انسانی کہانیاں عالمی تناظر

انسانی حقوق کے عالمی دن پر جاننے کی 5 اہم باتیں

انسانی حقوق کے عالمگیر اعلامیہ کا ابتدائی مسودہ۔
UN Photo/Greg Kinch
انسانی حقوق کے عالمگیر اعلامیہ کا ابتدائی مسودہ۔

انسانی حقوق کے عالمی دن پر جاننے کی 5 اہم باتیں

انسانی حقوق

آج انسانی حقوق کا عالمی دن منایا جا رہا ہے جو دنیا بھر میں تمام لوگوں کے لیے مساوات، انصاف اور وقار کی اہمیت یاد دلانے کا موقع ہے۔

'ہمارے حقوق، ہمارا مستقبل، ابھی اور اسی وقت' امسال اس دن کا خاص موضوع ہے جو عالمگیر مسائل پر قابو پانے کے اقدامات میں انسانی حقوق کی دائمی اہمیت کو واضح کرتا ہے۔

Tweet URL

اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق (او ایچ سی ایچ آر) نے اس سال حقوق کے فروغ و تحفظ کے لیے عملی اقدامات شروع کرتے ہوئے اس معاملے پر آگاہی بیدار کرنے اور دقیانوسی تصورات کو تبدیل کرنے کی منصوبہ بندی کی ہے۔

انسانی حقوق کے حوالے سے درج ذیل پانچ حقائق کے بارے میں سبھی کو آگاہ ہونا ضروری ہے۔

1۔ انسانی حقوق: عالمگیر اور ناقابل انتقال

انسانی حقوق ریاستوں کی جانب سے لوگوں کو نہیں دیے جاتے بلکہ ہر جگہ ہر فرد انسان ہونے کے ناطے ان کا مالک ہے۔ یہ حقوق نسل، صنف، قومیت یا اعتقادات سے ماورا ہیں اور تمام لوگوں کے لیے خلقی مساوات اور وقار کو یقینی بناتے ہیں۔

ان میں انسانی حقوق کے عالمگیر اعلامیے کے آرٹیکل 3 میں طے کردہ زندگی کے حق سمیت بنیادی حقوق اور تعلیم و صحت تک رسائی جیسے ایسے حق بھی شامل ہیں جو زندگی کو بہتر انداز سے جینے میں مدد دیتے ہیں۔

یہ اعلامیہ دنیا کی تاریخ میں سب سے زیادہ مرتبہ ترجمہ ہونے والی دستاویز ہے جو اس وقت 500 سے زیادہ زبانوں میں دستیاب ہے۔

انسانی حقوق ناقابل انتقال ہوتے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ انہیں مخصوص قانونی حالات کے علاوہ کسی سے چھینا نہیں جا سکتا۔ جائز قانونی کارروائی کے بعد کسی کو دی جانے والی قید کی سزا بھی ایسے ہی حالات میں شمار ہوتی ہے۔

2۔ مساوی، ناقابل تقسیم اور باہم منحصر حقوق

انسانی حقوق کے ناقابل تقسیم اور باہم منحصر ہونے کا مطلب یہ ہے کہ عام طور پر کسی ایک حق کی تکمیل کا انحصار دوسرے حق پر ہوتا ہے۔

مثال کے طور پر، انتخابات میں حق رائے دہی استعمال کرنے جیسے سیاسی حقوق سے کام لینے کے لیے تعلیم کا حق ضروری ہے۔ اسی طرح، زندگی اور وقار کے حقوق صحت اور صاف پانی تک رسائی کے حقوق سے وابستہ ہیں۔

پیچیدہ عالمی مسائل سے نمٹنے کے لیے حقوق کے اس باہمی ربط کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔

کسی ایک جگہ مسائل پر قابو پانے سے صنفی مساوات اور غربت کے خاتمے میں بھی مدد ملتی ہے۔ دوسری جانب، کوئی ایک حق نظرانداز کرنے سے افراد اور معاشروں کو کئی طرح سے نقصان پہنچتا ہے۔

3۔ حقوق کا عالمگیر اعلامیہ: فیصلہ کن اقدام

انسانی حقوق مختلف اعلامیوں، معاہدوں اور قانونی دستاویزات کے ذریعے ترتیب دیے گئے پیچیدہ اصول ہی نہیں بلکہ قابل عمل ضابطے بھی بن گئے ہیں۔

دوسری عالمی جنگ میں ڈھائے گئے مظالم کے بعد 1948 میں اس اعلامیے کی منظوری عمل میں آئی تھی جو عالمگیر انسانی حقوق پر دنیا کا پہلا جامع بیان تھا۔

انسانی حقوق کے بین الاقوامی قانون کی بنیاد کے طور پر اس اعلامیے کی 30 دفعات مساوات اور آزادی سے لے کر تشدد سے تحفظ تک بہت سے حقوق و آزادیوں کا احاطہ کرتی ہیں اور اسی کی بنیاد پر دنیا نے 80 سے زیادہ بین الاقوامی معاہدے کیے ہیں۔

شہری و سیاسی حقوق پر عالمی معاہدے اور معاشی، سماجی و ثقافتی حقوق کے معاہدے سمیت یہ اعلامیہ انسانی حقوق کا عالمگیر قانون کہلاتا ہے۔

4۔ ممالک کی ذمہ داری اور افراد کے لیے مدد

تمام ممالک نے انسانی حقوق کے نو بنیادی معاہدوں اور نو اختیاری مجموعہ ہائے ضوابط میں سے کم از کم ایک کی منظوری دے رکھی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بین الاقوامی قانون کے تحت ممالک اور ریاستوں کی ذمہ داری اور فرض ہے کہ وہ انسانی حقوق کا احترام، تحفظ اور ان کی تکمیل کریں گے۔

علاوہ ازیں، انسانی حقوق کے معاہدے افراد اور معاشروں کے لیے ایسا نظام بھی پیش کرتے ہیں جس کی بدولت وہ اپنے حقوق کی تکمیل کا مطالبہ اور تبدیلی کے لیے کام کر سکتے ہیں۔

'فرائیڈے فار دی فیوچر' جیسی نوجوانوں کے زیرقیادت نچلی سطح پر چلائی جانے والی تحریکوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ کیسے انسانی حقوق موسمیاتی انصاف کے مطالبات کو تقویت دے سکتے ہیں۔

5۔ انسانی حقوق کا دن: عملی اقدامات کا موقع

انسانی حقوق کا عالمی دن ہر سال منایا جاتا ہے جو اس معاملے میں اب تک حاصل ہونے والی کامیابیوں اور جاری جدوجہد کے بارے میں غورفکر کا موقع مہیا کرتا ہے۔

اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے اس دن پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ انسانی حقوق کا تعلق لوگوں سے ہے۔ ان کا تعلق ہر انسان اور اس کی زندگی، اس کی ضروریات، خواہشات اور خدشات سے ہے۔ ان کا تعلق زمانہ حال اور مستقبل کی امیدوں سے ہے۔

عالمگیر اعلامیے کی 76ویں سالگرہ بحرانوں کے دور میں امتناعی، حفاظتی اور انقلابی قوت کے طور پر انسانی حقوق کی طاقت کو واضح کرتی ہے۔