذا اسے ہمیشہ کے لیے اسرائیل کا حصہ بنانے کی بات کرنے سے قانون کی پامالی کا مسئلہ حل نہیں ہو گا۔

بارودی سرنگوں کا خطرہ

امدادی امور کے لیے اقوام متحدہ کے رابطہ دفتر (اوچا) نے بتایا ہے کہ شام میں سلامتی کی صورتحال بدستور نازک ہے جہاں اسرائیل کے حملوں اور مقامی سطح پر جاری لڑائیوں سے کئی علاقے متاثر ہو رہے ہیں۔

ادارے کا کہنا ہے کہ ملک میں بارودی سرنگوں اور اَن پھٹے گولہ بارود سے انسانی جانوں کو سنگین خطرہ لاحق ہے۔ امدادی شراکت داروں نے گزشتہ 10 یوم میں 50 سے زیادہ ایسے علاقوں کی نشاندہی کی ہے جہاں بارودی سرنگیں بچھی ہیں۔ اس مسئلے کی وجہ سے شہریوں کی نقل و حرکت اور اشیا و خدمات کی ترسیل متاثر ہو رہی ہے۔

اقوام متحدہ کے امدادی اقدامات

اقوام متحدہ اور اس کے شراکت دار شام بھر میں امدادی اقدامات جاری رکھے ہوئے ہیں اور جہاں سلامتی کے حالات اجازت دیں وہاں معطل شدہ سرگرمیاں دوبارہ شروع کی جا رہی ہیں۔

شام کے مغربی علاقے حمہ میں مقامی اور قومی شراکت دار امدادی سرگرمیوں کا بتدریج دوبارہ آغاز کر رہے ہیں۔ الحسین میں پانی کی فراہمی کے مراکز دوبارہ فعال ہو گئے ہیں جن سے حمص اور حمہ کے لوگوں کو پانی مہیا کیا جا رہا ہے۔ تاہم شمال مشرق میں عدم تحفظ کے باعث امدادی سرگرمیاں تاحال محدود ہیں۔

'اوچا' نے کہا ہے کہ مسائل کے باوجود امدادی شراکت داروں نے طبقہ اور رقعہ میں پناہ گزین لوگوں میں درجنوں خیمے اور ہزاروں کمبل، گدے اور سلیپنگ بیگ تقسیم کیے ہیں۔ تاہم، موسم سرما میں متوقع بارشوں، برف باری اور سیلاب کے خطرے کے پیش نظر ادارے کو مزید مالی وسائل کی ضرورت ہے۔

امدادی امور کے لیے اقوام متحدہ کے اعلیٰ سطحی رابطہ کار ٹام فلیچر کا کہنا ہے کہ شام کے لیے امداد جاری رہنی چاہیے اور طبی و دیگر خدمات کا برقرار رہنا ضروری ہے۔ ضرورت مند لوگوں کو جب بھی اور جہاں کہیں بھی مدد کی ضرورت ہو گی امدادی ادارے اس کی فراہمی کے لیے تیار ہوں گے۔