سال 2025 میں انسانی امدادی کارروائیوں کے لیے یو این کو درکار 47 ارب ڈالر
امدادی امور کے لیے اقوام متحدہ کے رابطہ دفتر (اوچا) نے آئندہ سال دنیا بھر میں 19 کروڑ لوگوں کی مدد کے لیے 47 ارب ڈالر فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔
'اوچا' نے انسانی امداد کی ضرورت کے حوالے سے آج ایک نیا جائزہ پیش کیا ہے جس کے مطابق 2025 میں دنیا کے 30 کروڑ 50 لاکھ لوگوں کو مدد درکار ہو گی۔ مطلوبہ مالی وسائل سے 33 ممالک اور پناہ گزینوں کی میزبانی کرنے والے نو علاقوں میں اقوام متحدہ اور اس کے شراکتی اداروں کو تعاون مہیا کیا جانا ہے۔
'اوچا' کے سربراہ ٹام فلیچر نے کہا ہے کہ بچوں، خواتین، جسمانی معذور اور غریب افراد سمیت دنیا کے کمزور اور غیرمحفوظ لوگ جنگوں اور موسمیاتی تبدیلی کی بھاری قیمت چکا رہے ہیں جنہیں فوری مدد کی ضرورت ہے۔
دنیا کو انتہائی ضرورت مند لوگوں کے کام آنا ہو گا اور امدادی اقدامات میں ان کی بات پر بھی توجہ دینا ہو گی۔ مالی وسائل کی ان اپیلوں پر مزید عالمی یکجہتی درکار ہے اور بین الاقوامی قانون کو برقرار رکھنے کے لیے دلیرانہ سیاسی اقدامات کی ضرورت ہے۔
شرمندگی، خوف اور امید
ٹام فلیچر کا کہنا ہے کہ 18 نومبر کو عہدہ سنبھالنے کے بعد یہ پہلا جائزہ پیش کرتے ہوئے وہ بیک وقت شرمندگی اور خوف محسوس کر رہے ہیں لیکن اس کے ساتھ انہیں بہتری کی امید بھی ہے۔ شرمندگی اس لیے کہ، جائزہ رپورٹ کا ہر ہندسہ جنگوں، موسمیاتی بحران اور بین الاقوامی یکجہتی کے نظام کی شکست و ریخت سے تباہ حال زندگیوں کی نمائندگی کرتا ہے۔ 2024 امدادی کارکنوں اور ان سے مدد وصول کرنے والوں کے لیے تباہ کن سال تھا اور انہیں خدشہ ہے کہ 2025 میں بھی یہی مسائل درپیش رہیں گے۔
تاہم، انہوں نے کہا کہ بہت سے مسائل کے باوجود رواں سال 11 کروڑ 60 لاکھ لوگوں کو انسانی امداد پہنچائی گئی اور 'اوچا' کی حالیہ رپورٹ اس پیش رفت کو اگلے برس بھی جاری رکھنے کا واضح لائحہ عمل پیش کرتی ہے۔
امدادی ضروریات کے بڑے اسباب
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جنگیں اور موسمیاتی بحران بڑھتی ہوئی امدادی ضروریات کے بڑے اسباب ہیں۔ چونکہ یہ دونوں بحران انسانی ساختہ ہیں اسی لیے ان پر قابو پانا بھی ممکن ہے۔
2024 حالیہ تاریخ کا انتہائی سفاکانہ سال رہا جس میں بڑے پیمانے پر لوگوں نے جنگوں کا سامنا کیا۔ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو 2025 میں اس سے بھی زیادہ بگاڑ دیکھنےکو ملے گا۔ رواں سال کے وسط تک جنگوں اور تشدد کے باعث 12 کروڑ 30 لاکھ لوگوں کو نقل مکانی کرنا پڑی جبکہ یہ تعداد 2012 سے بڑھتی چلی آئی ہے۔
عام شہری ان جنگوں کی بھاری قیمت چکا رہے ہیں جن میں بین الاقوامی انسانی قانون اور انسانی حقوق کے بین الاقوامی قانون کی کھلی پامالی اور بڑے پیمانے پر مظالم کا ارتکاب ہوتا رہا ہے۔ اس کے ساتھ عالمی حدت میں خطرناک رفتار سے اضافہ بھی دیکھنے کو ملا اور موسمیاتی بحران کے باعث قدرتی آفات کی تعداد اور شدت میں اضافہ ہونے سے لاکھوں لوگوں کی زندگیاں اور روزگار متاثر ہوئے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انسانی بحران جس قدر طویل ہوں گے ان سے متاثرہ لوگوں کےحالات بھی اتنے ہی تاریک ہوتے جائیں گے۔
امداد اور تحفظ میں بڑی رکاوٹیں
'اوچا' کے اس جائزے میں بتایا گیا ہے کہ اگرچہ عطیہ دہندگان فیاضانہ طور سے امدادی مالی وسائل فراہم کر رہے ہیں تاہم یہ رقم بڑھتی ہوئی ضروریات کے مقابلے میں ناکافی ہے۔ رواں برس دنیا بھر میں امدادی سرگرمیوں کے لیے 50 ارب ڈالر درکار تھے لیکن گزشتہ مہینے تک اس رقم کا 43 فیصد ہی مہیا ہو سکا تھا۔
رپورٹ کے مطابق، رواں سال شام کے لیے غذائی امداد میں 80 فیصد تک کمی ہوئی، میانمار میں لوگوں کو تحفظ کی فراہمی محدود ہوتی جا رہی ہے، یمن میں صاف پانی اور صحت و صفائی کے لیے دی جانے والی مدد میں بھی کمی آ رہی ہے اور چاڈ میں بھوک پھیلنے لگی ہے۔
بین الاقوامی قانون کی پامالی مسلح تنازعات میں لوگوں کو مدد اور تحفظ دینے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے اور امسال سب سے بڑی تعداد میں امدادی کارکنوں کی ہلاکت ہوئی۔
'اوچا' کا کہنا ہے کہ یہ جائزہ امدادی کاموں پر اخراجات میں کمی لانے اور ان کی تاثیر کو بہتر بنانے کے علاوہ ضرورت مند لوگوں کو تحفظ مہیا کرنے کے ضمن میں امدادی شراکت داروں کی کڑی محنت کی عکاسی کرتا ہے۔ تاہم، امدادی کارراوئیوں کو جتنا بھی بہتر بنا لیا جائے اس مقصد کے لیے مطلوبہ مقدار میں مالی وسائل فراہم کیے بغیر مکمل کامیابی حاصل نہیں ہو سکتی۔