موسمیاتی بحران سے نمٹنے کے مالیاتی معاہدہ میں تاخیر کی گنجائش نہیں، گوتیرش
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے 'کاپ 29' میں شریک عالمی مذاکرات کاروں پر زور دیا ہے کہ وہ موسمیاتی اقدامات کے لیے بڑے پیمانے پر مالی وسائل کی فراہمی کا معاہدہ جلد از جلد طے کریں اور اس معاملے میں ناکامی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں جاری اقوام متحدہ کی سالانہ موسمیاتی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا ہے کہ ترقی پذیر ممالک کو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات پر قابو پانے میں مدد دینے کے لیے نیا اور پرعزم مالی ہدف طے کرنا ہنگامی ضرورت ہے۔ اس معاملے میں بے عملی کے نتائج تباہ کن ہوں گے۔
کل اس کانفرنس کا آخری روز ہے اور اس وقت تمام ممالک کے نمائندے نئے مالیاتی ہدف پر بات چیت کر رہے ہیں۔ ان وسائل سے ترقی پذیر ممالک میں سیلاب، خشک سالی، جنگلوں کی آگ اور انسانی سرگرمیوں کے نتیجے میں آنے والے دیگر قدرتی حوادث پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔
اس معاہدے کے مسودے کا پہلا متن منگل کی صبح سامنے آیا جس پر حکومتوں کی مذاکراتی ٹیموں اور سول سوسائٹی کے گروہوں کی جانب سے ملا جلا ردعمل دیکھنے کو ملا۔ دو حصوں پر مشتمل اس مسودے میں ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کی جانب سے دی گئی سفارشات شامل ہیں۔ تاہم، اس کے بعض نکات پر تاحال اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس میں مالی وسائل کی مقدار بھی شامل ہے۔
موسمیاتی انصاف
سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ اگرچہ بہت سے معاملات پر اتفاق رائے بھی ہوا ہے لیکن کئی نزاعی امور طے ہونا باقی ہیں۔ فیصلہ کن قدم نہ اٹھایا گیا تو اس کے طویل مدتی منفی اثرات سامنے آئیں گے جن سے موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کی مختصر مدتی کوششیں اور آئندہ برس برازیل میں ہونے والی 'کاپ 30' کی تیاریاں متاثر ہو سکتی ہیں۔
انتونیو گوتیرش نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک کے لیے موسمیاتی وسائل جمع کرنے کی غرض سے جامع مالیاتی پیکیج سے انہیں عالمی حدت میں اضافے کو روکنے کے لیے 1.5 ڈگری سیلیئس کے ہدف کی مطابقت سے منصوبہ بندی میں مدد ملے گی۔ انہوں نے ایسے مالیاتی اقدامات کی اہمیت پر بھی زور دیا جن سے ممالک گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی لاتے ہوئے ماحول دوست اور سستی توانائی کی جانب منتقل ہو سکیں۔
سیکرٹری جنرل نے غیرمحفوظ آبادیوں کو موسمیاتی آفات کے بڑھتے ہوئے اثرات سے تحفظ دینے کے لیے بنیادی ڈھانچے کو مستحکم بنانے کی ضرورت بھی واضح کیا۔ علاوہ ازیں، انہوں نے ممالک کے مابین اعتماد کی بحالی اور پیرس معاہدے کے فریم ورک کے تحت بین الاقوامی تعاون کے ذریعے یکجہتی قائم کرنے کے لیے بھی کہا۔
انتونیو گوتیرش کا کہنا تھا کہ اس معاہدے کی اہمیت محض مذاکرات سے کہیں بڑھ کر ہے۔ اس کاپ نے موسمیاتی تباہی کا سامنا کرنے والے لوگوں کو انصاف فراہم کرنا ہے۔
خیرات نہیں، سرمایہ کاری
انہوں نے کہا کہ موسمیاتی اقدامات کے لیے مہیا کیے جانے والی مالی وسائل خیرات نہیں بلکہ لوگوں کے مستقبل پر اہم سرمایہ کاری کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ کرہ ارض پر ہر ملک کے مستقبل کو مزید خوشحال اور محفوظ بنانے کے لیے کی جانے والی پیشگی ادائیگی ہے۔ کثیرفریقی ترقیاتی بینکوں نے 2030 تک موسمیاتی مقاصد کے لیے مالی وسائل کی مقدار کو 120 ارب ڈالر تک بڑھانے کا وعدہ کیا ہے جبکہ نجی شعبے سے مزید 65 ارب ڈالر اکٹھے کیے جانا ہیں۔ ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر طے پانے والے مستقبل کے معاہدے میں بھی مالی وسائل تک رسائی بڑھانے اور ترقی پذیر بینکوں کی قرضہ دینے کی استعداد میں اضافے کے وعدے کیے گئے ہیں۔
اتحاد کی اپیل
سیکرٹری جنرل نے اس خدشے کا اظہار بھی کیا کہ دنیا میں پائی جانے والی ارضی سیاسی تقسیم سے موسمیاتی تبدیلی کے خلاف پیش رفت متاثر ہو سکتی ہے۔ انہوں نے عالمی رہنماؤں اور مذاکرات کاروں پر زور دیا کہ وہ اپنے موقف میں نرمی لائیں اور باہمی اختلافات کو دور کرتے ہوئے مستقبل اور بڑے مقاصد پر نظر رکھیں۔
انہوں نے تمام فریقین سے اتحاد کا تقاضا کرتے ہوئے کہا کہ اس مسئلے پر قابو نہ پایا گیا تو زمین آنے والی نسلوں کے لیے رہنے کے قابل نہیں رہے گی۔
اپنی بات کا اختتام کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وقت کم، ضرورت ہنگامی اور صلہ بہت بڑا ہے۔ کاپ کے شرکا کو ناصرف مذاکرات میں شریک لوگوں بلکہ تمام انسانیت کی خاطر فیصلہ کن قدم اٹھانا ہو گا۔