جنرل اسمبلی: فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی قبضہ کے خلاف قرارداد منظور
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے فلسطینی مسئلے کے پرامن حل، اقوام متحدہ کے سیکرٹریٹ میں فلسطینیوں کے حقوق سے متعلق شعبے کی افادیت اور اسرائیل پر گولان کے مسئلے کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے پر زور دینے کی قراردادیں منظور کر لی ہیں۔
تینوں قراردادیں جنرل اسمبلی کے دسویں ہنگامی خصوصی اجلاس میں عرب ممالک کے گروپ کے سربراہوں، اسلامی تعاون کی تنظیم کے گروپ اور غیروابستہ ممالک کی تحریک کے رابطہ دفتر کی جانب سے پیش کی گئی تھیں۔
فلسطینی مسئلے کے پرامن حل کی ضرورت
پہلی قرارداد میں فلسطینی مسئلے کے پرامن حل پر زور دیتے ہوئے مشرق وسطیٰ میں اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق، بلاتاخیر جامع، منصفانہ اور پائیدار امن قائم کرنے اور فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی قبضے کے خاتمے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
اس قرارداد کے حق میں 157 اور مخالفت میں 8 ووٹ آئے جبکہ 7 ارکان (ممالک) نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔
قرارداد میں بین الاقوامی قانون کے مطابق فلسطینی مسئلے کے دو ریاستی حل کی حمایت کی گئی ہے جس کے تحت اسرائیل اور فلسطین کی ریاستیں 1967 سے پہلے کی سرحدی حدود کی بنیاد پر ایک دوسرے کے ساتھ امن و سلامتی سے رہیں گی۔
اقوام متحدہ میں فلسطینی حقوق کا شعبہ
دوسری قرارداد اقوام متحدہ کے سیکرٹریٹ میں فلسطینیوں کے حقوق سے متعلق شعبے کے بارے میں تھی۔ اس قرارداد کے حق میں 101 اور مخالفت میں 27 ووٹ آئے جبکہ 42 ارکان نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔
اس قرارداد میں کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ میں فلسطینیوں کے حقوق سے متعلق شعبے نے اس مسئلے کی جانب عالمی توجہ مبذول کرانے اور تنازع کے فوری اور پرامن حل کے لیے تعمیری اور مثبت کردار ادا کیا ہے۔
گولان کا قبضہ چھوڑنے کا مطالبہ
شام کے علاقے گولان پر اسرائیل کے طویل قبضے کے بارے میں قرارداد کے حق میں 97 ممالک نے ووٹ دیا۔ اس کی مخالفت میں 8 ووٹ آئے جبکہ 64 ممالک رائے شماری سے غیرحاضر رہے۔
اس قرارداد میں کہا گیا ہے کہ گولان پر اسرائیل کا مسلسل قبضہ مشرق وسطیٰ مں منصفانہ، جامع اور پائیدار امن کے حصول کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ اسرائیل کو چاہیے کہ وہ اس مسئلے اور لبنان کے ساتھ تنازع کو حل کرنے کے لیے بات چیت جاری رکھے اور گزشتہ بات چیت میں کیے گئے اپنے وعدوں کو پورا کرے۔
قرارداد میں اسرائیل سے یہ مطالبہ بھی کیا گیا ہے کہ وہ شامی گولان کا قبضہ چھوڑ دے اور سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کا پاس کرتے ہوئے علاقے کو 4 جون 1967 کی سرحد تک مکمل طور پر خالی کر دے۔
ہنگامی خصوصی اجلاس
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا 10واں ہنگامی خصوصی اجلاس سب سے پہلے اپریل 1997 میں قطر کی درخواست پر بلایا گیا تھا۔اس اجلاس کا مقصد اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مشرقی یروشلم کے علاقے جبل ابو غنیم میں 6,500 گھروں پر مشتمل آبادی کی تعمیر روکنا تھا۔ اس مسئلے پر سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی کے متعدد اجلاس منعقد ہو چکے ہیں۔
حالیہ اجلاس بھی جنرل اسمبلی کے انہی اجلاسوں کا تسلسل ہے۔ 1997 کے بعد یہ اجلاس کئی مرتبہ ملتوی اور دوبارہ شروع ہوا ہے۔ اس سے قبل 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر حماس کے حملوں کے بعد غزہ میں جنگ کے آغاز سے فوری بعد بھی یہ اجلاس بلایا گیا تھا۔