انسانی کہانیاں عالمی تناظر

کاپ 29: ماحولیاتی انصاف کی خاطر امیر ملکوں سے مالیاتی اصلاحات کا مطالبہ

کاپ 29 کے سربراہ مختار بابائیو اور یو این ایف سی سی سی کے ایگزیکٹو سیکرٹری سائمن سٹیئل (بائیں طرف سے بالترتیب پہلے اور دوسرے) کانفرنس کے ایک سیشن میں موجود ہیں۔
UNFCCC/Kiara Worth
کاپ 29 کے سربراہ مختار بابائیو اور یو این ایف سی سی سی کے ایگزیکٹو سیکرٹری سائمن سٹیئل (بائیں طرف سے بالترتیب پہلے اور دوسرے) کانفرنس کے ایک سیشن میں موجود ہیں۔

کاپ 29: ماحولیاتی انصاف کی خاطر امیر ملکوں سے مالیاتی اصلاحات کا مطالبہ

موسم اور ماحول

برازیل میں جی 20 ممالک کے رہنماؤں نے کاپ 29 میں شریک مذاکرات کاروں کو واضح پیغام دیا ہے کہ وہ موسمیاتی اقدامات کے لیے نیا مالیاتی ہدف طے کیے بغیر واپس نہ آئیں۔

موسمیاتی تبدیلی پر اقوام متحدہ کے فریم ورک کنونشن (یو این ایف سی سی سی) کے ایگزیکٹو سیکرٹری سائمن سٹیئل نے کہا ہے کہ جی 20 رہنماؤں کے عزائم حوصلہ افزا ہیں اور 'کاپ 29' کی کامیابی سے پوری دنیا کو فائدہ ہو گا۔

Tweet URL

کاپ 29 (اقوام متحدہ کی عالمی موسمیاتی کانفرنس) آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں جاری ہے جہاں دنیا بھر کے نمائندے دیگر اقدامات کے علاوہ ترقی پذیر ممالک کو موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے مالی وسائل کی فراہمی کا نیا اور بڑا ہدف طے کرنے کے لیے بات چیت میں مصروف ہیں۔ اگرچہ حالیہ دنوں اس معاملے میں پیش رفت قدرے سست رہی ہے لیکن اس سمت میں کام جاری ہے اور یہ معاملہ برازیل کے شہر ریو ڈی جنیرو میں جی 20 کانفرنس کے موقع پر بھی زیربحث رہا۔

فوری اور فیصلہ کن اقدامات

سائمن سٹیئل نے کہا ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی معیشتوں کے رہنماؤں نے عالمی مالیاتی اداروں اور نظام میں اصلاحات لانے کا عزم بھی کیا ہے تاکہ تمام ممالک مضبوط موسمیاتی اقدامات کے قابل ہو سکیں۔ قرضوں کے بحران، موسمیاتی تباہی کے خطرے، سپلائی چین میں خلل اور شدید مہنگائی جیسے مسائل کا سامنا کرنے والی دنیا کو ان ممالک کی جانب سے ایسے ہی اشارے کی ضرورت تھی۔

انہوں نے جی 20 ممالک کے مندوبین سے کہا کہ وہ کاپ میں فیصلہ کن اقدامات کریں۔ اب انہیں اپنے رہنماؤں کی جانب سے آگے بڑھنے کا حکم مل چکا ہے لہٰذا سبھی کو تمام مسائل پر اتفاق رائے کے لیے تیزرفتار پیش رفت کرنا ہو گی۔

کاپ میں شریک موسمیاتی کارکن ہرجیت سنگھ نے یو این نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ترقی یافتہ ممالک نے تاحال اس سمت میں کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا اور وہ موسمیاتی انصاف کے لیے درکار کئی ٹریلین ڈالر کی فراہمی میں ناکام ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ان ممالک کی اب تک پیش رفت باتوں تک ہی محدود رہی ہے اور کاپ میں مالیاتی وسائل کے نئے ہدف پر بات چیت ڈیڈلاک کا شکار ہے۔

یومِ خوراک، زراعت و پانی

'کاپ 29' میں آج کا دن 'خوراک، پائیدار زراعت اور پانی' سے متعلق امور پر بات چیت کے لیے مخصوص تھا۔ اس دوران دنیا بھر سے آئے مندوبین نے خوراک کی پیداوار کے مستحکم طریقوں اور زرعی مسائل پر بات چیت کی۔

اس موقع پر اقوام متحدہ کے ادارہ خوراک و زراعت (ایف اے او) کے ایک نئے تجزیے یں بتایا گیا کہ تقریباً تمام ممالک نے موسمیاتی تبدیلی کے خلاف اپنے قومی منصوبوں میں زرعی غذائی نظام کے تحفظ کو ترجیح بنایا ہے۔ اس ضمن میں موسمیاتی مسائل سے مطابقت پیدا کرنے کے معاملے میں 94 فیصد ممالک نے اس شعبے کو ترجیح دی ہے جبکہ 91 فیصد ممالک نے اس تبدیلی کے اثرات کو محدود رکھنے کے منصوبوں میں زرعی غذائی تحفظ کو اپنی ترجیح قرار دیا ہے۔

کاپ میں اس دن کا آغاز کرتے ہوئے 'ایف اے او' کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر جنرل وایورل گوٹو نے کہا کہ 730 ملین لوگ بھوک کا شکار ہیں جبکہ موسمیاتی تبدیلی غذائی عدم تحفظ کا ایک نمایاں محرک ہے۔ غذائی تحفظ اور موسمیاتی تبدیلی، حیاتیاتی تنوع کے نقصان، ارضی انحطاط اور پانی کی کمیابی جیسے متعدد مسائل کو حل کرنے کے لیے زرعی غذائی نظام کو تحفظ دینے کی خاص اہمیت ہے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ مالی وسائل اور سرمایہ کاری اس نظام میں درکار تبدیلی لانے کے لیے کافی نہیں ہیں۔ گزشتہ دو دہائیوں میں موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے فراہم کردہ تمام مالی وسائل میں زرعی غذائی نظام کا حصہ 37 فیصد سے کم ہو کر 23 فیصد پر آ گیا ہے۔ اگرچہ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں زرعی شعبے کا بھی حصہ ہے، تاہم درست سمت میں اقدامات کر کے اس شعبے کو یہ بحران ختم کرنے میں مددگار بنایا جا سکتا ہے۔

صنعت کاری اور اس سے نکلنے والی مضر ماحول گیسیں مویشی بانی کو بھی متاثر کر رہی ہیں۔
World Bank/John Hogg

پائیدار مویشی بانی کی ضرورت

یو این ویمن میں معیشت اور معاشی اختیار سے متعلق شعبوں کی سربراہ جمائما نجوکی نے یو این نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے تمام حکومتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ خواتین کسانوں کو خصوصی مدد فراہم کریں۔

انہوں نے کہا کہ خواتین کے بغیر دنیا کی غذائی ضروریات پوری نہیں ہو سکتیں۔ تاہم فی الوقت خواتین کے لیے زمین کی ملکیت کا حصول اور اسے کاشت کرنا مردوں جتنا آسان نہیں ہے۔ علاوہ ازیں، ان کے لیے اپنے کاروبار کو ترقی دینے کی غرض سے قرضے لینا بھی بہت مشکل ہوتا ہے۔ ایسے حالات سے خواتین ہی نہیں بلکہ قدیمی مقامی لوگوں سمیت دیگر کمزور گروہ بھی متاثر ہو رہے ہیں۔

دیہی علاقوں میں سماجی و صنفی انصاف کے لیے کام کرنے والے بین الاقوامی غیرسرکاری ادارے گلوبل فاریسٹ کولیشن کی عہدیدار آندریا ایچیویری نے کہا کہ موجودہ زرعی طریقہ ہائے کار ماحول کے لیے تباہ کن ہیں۔ اس کی مثال دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ مویشیوں کو چراگاہوں کی ضرورت ہوتی ہے جو بڑھ رہی ہے اور اسے پورا کرنے کے لیے جنگلات کاٹے جا رہے ہیں اور قدیمی مقامی باشندوں کو ان کے علاقوں سے بیدخل کیا جا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومتیں پائیدار مویشی بانی پر توجہ نہیں دے رہیں حالانکہ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں 16 فیصد حصہ اسی شعبے کا ہے اور 15 فیصد معدنی ایندھن بھی اسی شعبے میں استعمال ہوتا ہے۔

پاکستان میں آبپاشی کے ناقص انتظام کے باعث بڑی مقدار میں ضائع ہونے والے پانی کو سمارٹ فارمنگ کے ذریعے بچایا جا سکتا ہے۔
Shoaib Tariq

آبی ذرائع کا ذمہ دارانہ انتظام

کاپ میں بات کرتے ہوئے یو این واٹر کنونشن  کی سیکرٹری سونجا کوپل نے کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے تناظر میں پانی کے مسائل پہلی مرتبہ 'کاپ 27' میں زیربحث آئے تھے۔ آج بہت سے ممالک کو سیلاب، خشک سالی، پانی کے ذخائر میں کمی اور سطح سمندر میں اضافے جیسے مسائل درپیش ہیں جن کے نتیجے میں نقل مکانی بڑھ رہی ہے اور غذائی تحفظ کمزور پڑتا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ 153 ممالک پانی کے مشترکہ ذرائع سے استفادہ کرتے ہیں لیکن ان میں 28 فیصد ہی ایسے ہیں جنہوں نے اپنے ہمسایوں کے ساتھ ان ذرائع کے انتظام پر تعاون کے معاہدے کر رکھے ہیں۔

انہوں نے تمام ممالک پر زور دیا کہ وہ آبی ذرائع کے استعمال کی بنیاد پر اپنے ہمسایوں کے ساتھ امن قائم کریں اور مشترکہ قدرتی ذرائع کا موثر انتظام یقینی بنائیں۔