پلاسٹک آلودگی کے خاتمہ پر حتمی معاہدہ اگلے سال تک ملتوی
پلاسٹک کی آلودگی کے خلاف معاہدے طے کرنے کی غرض سے ہونے والا اجلاس بنیادی نوعیت کے متعدد معاملات پر اتفاق رائے کے ساتھ ختم ہو گیا ہے۔
جنوبی کوریا کے شہر بوسان میں ہونے والے اس اجلاس میں مندوبین نے معاہدے کو حتمی اور قابل قبول صورت دینے کے لیے مزید بات چیت کا فیصلہ کیا ہے جو آئندہ سال دوبارہ ہو گی، تاہم فی الوقت اس اجلاس کے مقام کا تعین نہیں کیا گیا۔
25 نومبر سے جاری اس اجلاس میں دنیا بھر سے 3,300 لوگوں نے شرکت کی جن میں 170 سے زیادہ ممالک اور 440 مشاہدہ کار اداروں کے نمائندے بھی شامل تھے۔مندوبین نے اس مسئلے پر بین الحکومتی مذاکراتی کمیٹی (آئی این سی) کے سربراہ اور ایکواڈور کے سفیر لوئس وایا والڈیویسو کی تیار کردہ دستاویز پر اتفاق رائے کیا جس کے مندرجات آئندہ بات چیت کی بنیاد ہوں گے۔
واضح اور ناقابل تردید عزم
اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام (یونیپ) کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر انگر اینڈرسن نے اجلاس کے اختتام پر خطاب کرتے ہوئے اس میں ہونے والی پیش رفت کو خوش آئندہ قرار دیا اور کہا کہ پلاسٹک کی آلودگی پر موثر طور سے قابو پانے کی راہ میں بہت سے مسائل باقی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اس آلودگی کا خاتمہ کرنے کے لیے دنیا کا عزم واضح اور ناقابل تردید ہے۔ بوسان میں ہونے والی بات چیت دنیا کو اس معاہدے سے مزید قریب لے آئی ہے جو دنیا بھر کے انسانوں، ماحول اور مستقبل کو پلاسٹک کی آلودگی سے تحفظ فراہم کرے گا۔
انگر اینڈرسن نے کہا کہ مذاکرات کار معاہدے کے متن سے متعلق بڑی حد تک اتفاق رائے پیدا کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ اس کے علاوہ مختلف ممالک کے موقف اور انہیں درپیش مشترکہ مسائل پر بھی بہتر سمجھ بوجھ دیکھنے کو ملی ہے۔ تاہم، کئی اہم باتوں پر اختلافات بھی برقرار ہیں جن پر قابو پانے کے لیے کچھ مزید وقت درکار ہو گا۔
کامیابی کی جانب مضبوط قدم
اس موقع پر 'آئی این سی' کے سربراہ لوئس والڈیویسو کا کہنا تھا کہ کمیٹی اس مسئلے کا حل نکالنے کے لیے ہمیشہ پرعزم رہی ہے لیکن عزائم کو عملی جامہ پہنانے میں وقت درکار ہوتا ہے۔ دنیا کے پاس اس مقصد کے لیے درکار بہت سی چیزیں موجود ہیں اور حالیہ کانفرنس کو کامیابی کی جانب ایک مضبوط قدم قرار دینا بے جا نہ ہو گا۔
انہوں نے تمام مندوبین سے کہا کہ وہ بہتری کا راستہ نکالنے، اختلافات کو کم کرنے اور بات چیت کا سلسلہ جاری رکھیں۔ پلاسٹک کی آلودگی کا خاتمہ کرنا ایک اعلیٰ اور ہنگامی توجہ کا متقاضی مقصد ہے۔ دنیا کو ماحولیاتی نظام اور انسانی صحت پر اس آلودگی کے سنگین اثرات پر قابو پانا اور اس سے ہونے والے نقصان کا ازالہ کرنا ہے۔
صحت کے لیے سنگین خطرہ
پلاسٹک کی آلودگی ایک بڑا عالمی مسئلہ ہے۔ روزانہ کوڑا کرکٹ سے بھرے 2,000 ٹرکوں کے برابر پلاسٹک دنیا کے سمندروں، دریاؤں اور جھیلوں کی نذر ہو جاتا ہے جس سے جنگلی حیات اور انسانی صحت کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ خوراک، پانی اور مٹی کے علاوہ انسانی اعضا اور نومولود بچوں کی آنول میں بھی پلاسٹک کے باریک ذرات پائے جا رہے ہیں۔
2022 میں اقوام متحدہ کی ماحولیاتی اسمبلی میں منظور کردہ ایک قرارداد میں پلاسٹک کی آلودگی کو ختم کرنے کا معاہدہ طے کرنے کا فیصلہ ہوا تھا۔ اس ضمن میں پلاسٹک کی تیاری، استعمال اور اس کی تلفی سمیت تمام معاملات کو قانونی دائرے میں لایا جانا ہے۔