انسانی کہانیاں عالمی تناظر

جنرل اسمبلی: ’انروا‘ کی حمایت اور غزہ میں فوری جنگ بندی کی قراردادیں منظور

United Nations کے جنرل اسمبلی ہال کا منظر بڑی اسکرینوں پر ووٹنگ کا نتیجہ دکھا رہا ہے: حق میں 159، مخالفت میں 9، اور 11 غیر حاضر۔
UN News 'انروا' کے حق میں پیش کی گئی قرارداد کو 159 ارکان کی حمایت حاصل ہوئی۔

جنرل اسمبلی: ’انروا‘ کی حمایت اور غزہ میں فوری جنگ بندی کی قراردادیں منظور

امن اور سلامتی

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے غزہ میں جنگ بندی، یرغمالیوں کی رہائی اور فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے امدادی ادارے (انروا) کو تحفظ دینے اور اسرائیل سے اس کے خلاف پابندی ختم کرنے کے مطالبے پر مبنی قراردادوں کی بھاری اکثریت سے منظوری دے دی ہے۔

اسمبلی میں تمام فریقین سے غزہ میں فوری، غیرمشروط اور مستقل جنگ بندی اور حماس کی قید میں تمام یرغمالیوں کی فوری و غیرمشروط رہائی کے مطالبے سے متعلق قرارداد کے حق میں 158 اور مخالفت میں 9 ووٹ آئے جبکہ 13 ارکان رائے شماری سے غیرحاضر رہے۔

Tweet URL

'انروا' کے حق میں پیش کی گئی قرارداد کو 159 ارکان کی حمایت حاصل ہوئی۔ 9 ممالک نے اس کی مخالفت کی جبکہ 11 ارکان رائے شماری سے غیرحاضر رہے۔

امریکہ، اسرائیل، پیراگوئے اور متعدد دیگر ممالک نے ان قراردادوں کے خلاف ووٹ دیا۔ اقوام متحدہ میں امریکہ کی مستقل سفیر نے رائے شماری سے قبل اپنے مخالفانہ ووٹ کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ قراردادیں پیش کرنے والوں کا مقصد سیاسی فائدہ حاصل کرنا ہے۔

جنگ بندی اور دو ریاستی حل

پہلی قرارداد میں اسمبلی نے تنازع کے تمام فریقین سے کہا ہےکہ وہ اپنے ہاں قیدیوں، ناجائز طور پر زیر حراست تمام لوگوں کی رہائی اور دوران قید انتقال کر جانے والوں کی باقیات کی واپسی کے معاملے پر بین الاقوامی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریوں کو پورا کریں۔

اسمبلی نے غزہ کی پٹی میں شہری آبادی کو ضروری خدمات اور انسانی امداد تک فوری رسائی دینے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ اس قرارداد کے ذریعے ارکان نے فلسطینیوں کو بھوکا مارنے کی کسی بھی کوشش کو مسترد کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے تعاون سے غزہ میں انسانی امداد کی رسائی میں سہولت دینے کے لیے کہا ہے۔

قرارداد میں بین الاقوامی قانون کی پامالیوں پر احتساب کے لیے زور دیتے ہوئے فلسطینی مسئلے کے دو ریاستی حل سے اپنی مضبوط وابستگی کا اعادہ بھی کیا گیا ہے۔ اس تصور کی رو سے غزہ کی پٹی فلسطینی ریاست کا حصہ ہو گی اور اسرائیل اور فلسطین دو جمہوری ریاستوں کی حیثیت سے ایک دوسرے کے ساتھ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے تحت امن سے رہیں گے۔ جنرل اسمبلی نے غزہ کی پٹی میں آبادیاتی یا علاقائی حوالے سے کسی تبدیلی کی کوششوں کو مسترد کیا ہے۔

'انروا' کی حمایت

دوسری قرارداد میں اسمبلی نے اردن، شام، لبنان اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اس ادارے کی ذمہ داریوں اور اختیارات کے لیے اپنی مکمل حمایت کی توثیق کی ہے۔ اس میں اسرائیلی پارلیمنٹ 'کنیسٹ' میں رواں سال 28 اکتوبر کو 'انروا' کے خلاف قانون سازی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسرائیلی حکومت سےکہا گیا ہے کہ وہ اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کو پورا کرے، ادارے کو حاصل استحقاق اور استثنیٰ کا احترام کرے اور غزہ کی پوری پٹی میں ہر طرح کی انسانی امداد کی تیزرفتار، مکمل، محفوظ اور بلارکاوٹ رسائی کی ذمہ داری کو پورا کرے۔

اسمبلی نے واضح کیا ہے کہ 'انروا'60 لاکھ سے زیادہ رجسٹرڈ فلسطینی پناہ گزینوں کی مشکلات میں کمی لانے کے لیے ناگزیر کردار ادا کر رہا ہے اور اس کا یہ کام جاری رہنا چاہیے۔