زمین کے بڑھتے بنجر پن سے دنیا کے تین ارب لوگ متاثر
زمین کی زرخیزی میں کمی آنے اور بنجر پن کا مسئلہ دنیا میں تین ارب لوگوں کو متاثر کر رہا ہے جس کے باعث مہاجرت، عدم استحکام اور عدم تحفظ میں تیزی سے اضافہ ہونے لگا ہے۔
اس وقت دنیا میں 40 فیصد قابل کاشت اراضی کی زرخیزی کم ہو چکی ہے جس کے نتیجے میں اس کی حیاتیاتی یا معاشی افادیت بھی کم ہوتی جا رہی ہے۔ اس طرح ماحول، حیاتیاتی تنوع اور لوگوں کے روزگار پر سنگین منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
یہ بات خشک سالی، ارضی بنجر پن اور زمین کی بحالی پر اقوام متحدہ کی سرپرستی میں ہونے والی کانفرنس کے 16ویں اجلاس میں اس کے نومنتخب صدر اور سعودی عرب کے وزیر ماحولیات، پانی و زراعت عبدالرحمان الفادلی نے بتائی ہے۔
یہ کانفرنس زمینی بنجر پن کو روکنے کے لیے اقوام متحدہ کے کنونشن (یو این سی سی ڈی) کے ریاستی فریقین کا 16واں اجتماع (کاپ 16) ہے جو سعودی عرب کے دارالحکومت میں جاری ہے۔
خشک سالی اس کانفرنس کا ترجیحی موضوع ہے کیونکہ دنیا کے بہت سے حصوں میں یہ مسئلہ تواتر اور شدت سے سامنے آ رہا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی اور زمین کے ناپائیدار انتظام کے باعث گزشتہ 24 برس میں خشک سالی 29 فیصد تک بڑھ گئی ہے۔
'یو این سی سی ڈی' نے اس کاپ کو لوگوں پر مرتکز طریقہ کار کے ذریعے زمین کی حالت کو بہتر بنانے اور خشک سالی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے تیز رفتار اقدامات اور عالمگیر عزم کو مضبوط کرنے کا اہم موقع قرار دیا ہے۔
انسانیت کی پرورش
زمینی بنجر پن پر اقوام متحدہ کا کنونشن 30 برس پہلے طے پایا تھا۔ 'یو این سی سی ڈی' کے موجودہ ایگزیکٹو سیکرٹری ابراہیم تھیا نے حالیہ کانفرنس میں خشک سالی اور بنجرپن کے نتیجے میں ضائع ہوتی زمین کی بحالی کی اہمیت کو واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کام دراصل انسانیت کو پالنے پوسنے کا عمل ہے۔ آج دنیا میں زمین کو جس انداز میں استعمال کیا جائے گا اس کے ارضی مستقبل پر براہ راست اثرات ہوں گے۔
انہوں نے زمینی ضیاع سے متاثرہ کسانوں، ماؤں اور نوجوانوں سے اپنی ملاقاتوں کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ زمین کے بنجر ہونے سے ان کی زندگی کا ہر پہلو متاثر ہو رہا ہے۔ ان کے لیے کھانے پینے کی اشیا کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں، انہیں توانائی کے حصول پر غیرمتوقع بھاری ادائیگی کرنا پڑ رہی ہے اور معاشروں پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ زمینی نقصان کے باعث غریب خاندان غذائیت بھری خوراک اور بچے محفوظ مستقبل سے محروم ہو رہے ہیں۔
بنجر زمین کی بحالی
ابراہیم تھیا نے کہا کہ 'کاپ 16' حکومتوں اور بین الاقوامی اداروں کے رہنماؤں، نجی شعبے اور سول سوسائٹی کے لیے اس مسئلے پر قابو پانے کے ضمن میں ہونے والی تازہ ترین تحقیق پر بات چیت اور زمین کو پائیدار طور سے کام میں لانے کے لیے لائحہ عمل تیار کرنے کا موقع ہے۔ باہم مل کر دنیا بنجر پن پر قابو پا سکتی ہے لیکن اس کے لیے دستیاب موقع سے فائدہ اٹھانا ضروری ہے۔
اقوام متحدہ کی نائب سیکرٹری جنرل امینہ محمد نے کانفرنس کے لیے اپنے ویڈیو پیغام میں مندوبین پر زور دیا کہ وہ اپنا کردار ادا کرتے ہوئے تبدیلی لائیں اور اس مقصد کے لیے بین الاقوامی تعاون کو مضبوط بنانے سمیت تین ترجیحات پر کام ہونا چاہیے۔
زمین کی بحالی کے لیے کی جانے والی کوششوں کے ضمن میں بڑے پیمانے پر مالی وسائل جمع کرنا بھی بہت ضروری ہے۔ تاہم یہ کام آسان نہیں ہو گا اور اس کے لیے صرف سرکاری شعبے پر انحصار کرنا بھی دانشمندی نہیں۔ اس مقصد کے لیے 2030 تک 2.6 ٹریلین ڈالر کی سرمایہ کاری درکار ہے جبکہ اتنی رقم دنیا نے گزشتہ سال دفاعی مقاصد کے لیے خرچ کر دی تھی۔
مشمولہ کوششوں کی ضرورت
کانفرنس میں شریک سول سوسائٹی کے اداروں کی جانب سے بات کرتے ہوئے تہنیت نعیم ستی نے 'کاپ 16' میں پرعزم اور مشمولہ اقدام کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ ہر سطح پر فیصلہ سازی میں خواتین، نوجوانوں، قدیمی مقامی باشندوں، گلہ بانی کرنے والوں اور مقامی لوگوں کی بامعنی شمولیت یقینی بنائی جانی چاہیے۔ان لوگوں کی بصیرت اور تجربات ایسی پالیسیاں تشکیل دینے میں خاص اہمیت کے حامل ہوتے ہیں جن سے زمینی بنجر پن کو روک کر پائیدار ارضی انتظام اور بحالی کے عمل کو آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔
کانفرنس کے مقاصد
یہ کانفرنس 13 دسمبر تک جاری رہے گی اور اس دوران مندوبین درج ذیل نتائج کے حصول کی کوشش کریں گے۔
- 2030 تک اور اس کے بعد بنجر زمین کی بحالی کی رفتار میں تیزی لانا۔
- شدت اختیار کرتی خشک سالی اور ریت و گرد کے طوفانوں سے تحفظ کو مضبوط کرنا۔
- مٹی کی زرخیزی بڑھانا اور فطرت دوست خوراک کی پیداوار میں اضافہ کرنا۔
- زمینی حقوق کا تحفظ اور پائیدار ارضی نگرانی کے لیے مساوات کا فروغ۔
- زمین کے ذریعے موسمیاتی اور حیاتیاتی تنوع کے مسائل کا حل یقینی بنانا۔
- معاشی مواقع پیدا کرنا اور نوجوانوں کے لیے زمین کی بنیاد پر باوقار روزگار کی تخلیق۔