انسانی کہانیاں عالمی تناظر

نسل کشی پر عالمی عدالت انصاف کے فیصلوں کا احترام ضروری، گوتیرش

روانڈا میں تتسی نسل کشی کے متاثرین کی یاد میں اس سال منعقد ہونے والی تقریب کا ایک منظر۔
UN News/Eugene Uwimana
روانڈا میں تتسی نسل کشی کے متاثرین کی یاد میں اس سال منعقد ہونے والی تقریب کا ایک منظر۔

نسل کشی پر عالمی عدالت انصاف کے فیصلوں کا احترام ضروری، گوتیرش

انسانی حقوق

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا ہے کہ تقسیم، بداعتمادی اور تشدد سے بھری دنیا میں نسل کشی کا عفریت اب بھی منڈلا رہا ہے۔ اس جرم کا خاتمہ کرنے کے لیے عالمی عدالت انصاف (آئی سی جے) کے فیصلوں کا احترام کرنا ہو گا۔

سیکرٹری جنرل نے نسل کشی کے جرم کی روک تھام کے کنونشن کی منظوری کو 76 برس مکمل ہونے پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ ہولوکاسٹ کی ہولناکیوں کے بعد طے پانے والا یہ معاہدہ متاثرین سے دنیا کا وعدہ تھا کہ ایسے جرائم دوبارہ کبھی رونما نہیں ہوں گے۔

Tweet URL

دنیا بھر کی حکومتوں پر لازم ہے کہ وہ اس کنونشن کی توثیق کریں، اس پر مکمل عملدرآمد کو یقینی بنائیں اور نسل کشی کے جرم میں ملوث عناصر کو انصاف کے کٹہرے میں لائیں۔

وحشیانہ جرم کی روک تھام

سیکرٹری جنرل کا کہنا ہے کہ دنیا کو اس جرم کی روک تھام کے لیے اپنے ہاتھ مضبوط کرنا ہوں گے۔ اس ضمن میں تعلیم کا فروغ اور غلط و گمراہ کن اطلاعات سے نمٹنا بھی شامل ہے۔ ایسی اطلاعات نفرت پر مبنی اظہار کو فروغ اور تقویت دیتی ہیں اور لوگوں کو نسل کشی پر اکساتی ہیں۔

انتونیو گوتیرش نے اس کنونشن کا اطلاق یقینی بنانے کے لیے 'آئی سی جے' کے فیصلوں کا احترام کرنے اور ان پر عملدرآمد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا بھر کے ممالک کو نسل کشی کی ابتدائی علامات پہچاننے اور اس حوالے سے خبردار ہونے کے لیے ہرممکن اقدامات کرنا ہوں گے۔

ان کا کہنا ہے کہ اس وحشیانہ جرم کی روک تھام کے لیے کوششوں کو تیز کرنا ہی متاثرین کو خراج عقیدت پیش کرنے کا بہترین طریقہ ہے۔

نسل کشی کے خلاف کنونشن

نسل کشی کے جرم کی روک تھام اور اس کا ارتکاب کرنے والوں کے لیے سزا سے متعلق 1948 کا کنونشن اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی جانب سے انسانی حقوق کے بارے میں منظور کیا جانے والا پہلا معاہدہ تھا۔ اس کی منظوری دوسری جنگ عظیم کے بعد دی گئی جب یورپ میں وسیع پیمانے پر یہودیوں کے قتل کے واقعات (ہولوکاسٹ) پیش آئے تھے۔

انسداد نسل کشی کا کنونشن عالمی برادری کے اس عزم کا اظہار ہے کہ ایسے جرائم کا اعادہ نہیں ہو گا۔ تاہم ان واقعات کا مکمل طور سے قلع قمع نہیں ہو سکا۔ 1994 میں روانڈا اور 1995 میں سربرنیکا کا قتل عام اس کی نمایاں مثال ہیں۔

19 دفعات پر مشتمل یہ کنونشن 'نسل کشی' کی پہلی قانونی تعریف متعین کرتا ہے۔ یہ نسل کشی کے جرم کی روک تھام اور اس پر سزا کے حوالے سے کنونشن کی توثیق کرنے والے ممالک کی ذمہ داریاں بھی واضح کرتا ہے۔ اب تک 153 ممالک اس کنونشن کی توثیق کر چکے ہیں۔