انسانی کہانیاں عالمی تناظر

ایڈز کے خاتمہ میں انسانی حقوق کی اہمیت مرکزی، یو این ادارہ

اس وقت بھی دنیا کے 63 ممالک میں ہم جنس تعلقات کو جرم سمجھا جاتا ہے جس سے متاثرہ افراد ایچ آئی وی کی روک تھام، تشخیص یا علاج سے محروم ہو جاتے ہیں۔
UNAIDS
اس وقت بھی دنیا کے 63 ممالک میں ہم جنس تعلقات کو جرم سمجھا جاتا ہے جس سے متاثرہ افراد ایچ آئی وی کی روک تھام، تشخیص یا علاج سے محروم ہو جاتے ہیں۔

ایڈز کے خاتمہ میں انسانی حقوق کی اہمیت مرکزی، یو این ادارہ

صحت

یکم دسمبر کو ایڈز کے عالمی دن کی مناسبت سے اقوام متحدہ کے مشترکہ پروگرام برائے ایچ آئی وی و ایڈز ( یو این ایڈز) کی ایک تازہ رپورٹ بعنوان "ایڈز کے خاتمے کے لئے انسانی حقوق کا راستہ اختیار کریں" میں انسانی حقوق کی ایڈز کے خاتمے کی جدوجہد میں مرکزی اہمیت کو اجاگر کیا گیا ہے۔

اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کیسے بدنامی، امتیازی رویے اور قوانین ایچ آئی وی کے خلاف جدوجہد میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔ اس وجہ سے ایڈز کے علاج اور روک تھام میں ہونے والی قابلِ ذکر ترقی کے باوجود انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں لوگوں کی بنیادی سہولیات تک رسائی کو روک رہی ہیں۔

Tweet URL

سال 2023  میں 6 لاکھ 30 ہزار افراد ایڈز سے متعلقہ بیماریوں کے باعث ہلاک ہوئے اور تقریباً 13 لاکھ لوگ ایچ آئی وی کی نئی اقسام کا شکار ہوئے۔ اس وقت دنیا بھر میں 93 لاکھ ایچ آئی وی کے مریض زندگی بچانے والے علاج سے محروم ہیں۔

انسانی حقوق اور محروم طبقات

دنیا بھر میں خواتین، لڑکیاں اور ایل جی بی ٹی کیو پلس افراد سمیت دیگر محروم طبقات ایڈز سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ اس ضمن میں افریقی ممالک کی صورتحال خاص طور پر تشویشناک ہے جہاں روزانہ کی بنیاد پر 15 سے 24 سال عمر تک کی 570 نوجوان خواتین ایچ آئی وی کا شکار ہوتی ہیں جو ان کے مرد ہم عمر ساتھیوں کے مقابلے میں تین گنا زیادہ ہے۔

اس بحران کے حوالے سے ایچ آئی وی کارکن نومونڈے نگیما کا کہنا ہے کہ "لڑکیوں کے خلاف امتیازی سلوک اور تشدد کو انسانی حقوق اور صحت کی ایمرجنسی سمجھ کر نمٹانا ہوگا۔"

سزا دینے والے قوانین

اس وقت دنیا کے 63 ممالک میں اب بھی ہم جنس تعلقات کو جرم سمجھا جاتا ہے جس سے متاثرہ افراد ایچ آئی وی کی روک تھام، ٹیسٹ یا علاج سے محروم ہو جاتے ہیں۔ ایسے ممالک میں ہم جنس پرست مردوں میں ایچ آئی وی کا پھیلاؤ ان ممالک کے مقابلے میں پانچ گنا زیادہ ہے جہاں یہ قوانین موجود نہیں ہیں۔

ایم پیکٹ گلوبل ایکشن کے رابطہ کاری مینیجر ایکسل بوٹیسٹا کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ "امتیازی قوانین کمزور طبقات کو مدد حاصل کرنے سے روکتے ہیں، اس لئے حکومتوں کو انسانی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانا ہوگا۔"

سائنسی ترقی اور مساوی رسائی کا چیلنج

اس رپورٹ میں سائنسی پیشرفت، جیسے طویل مدتی انجیکشن کی صورت میں دستیاب ایڈز کی دواؤں کو امید کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔ تاہم ان کے محدود پیداواری عمل اور مہنگی قیمتوں کی وجہ سے یہ ادویات بہت سے لوگوں کی پہنچ سے باہر ہیں۔

جنیوا یونیورسٹی ہسپتال کی ایچ آئی وی ماہر الیگزینڈرا کالمی کے مطابق "ایسی طبی سہولیات کو تجارتی مال کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا جو زندگی بچانے والی ہوں۔"

اس رپورٹ میں مختلف رہنماؤں کے خیالات بھی شامل کئے گئے ہیں جن میں مشہور گلوکار ایلٹن جان، آئرلینڈ کے صدر مائیکل ڈی ہِگنز، اور ایچ آئی وی کارکن جین گاپیا نیونزیما شامل ہیں۔ ایلٹن جان نے لکھا:"ایڈز کو 'دوسروں' کی بیماری سمجھنے کا رویہ اس کے خاتمے کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کے ساتھ ہمدردی اور شمولیت اس مسئلے کو حل کرنے کا واحد راستہ ہیں۔"

یو این ایڈز نے خبردار کیا ہے کہ ایڈز کا خاتمہ محض صحت کا مسئلہ نہیں بلکہ انسانی حقوق کی ایک ذمہ داری بھی ہے۔ اگر عدم مساوات کا خاتمہ کیا جائے اور خدمات تک مساوی رسائی کو یقینی بنایا جائے تو بین الاقوامی برادری 2030 تک ایڈز کے خاتمے کے اپنے ہدف کو حاصل کر سکتی ہے۔