مشرق وسطیٰ میں امن طاقت کے زور پر ناممکن، صدر جنرل اسمبلی
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر فائلیمن یانگ نے واضح کیا ہےکہ مشرق وسطیٰ میں امن و سلامتی طاقت یا قبضے کے زور پر ممکن نہیں بلکہ اس کے لیے بات چیت، باہمی احترام اور عالمی قانون کی بنیاد پر منصفانہ، جامع و پائیدار طریقہ ہائے کار سے کام لینے کا عزم درکار ہے۔
جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ اسرائیل اور فلسطین کے مسئلے کا دو ریاستی حل ضروری ہے اور یہی خطے میں پائیدار امن کا واحد راستہ ہے۔ 14 ماہ سے جاری جنگ اور تکالیف کے بعد اس تصور کو حقیقت کا روپ دینے کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ دو ریاستی حل 77 سال پہلے جنرل اسمبلی کی قرارداد 181 میں پیش کیا گیا تھا اور بدقسمتی سے یہ تاحال ناقابل رسائی ہے۔ فلسطینیوں کے ریاستی حق سے انکار کے باعث تشدد اور مایوسی کا سلسلہ ختم ہونے کو نہیں آ رہا۔ یہ حل ناصرف ایک سیاسی طریقہ کار بلکہ اخلاقی لازمے کی حیثیت بھی رکھتا ہے جو فلسطینیوں کے حق خود ارادیت، اسرائیل کی طویل مدتی سلامتی کے تحفظ اور فریقین کو مساوی حقوق اور انسانی وقار کے ساتھ جینے کی ضمانت دیتا ہے۔
امن کی جانب اہم قدم
فائلیمن یانگ نے اسرائیل اور لبنان کے مابین حالیہ جنگ بندی کا خیرمقدم کیا جو ایک سال سے جاری کشیدگی کے بعد عمل میں آئی ہے اور اس میں ہزاروں لوگوں کی جانیں گئیں، بڑے پیمانے پر تباہی پھیلی اور بلیو لائن کے اطراف میں بڑے پیمانے پر نقل مکانی ہوئی۔
انہوں نے جنگ بندی کا معاہدہ کروانے والوں کی کوششوں کو سراہا اور تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ امن کو برقرار رکھیں اور سلامتی کونسل کی قرارداد 1701 پر مکمل عملدرآمد یقینی بنائیں۔
ان کا کہنا تھا کہ مشرق وسطیٰ کے شہری بہتر مستقبل کے حق دار ہیں اور یہ معاہدہ کشیدگی میں کمی لانے اور استحکام کی جانب واپسی کے لیے ایک اہم قدم ہے۔
غزہ میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ
غزہ کی صورت حال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے علاقے میں فوری جنگ بندی اور باقی ماندہ تمام یرغمالیوں کی غیرمشروط رہائی کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس جنگ میں ہزاروں ہلاکتیں ہوئیں، لاکھوں شہریوں کو نقل مکانی کرنا پڑی اور شہری ڈھانچہ ملبے کا ڈھیر بن گیا ہے۔
فائلیمن یانگ نے کہا کہ اس صورت حال کا جلد از جلد خاتمہ ضروری ہے۔ ایسا کرنا ممکن ہے اور اس میں مزید تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔
انہوں نے تنازع کے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ غزہ کے تباہ کن حالات سے نمٹنے کے لیے علاقے میں انسانی امداد کی فوری اور بلارکاوٹ رسائی یقینی بنائیں۔