انسانی کہانیاں عالمی تناظر
سرکس زیمبیا کے اداکار رنگین اسپاٹ لائٹس اور دھوئیں کے اثرات کے ساتھ چمکدار روشنی والے اسٹیج پر متحرک ایکروبیٹک شو میں۔

تہذیبوں کا اتحاد کیا ہے اور اس وقت یہ کیوں اہم ہے؟

Circus Zambia ایک غیر سرکاری تنظیم ’زیمبیا سرکس‘ تہذیبوں کے اتحاد کے دسویں عالمی فورم میں بطور مندوب شریک ہے۔

تہذیبوں کا اتحاد کیا ہے اور اس وقت یہ کیوں اہم ہے؟

ثقافت اور تعلیم

غزہ، لبنان، سوڈان، یوکرین اور دیگر جگہوں پر جنگیں ہو رہی ہیں، دنیا کے متعدد حصوں میں بھوک اور قحط پھیل رہا ہے جبکہ آن لائن و آف لائن نفرت، یہود مخالفت اور اسلامو فوبیا میں خطرناک اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

ان حالات میں اقوام متحدہ کے قائم کردہ تہذیبوں کے اتحاد کا سہ روزہ 10واں عالمی فورم آج پرتگال میں شروع ہو گیا ہے جس کا مقصد منقسم معاشروں کو آپس میں جوڑنا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ تہذیبوں کا اتحاد ہے کیا اور اس کے عالمی فورم کی ان دنوں کیا اہمیت ہے؟

اس بارے میں درج باتوں سے آگاہی ضروری ہے۔

انسانیت کے لیے اتحاد

'گوناں گوں ثقافتیں اور ایک انسانیت' تہذیبوں کے اتحاد کا دیرینہ نعرہ ہے۔ اس بنیاد پر یہ اتحاد 2005 میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان نے قائم کیا تھا تاکہ دنیا میں ثقافتی تنوع، مذہبی تکثیریت اور باہمی احترام کو فروغ دیا جا سکے۔

تقریباً دو دہائیوں تک اس اتحاد نے یہ مقصد حاصل کرنے کی کوششوں میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اسے اسرائیلی اور فلسطینی موسیقاروں کے ایک گروہ کا تعاون بھی حاصل رہا ہے جنہوں نے پناہ گزینوں کو درپیش نفرت کا خاتمہ کرنے کے لیے سمپوزیم منعقد کرنے اور دنیا بھر میں بین المذاہب مکالموں میں شرکت سمیت متعدد سرگرمیوں کے ذریعے اتحاد کے مقصد کی تکمیل میں مدد دی ہے۔ یہ اتحاد اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر تقسیم کو پاٹنے، رکاوٹیں دور کرنے اور مقامی و عالمی سطح پر سفارت کاری میں مدد دیتا ہے تاکہ دنیا کے مستقبل کو مزید پرامن اور مشمولہ بنایا جا سکے۔

درحقیقت اقوام متحدہ کی گزشتہ جنرل اسمبلی کے موقع پر منعقدہ کانفرنس برائے مستقبل میں طے پانے والے مستقبل کے معاہدے میں بھی انہی اقدار کا تذکرہ ہے اور پائیدار ترقی کے لیے 2030 کے ایجنڈے اور اس کے 17 اہداف بھی اسی کا احاطہ کرتے ہیں۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش کا کہنا ہے کہ یہ اتحاد کوئی رسمی اقدام نہیں بلکہ دنیا میں امن، سلامتی اور پائیدار ترقی کو فروغ دینے میں اس کی بنیادی اہمیت ہے۔

اتحاد کے بارے میں یہاں مزید پڑھیں اور ویڈیو دیکھ کر جانیں کہ یہ کیسے کام کرتا ہے۔

مصنوعی ذہانت سے کھیل تک

اقوام متحدہ کے زیراہتمام تہذیبوں کا اتحاد ایسے عالمی پروگرام منعقد کراتا ہے جن میں گزشتہ برسوں کے دوران 130 سے زیادہ ممالک کے ہزاروں مندوبین نے دنیا کو درپیش نئے مسائل پر بات چیت کر کے اور ان کے حل پر اتفاق رائے کیا ہے۔ اس میں شرکت کرنے والے سول سوسائٹی اور حکومتوں کے نمائندے باہمی مشترکہ اقدار کا اظہار کرتے ہوئے مشکل حالات میں امید کی کرن دکھاتے ہیں۔

اتحاد کا 10واں عالمی فورم پرتگال کے شہر کیسکس میں شروع ہو چکا ہے جس کا بنیادی موضوع 'امن: اعتماد کی بحالی مستقبل کی تشکیل نو' ہے۔ اس موقع پر دنیا بھر سے آئے مندوبین مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے لے کر کھیلوں تک بہت سے معاملات پر تازہ ترین مسائل سے نمٹنے کے لیے بات چیت کریں گے اور یہ جائز ہ لیں گے کہ امن کے محرکات سے بہترین طور پر کیسے کام لیا جا سکتا ہے۔

عالمی فورم کا مکمل پروگرام یہاں دیکھیے۔

اس موقع پر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش سفیروں اور سول سوسائٹی و نجی شعبے کے نمائندوں سے ملیں گے جو دور حاضر کے بڑے مسائل کا اختراعی حل تلاش کرنے کے لیے متنوع موضوعات پر گروہی مباحث کا انعقاد کر کے اپنے تجربات کا تبادلہ کریں گے۔ یہ مندوبین پائیدار ترقی کے لیے بین نسلی طریقوں، امن کے لیے مذہبی ثالثی اور نفرت پر قابو پانے کے لیے بھی بات چیت کریں گے۔ فورم کے دوسرے روز یہ مندوبین متوقع طور پر کیسکس اعلامیے کی منظوری دیں گے جو مستقبل کے اقدامات کا عہد ہو گا۔

یو این ویب ٹی وی پر عالمی فورم کی کارروائی ملاحظہ کیجیے۔ 26 نومبر کو صبح 10 بجے (GMT)  افتتاحی تقریب یہاں دیکھی جا سکتی ہے۔

نئی نسل کیا کہتی ہے؟

عالمی فورم کے پہلے روز یوتھ فورم کا انعقاد کیا جا رہا ہے جس میں دنیا بھر کے نوجوان بہت سے اجلاس اور پروگرام کریں گے۔ گزشتہ برس یوتھ فورم میں 1,000 افراد نے شرکت کی تھی۔ امسال اس میں نوجوانوں کا ایک 'ٹینٹ۔ٹیسٹک' اجتماع بھی شامل ہے جس میں فورم کے مقاصد کے حوالے سے دن بھر مختلف سرگرمیاں ہوں گی۔

نئی نسل کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے مہاجرت، تنوع اور سماجی شمولیت پر 'پلورل پلس یوتھ ویڈیو فیسٹیول' بھی فورم کا حصہ ہے۔ سوموار کی شام ہونے والی اس تقریب میں نوجوان ہدایت کاروں کے کام کا اعتراف کیا جانا ہے۔ تہذیبوں کے اتحاد اور عالمی ادارہ مہاجرت (آئی او ایم) کے اس مشترکہ اقدام میں دنیا بھر سے نوجوانوں کے نمائندے ان تینوں موضوعات پر بنائی اپنی نئی اور تخلیقی ویڈیو پیش کریں گے۔

عدم رواداری اور ثقافتی و مذہبی تقسیم سے عبارت موجودہ دنیا میں یہ پروگرام اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ نوجوان مثبت سماجی تبدیلی لانے کی قوت رکھتے ہیں۔ علاوہ ازیں اس پروگرام کے ذریعے نوجوانوں کے تیار کردہ میڈیا کو پھیلانے کا کام بھی لیا جاتا ہے۔ امسال اس میں افغانستان اور اسرائیل سے لے کر روس اور یمن تک 21 ممالک سے 32 مختصر فلمیں منتخب کی گئی ہیں۔

27 نومبر کو شام 7 بجے منتخب ویڈیو فلموں کا اعلان یہاں براہ راست دیکھیے۔

دو نوجوان خواتین ہیڈ اسکارف میں، ایک کے پاس کیمرہ ہے، چاک بورڈ کے سامنے کھڑی ہے۔
© PLURAL+ Youth Video Festival دنیا بھر سے نوجوان فلم ساز فورم میں شرکت کے لیے اکٹھے ہو رہے ہیں۔

نئی بین الثقافتی اختراعات

سماجی تبدیلی کے لیے سماجی سرکس۔ بچوں کے ذریعے بچوں کے لیے دوستانہ شہروں کی منصوبہ بندی۔ فٹ بال برائے امن۔

یہ سرگرمیاں دنیا بھر میں نچلی سطح پر کام کرنے والے گروہوں نے ترتیب دی ہیں جنہوں نے بین الثقافتی اختراعی مرکز میں شرکت کی ہے۔ ایسی 1,800 سے زیادہ سرگرمیاں فورم کے لیے پیش کی گئی تھیں جن میں سے چند کا انتخاب عمل میں آیا۔ فورم کے دوسرے روز منعقد ہونے والی ایک تقریب میں آسٹریا، بوٹسوانا، کینیڈا، انڈیا، انڈونیشیا، کینیا، نائجیریا، پیرو، امریکہ اور زیمبیا سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کے گروہوں کی جانب سے پیش کردہ اور ایسی منتخب سرگرمیوں کے بارے میں بتایا جائے گا۔

تہذیبوں کے اتحاد اور نجی شعبے سے تعلق رکھنے والے بی ایم ڈبلیو گروپ کی معاونت اور ٹیکنالوجی کمپنی ایکسنچر کی مدد سے اس مرکز نے تنوع اور شمولیت کو مضبوط کرنے، صنفی مساوات کے فروغ اور فنون لطیفہ، ثقافت اور کھیلوں کو سماجی تبدیلی کے لیے کام میں لانے کے مقصد سے بنائے جانے والے ان تخلیقی منصوبوں کا جائزہ لیا ہے۔

26 نومبر کو شام 5:45 بجے (GMT) شروع ہونے والی اس تقریب کو یہاں براہ راست دیکھیے۔