جی 20 ممالک کا تحفظ ماحول کے وسائل اربوں سے کھربوں ڈالر کرنے کا عندیہ
موسمیاتی اقدامات کے لیے اعلیٰ سطحی سفارتی کوششوں کا رخ منگل کو برازیل میں جی 20 رہنماؤں کی کانفرنس کی جانب منتقل ہوا جہاں سے آذربائیجان میں 'کاپ 29' کے مذاکرات کاروں کو واضح پیغام گیا ہے کہ موسمیاتی وسائل کا حجم فوری طور پر اربوں سے کھربوں ڈالر تک بڑھانا ہو گا۔
دنیا کی بڑی معیشتوں اور گرین ہاؤس گیسیں خارج کرنے والے بڑے ممالک کی جانب سے اس ضمن میں جاری کردہ بیان میں 'معدنی ایندھن کا استعمال ترک کرنے' کی کوئی واضح بات نہیں کی گئی جس پر گزشتہ سال 'کاپ 28' میں اتفاق ہوا تھا۔ تاہم، جی 20 رہنماؤں نے اس بات چیت کے حوالے سے متوازن اور پرعزم نتائج کا خیرمقدم کیا۔
جی 20 کا اعلامیہ ایسے موقع پر آیا ہے جب 'کاپ 29' اپنے اختتامی مراحل کی جانب بڑھ رہی ہے اور جمعے کو ختم ہو جائے گی۔ کانفرنس میں ترقی پذیر ممالک کو موسمیاتی تبدیلی سے ہونے والے نقصان اور تباہی کا ازالہ کرنے کے لیے نئے اور مزید مالی وسائل کی فراہمی اور ماحول دوست توانائی کی جانب تیز رفتار منتقلی کے اہداف پر پیچیدہ گفت و شنید سست روی کا شکار ہے۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ بعض ممالک اپنے موقف پر اڑے ہیں اور دوسروں کے موقف میں نرمی کے منتظر ہیں۔
اس سے قبل اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے جی 20 رہنماؤں پر زور دیا تھا کہ وہ 'کاپ 29' میں شریک اپنے وزرا اور مذاکرات کاروں کو موسمیاتی اقدامات کے حوالے سے جلد از جلد ایک نیا اور پرعزم مالیاتی ہدف طے کرنے کو کہیں۔
حدت میں خطرناک اضافہ
برازیل کے شہر ریو ڈی جنیرو میں جی 20 ممالک کی کانفرنس میں پائیدار ترقی اور قابل تجدید توانائی کی جانب منتقلی کے موضوع پر اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ گمبھیر صورت اختیار کر گیا ہے۔ عالمی حدت میں اضافے کو 1.5 ڈگری سیلسیئس کی حدود میں رکھے بغیر بڑھتی ہوئی قدرتی آفات کو روکا نہیں جا سکتا جو ہر معیشت کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔
تاہم، انہوں نے کہا کہ موجودہ پالیسیاں دنیا کو ایسی سمت میں لے جا رہی ہیں جہاں عالمی حدت میں اضافہ قبل از صنعتی دور کے مقابلے میں تین ڈگری سیلیئس سے بھی تجاوز کر جائے گا۔ اسی لیے رواں دہائی میں ہر سال گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں نو فیصد تک کمی لانا ضروری ہے لیکن بدقسمتی سے ان گیسوں کا اخراج بدستور جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ 80 فیصد گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج دنیا کی بڑی معیشتوں سے ہوتا ہے اور اسے روکنے کی بڑی ذمہ داری بھی انہی ممالک کی ہے۔
معدنی ایندھن کا مسئلہ
سیکرٹری جنرل نے کہا کہ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج پر قابو پانے کے لیے معدنی ایندھن کا استعمال ختم کر کے قابل تجدید توانائی کی جانب مراجعت کرنا ہو گی جو اب ہر جگہ نئی بجلی کا سستا ترین ذریعہ بن چکی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اس معاملے میں تاخیر اور ناانصافی کی کوئی گنجائش نہیں۔ اس تبدیلی سے متاثر ہونے والے کارکنوں اور لوگوں کو مدد دی جانی چاہیے اور معیشتوں کو متنوع بنانے کی ضرورت ہے تاکہ نوکریاں کھلیں اور خوشحالی آئے۔ دنیا کو اس جانب درست سمت میں رکھنے کے لیے ہر ملک کو آئندہ برس ٹھوس قومی موسمیاتی منصوبے پیش کرنا ہوں گے۔
گزشتہ ہفتے برازیل اور برطانیہ نے موسمیاتی اقدامات کے حوالے سے اپنے نئے منصوبے پیش کیے جو کہ اچھا آغاز ہے ہر ملک کو 1.5 ڈگری کا ہدف مدنظر رکھتے ہوئے 2030 اور 2035 کے لیے گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی کے حوالے سے غیرمبہم اہداف مقرر کرنا ہوں گے۔ اس ضمن میں معیشت کے تمام شعبوں سے ہر طرح کی گرین ہاؤس گیس کے اخراج پر قابو پانے کی ضرورت ہے۔
'ناکامی کی گنجائش نہیں'
دنیا کو 'کاپ 28' میں طے پانے والے اہداف کی مطابقت سے 2030 تک قابل تجدید توانائی کی استعداد میں تین گنا اضافہ کرنا، توانائی کی صلاحیت کو دو گنا بڑھانا اور جنگلات میں کمی کو روکنا ہے۔ اس کے ساتھ معدنی ایندھن کی پیداوار اور استعمال میں بھی 1.5 ڈگری کے ہدف کو مدنظر رکھتےہوئے کمی لانا ہو گی۔
سیکرٹری جنرل نے کہا کہ یہ تمام مقاصد مشترکہ مگر مختلف النوع ذمہ داریوں کے اصول کی مطابقت سے حاصل کرنا ہوں گے۔ اس کے لیے ترقی یافتہ ممالک کا ابھرتی ہوئی اور نئی معیشتوں کو مدد دینا ضروری ہے۔
انہوں نے جی 20 رہنماؤں سے کہا کہ وہ 'کاپ 29' میں شریک اپنے وزرا اور مذاکرات کاروں کو موسمیاتی اقدامات کے حوالے سے جلد از جلد ایک نیا اور پرعزم مالیاتی ہدف طے کرنے کو کہیں۔ اس معاملے میں ناکامی کی کوئی گنجائش نہیں ہے کیونکہ اس طرح نئے قومی موسمیاتی منصوبوں کی تیاری کے لیے ممالک کا عزم متاثر ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ برازیل میں آئندہ برس ہونے والی 'کاپ 30' کی کامیابی کے لیے باکو میں 'کاپ 29' کی کامیابی ضروری ہے اور اس کا بڑی حد تک دارومدار جی 20 ممالک پر ہے اور انہیں اس مقصد کے لیے ذمہ داری کا احساس پیدا کرنا ہو گا۔
موسمیاتی امور پر اطلاعاتی دیانت
انہوں نے موسمیاتی مسئلے پر غلط اطلاعات کے پھیلاؤ کو نقصان دہ قرار دیتے ہوئے اس پر قابو پانے کی ضرورت بھی واضح کی۔
سیکرٹری جنرل نے برازیل کے صدر لولا کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ برازیل اور اپنے تعلیم، سائنسی و ثقافتی ادارے (یونیسکو)کے اشتراک سے موسمیاتی تبدیلی پر اطلاعاتی دیانت کا عالمگیر پروگرام شروع کر رہا ہے۔
اس ضمن میں محققین اور شراکت داروں کے ساتھ کام کرتے ہوئے موسمیاتی مسئلے پر غلط اطلاعات کا تدارک کرنے کے اقدامات کیے جائیں گے۔